قومی زبان

یاد آتی رہی بھلا نہ سکے

یاد آتی رہی بھلا نہ سکے شمع جلتی رہی بجھا نہ سکے چاند تارے گل و چمن مل کر دل کی اک داستاں سنا نہ سکے آس باندھی تھی جن ستاروں سے دیر تک وہ بھی جگمگا نہ سکے نغمہ کیا مطربان عہد جدید تار ٹوٹے ہوئے ملا نہ سکے آج وہ رہبر خلائق ہیں خود کو جو آدمی بنا نہ سکے پنجۂ گل سے بھی یہ ...

مزید پڑھیے

دیا ساقی نے اول روز وہ پیمانہ مستی میں

دیا ساقی نے اول روز وہ پیمانہ مستی میں کہ میں نا آشنا پی کر ہوا دیوانہ مستی میں شراب آتشیں وہ ہے کہ دو اک گھونٹ پیتے ہی جو ساقی ہو تو آتا ہے نظر پیمانہ مستی میں نظر آتا ہے مجھ کو بوریا بھی تخت طاؤسی گدا رکھتا ہے گویا شوکت شاہانہ مستی میں کوئی کہتا ہے مسجد ہے کوئی کہتا ہے باہر ...

مزید پڑھیے

بھلا کب دیکھ سکتا ہوں کہ غم ناکام ہو جائے

بھلا کب دیکھ سکتا ہوں کہ غم ناکام ہو جائے جو آرام دل و جاں ہے وہ بے آرام ہو جائے محبت کیا اگر یوں صورت الزام ہو جائے نظر ناکام اور ذوق نظر بدنام ہو جائے قیامت ہے اگر یوں زندگی ناکام ہو جائے وہ پہلو میں نہ ہوں اور گرمیوں کی شام ہو جائے غم دل ہے مگر آخر غم دل کیا کہے کوئی فسانہ ...

مزید پڑھیے

ٹھکرائے ہوئے دل کی یاد آئی تو کیا آئی

ٹھکرائے ہوئے دل کی یاد آئی تو کیا آئی پھینکا ہوا شیشہ تھا ٹوٹا تو صدا آئی دن ذوق نوازش سے بیگانہ سہی لیکن جلوہ ہے نہ شعلہ ہے رات آئی تو کیا آئی عشرت گہ باطل کی رونق میں کمی کیا ہے گر باد صبا جا کر اک شمع بجھا آئی بڑھتی ہوئی بیتابی کچھ روٹھ گئی شاید جھٹکے ہوئے دامن سے ہاتھوں کو ...

مزید پڑھیے

دھڑکنیں دل کی گنے خوں میں روانی مانگے

دھڑکنیں دل کی گنے خوں میں روانی مانگے زندگی عشق کی اے دوست جوانی مانگے پیش کر داغ اگر دل پہ کوئی کھایا ہو عشق ہر عاشق صادق سے نشانی مانگے زلف شب گوں ترے شانے پہ کھلی ناگن ہے ڈس لے یہ جس کو نہ پھر اٹھ کے وہ پانی مانگے آدمی عہد جوانی میں رہا منکر غم اب غم دل کی خبر ہے تو جوانی ...

مزید پڑھیے

ہاتھ سے دنیا نکلتی جائے گی

ہاتھ سے دنیا نکلتی جائے گی اور دنیا ہاتھ ملتی جائے گی حسن کی رنگت بدلتی جائے گی یہ شب مہتاب ڈھلتی جائے گی منقلب ہوتی رہیں گی فطرتیں زندگی کروٹ بدلتی جائے گی ختم ہو سکتی نہیں سیر حیات زندگی رک رک کے چلتی جائے گی نوجوانی آرزوئیں سب لیے گرتی جائے گی سنبھلتی جائے گی عشق غافل ...

مزید پڑھیے

سونے سونے دار و رسن بتلاتے ہیں

سونے سونے دار و رسن بتلاتے ہیں سچ کہنے سے لوگ بہت کتراتے ہیں آنسو بن جاتے ہیں غم کہلاتے ہیں وہ جذبے جو دل ہی میں مر جاتے ہیں یہ ہے بات جدا وہ ہم سے کہہ نہ سکے ورنہ خواب تو گونگے کو بھی آتے ہیں جس کی جانب آنکھ اٹھانا مشکل ہو ہم اس سچائی پر قلم اٹھاتے ہیں ہر فرمائش آئندہ پر ٹالتا ...

مزید پڑھیے

بھیڑ ہے لوگوں کی ہر سو آشنا کوئی نہیں

بھیڑ ہے لوگوں کی ہر سو آشنا کوئی نہیں میں کسے آواز دوں پہچانتا کوئی نہیں ان گنت پتے گرے پیڑوں سے اشکوں کی طرح اب کی رت میں حادثوں کی انتہا کوئی نہیں میرے دل میں چاند روشن میری پلکوں پر نجوم میں زمیں پر آسماں ہوں جانتا کوئی نہیں آپ کے نقش قدم بھی اب نہیں منزل نما لوٹ جانے کا بھی ...

مزید پڑھیے

گئے دنوں کے دریچے سجانے لگتے ہیں

گئے دنوں کے دریچے سجانے لگتے ہیں ہم اپنے حال کو ماضی بنانے لگتے ہیں خلوص و مہر و محبت کی قدر ختم ہوئی حیات نو میں یہ سکے پرانے لگتے ہیں وہ کون ہے جو انہیں کھیلنے نہیں دیتا وہ کم سنی میں جو روزی کمانے لگتے ہیں میں تیری زلف کے سائے میں رک تو جاؤں مگر ترے جمال کے شعلے جلانے لگتے ...

مزید پڑھیے

رابطہ ہے ابھی ہواؤں سے

رابطہ ہے ابھی ہواؤں سے جی رہا ہوں تری دعاؤں سے زندگی بول کیا ارادہ ہے موت مہنگی نہیں دواؤں سے تو مری لغزشوں پہ طنز نہ کر میری پہچان ہے خطاؤں سے اس کو ثقل زمین کہتے ہیں لوٹ آیا بشر خلاؤں سے دل نے آنکھوں میں بھر دئے آنسو لے کے مایوسیاں گھٹاؤں سے جتنے خانہ خراب ہیں سب کو بد ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2085 سے 6203