قومی زبان

صحرا کی طرح شہر وفا ہے کہ نہیں ہے

صحرا کی طرح شہر وفا ہے کہ نہیں ہے ہر صاحب دل آبلہ پا ہے کہ نہیں ہے پہچانتے ہیں لوگ ترے نام سے مجھ کو اب تیرا پتا میرا پتا ہے کہ نہیں ہے تسکین کے لمحات کو ترسی ہوئی دنیا حالات سے ہر چند خفا ہے کہ نہیں ہے ناموس وطن لوٹنے والوں کے لئے بھی یا رب کوئی آئین سزا ہے کہ نہیں ہے اس زلف کے ...

مزید پڑھیے

محبوب نظر آپ کے چہرے کی ضیا ہے

محبوب نظر آپ کے چہرے کی ضیا ہے مطلوب جبیں آپ کا نقش کف پا ہے ہم نے ترے جلوے کا جسے عکس کہا ہے لوگوں نے اسے پھول کا عنوان دیا ہے ہنستے ہوئے تاروں کا گلا گھونٹ دیا ہے سورج کی شعاعوں نے بڑا ظلم کیا ہے مرتا ہے تو مر جائے کوئی میری بلا سے مجھ کو مرے ماحول نے یہ درس دیا ہے آنکھوں میں ...

مزید پڑھیے

دل ہی ادا کرے تو کرے دل کے واجبات

دل ہی ادا کرے تو کرے دل کے واجبات آنکھوں سے طے نہ ہوں گے دلوں کے معاملات محرومیوں نے دل کی تمنائیں چھین لیں بچوں نے کرنے چھوڑ دئے ہیں مطالبات گو زندگی گزار رہے ہیں سبھی مگر حاصل کسی کسی کو ہیں اس کے لوازمات لوگوں نے اپنی ذات سے منسوب کر لئے میں نے رقم کئے تھے فقط اپنے ...

مزید پڑھیے

کیا کیا نہ سامنے سے زمانے گزر گئے

کیا کیا نہ سامنے سے زمانے گزر گئے اک غم ہمارے ساتھ رہا ہم جدھر گئے آ جا کہ اب تو تاب شکیبائی بھی نہیں اے دوست تجھ کو دیکھے زمانے گزر گئے کن حادثوں کے درمیاں جینا پڑا مجھے دیکھے تھے جتنے خواب سہانے بکھر گئے ہم سے تو تیرا غم بھی چھپایا نہ جا سکا لب سی لئے تو پلکوں پہ آنسو ٹھہر ...

مزید پڑھیے

نئی دنیا مجسم دل کشی معلوم ہوتی ہے

نئی دنیا مجسم دل کشی معلوم ہوتی ہے مگر اس حسن میں دل کی کمی معلوم ہوتی ہے حجابوں میں نسیم زندگی معلوم ہوتی ہے کسی دامن کی ہلکی تھرتھری معلوم ہوتی ہے مری راتوں کی خنکی ہے ترے گیسوئے پر خم میں یہ بڑھتی چھاؤں بھی کتنی گھنی معلوم ہوتی ہے وہ اچھا تھا جو بیڑا موج کے رحم و کرم پر ...

مزید پڑھیے

بانٹ کر ہم نے ذوق بینائی

بانٹ کر ہم نے ذوق بینائی روشنی شہر شہر پھیلائی تھم گئے اشک چھپ گئے تارے ہو گئی چاند کی پذیرائی تجھ سے ملنے ضرور آؤں گا کوئی صورت اگر نظر آئی اور کچھ دیر ساتھ رہنا تھا اے مری جرأت شکیبائی تیرے آنے کا شکریہ لیکن مجھ کو راس آ گئی ہے تنہائی ایک ہی قدر مشترک ہے بہت تو بھی ہرجائی ...

مزید پڑھیے

یاد کا روگ مت لگا پیارے

یاد کا روگ مت لگا پیارے عہد ماضی کو بھول جا پیارے جی بہلتا نہیں تصور سے تو کبھی سامنے بھی آ پیارے نام کے رہ گئے ہیں دنیا میں دوست احباب اقربا پیارے یہ بھی اک طرز غم گساری ہے تو مرا حوصلہ بڑھا پیارے شیشۂ دل کو توڑنے والے تو نے اچھا نہیں کیا پیارے جذبۂ شوق مر نہ جائے ...

مزید پڑھیے

بلوائیوں کا جس پہ یہاں کچھ اثر نہ تھا

بلوائیوں کا جس پہ یہاں کچھ اثر نہ تھا وہ گھر امیر شہر کا تھا میرا گھر نہ تھا تہذیب و علم و فن کی ترقی کی راہ میں میرے علاوہ اور کوئی راہبر نہ تھا میں بھی کہیں کہیں رہا رعنائیوں سے دور تو بھی کہیں کہیں پہ شریک سفر نہ تھا تازہ خبر میں ہم نے پڑھا ہے یہ دوستو بارش تھی پتھروں کی مگر ...

مزید پڑھیے

ساری باتیں خواب کی تعبیر سے ملتی تو ہیں

ساری باتیں خواب کی تعبیر سے ملتی تو ہیں میری تحریریں تری تصویر سے ملتی تو ہیں وہ سحر کی دل کشی ہو یا شفق کی سرخیاں کچھ نہ کچھ یہ آپ کی تصویر سے ملتی تو ہیں اہل ثروت آج بھی لرزاں ہیں جن کے نام سے مشکلیں وہ سب ہمیں تقدیر سے ملتی تو ہیں یہ حقیقت ہے عیاں تاریخ کے اوراق سے زندگی کی ...

مزید پڑھیے

جو ہر قدم پہ اندھیروں سے لڑنے والے ہیں

جو ہر قدم پہ اندھیروں سے لڑنے والے ہیں ہمارے ساتھ محبت کے وہ اجالے ہیں وہ جانتے ہیں جو تاریخ پڑھنے والے ہیں ہمیں نے گردش دوراں کے بل نکالے ہیں بنائے پھرتے ہیں ہم خود کو خوش لباس مگر ہمارے گھر میں ابھی مکڑیوں کے جالے ہیں خلوص و ربط و محبت جنہیں میسر ہے وہ لوگ کون سی دنیا کے رہنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2086 سے 6203