قومی زبان

محبت

میں جسم و جاں کے تمام رشتوں سے چاہتا ہوں نہیں سمجھتا کہ ایسا کیوں ہے نہ خال و خد کا جمال اس میں نہ زندگی کا کمال کوئی جو کوئی اس میں ہنر بھی ہوگا تو مجھ کو اس کی خبر نہیں ہے نہ جانے پھر کیوں! میں وقت کے دائروں سے باہر کسی تصور میں اڑ رہا ہوں خیال میں خواب و خلوت ذات و جلوت بزم میں شب و ...

مزید پڑھیے

کیتھارسس

مجھے خبر ہے تمہاری آنکھوں میں جو چھپا ہے تمہارے چہرے پہ جو لکھا ہے لہو جو ہر آن بولتا ہے مجھے بتا دو اور اپنے دکھ سے نجات پا لو

مزید پڑھیے

مٹی تھا میں خمیر ترے ناز سے اٹھا

مٹی تھا میں خمیر ترے ناز سے اٹھا پھر ہفت آسماں مری پرواز سے اٹھا انسان ہو کسی بھی صدی کا کہیں کا ہو یہ جب اٹھا ضمیر کی آواز سے اٹھا صبح چمن میں ایک یہی آفتاب تھا اس آدمی کی لاش کو اعزاز سے اٹھا سو کرتبوں سے لکھا گیا ایک ایک لفظ لیکن یہ جب اٹھا کسی اعجاز سے اٹھا اے شہسوار حسن یہ ...

مزید پڑھیے

میں کیسے جیوں گر یہ دنیا ہر آن نئی تصویر نہ ہو

میں کیسے جیوں گر یہ دنیا ہر آن نئی تصویر نہ ہو یہ آتے جاتے رنگ نہ ہوں اور لفظوں کی تنویر نہ ہو اے راہ عشق کے راہی سن چل ایسے سفر کی لذت میں تری آنکھوں میں نئے خواب تو ہوں پر خوابوں کی تعبیر نہ ہو گھر آؤں یا باہر جاؤں ہر ایک فضا میں میرے لیے اک جھوٹی سچی چاہت ہو رسموں کی کوئی زنجیر ...

مزید پڑھیے

عذاب آئے تھے ایسے کہ پھر نہ گھر سے گئے

عذاب آئے تھے ایسے کہ پھر نہ گھر سے گئے وہ زندہ لوگ مرے گھر کے جیسے مر سے گئے ہزار طرح کے صدمے اٹھانے والے لوگ نہ جانے کیا ہوا اک آن میں بکھر سے گئے بچھڑنے والوں کا دکھ ہو تو سوچ لینا یہی کہ اک نوائے پریشاں تھے رہ گزر سے گئے ہزار راہ چلے پھر وہ رہ گزر آئی کہ اک سفر میں رہے اور ہر ...

مزید پڑھیے

کوئی دھن ہو میں ترے گیت ہی گائے جاؤں

کوئی دھن ہو میں ترے گیت ہی گائے جاؤں درد سینے میں اٹھے شور مچائے جاؤں خواب بن کر تو برستا رہے شبنم شبنم اور بس میں اسی موسم میں نہائے جاؤں تیرے ہی رنگ اترتے چلے جائیں مجھ میں خود کو لکھوں تری تصویر بنائے جاؤں جس کو ملنا نہیں پھر اس سے محبت کیسی سوچتا جاؤں مگر دل میں بسائے ...

مزید پڑھیے

وہ خواب خواب فضائے طرب نہیں آئی

وہ خواب خواب فضائے طرب نہیں آئی عجیب ہی تھی وہ شب پھر وہ شب نہیں آئی جو جسم و جاں سے چلی جسم و جاں تلک پہنچی وہ موج گرمی رخسار و لب نہیں آئی تو پھر چراغ تھے ہم بے چراغ راتوں کے پلٹ کے گزری ہوئی رات جب نہیں آئی عجب تھے حرف کی لذت میں جلنے والے لوگ کہ خاک ہو گئے خوئے ادب نہیں آئی جو ...

مزید پڑھیے

الفاظ

یہ لفظ سقراط لفظ عیسیٰ میں ان کا خالق یہ میرے خالق یہی ازل ہیں یہی ابد ہیں یہی زماں ہیں یہی مکاں ہیں یہ ذہن تا ذہن رہگزر ہیں یہ روح تا روح اک سفر ہیں صداقت عصر بھی یہی ہیں کراہت جبر بھی یہی ہیں علامت درد بھی یہی ہیں کرامت صبر بھی یہی ہیں بغیر تفریق رنگ و مذہب زمیں زمیں ان کی ...

مزید پڑھیے

دعا دعا چہرہ

دعا دعا وہ چہرہ حیا حیا وہ آنکھیں صبا صبا وہ زلفیں چلے لہو گردش میں رہے آنکھ میں دل میں بسے مرے خوابوں میں جلے اکیلے پن میں ملے ہر اک محفل میں دعا دعا وہ چہرہ کبھی کسی چلمن کے پیچھے کبھی درخت کے نیچے کبھی وہ ہاتھ پکڑتے کبھی ہوا سے ڈرتے کبھی وہ بارش اندر کبھی وہ موج سمندر کبھی وہ ...

مزید پڑھیے

وجود اپنا مجھے دے دو

تمہارے ہیں کہو اک دن کہو اک دن کہ جو کچھ بھی ہمارے پاس ہے سب کچھ تمہارا ہے کہو اک دن جسے تم چاند سا کہتے ہو وہ چہرہ تمہارا تھا ستارہ سی جنہیں کہتے ہو وہ آنکھیں تمہاری ہیں جنہیں تم شاخ سی کہتے ہو وہ بانہیں تمہاری ہیں کبوتر تولتے ہیں پر تو پروازیں تمہاری ہیں جنہیں تم پھول سی کہتے ہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2074 سے 6203