قومی زبان

عدل کو بھی میزان میں رکھنا پڑتا ہے

عدل کو بھی میزان میں رکھنا پڑتا ہے ہر احسان احسان میں رکھنا پڑتا ہے یوں ہی گیان کی دولت ہاتھ نہیں آتی بے دھیانی کو دھیان میں رکھنا پڑتا ہے جب بھی سفر پر جانے لگو تو یاد رہے خود کو بھی سامان میں رکھنا پڑتا ہے اپنے ہونے اور نہ ہونے کا امکان ہونی کے امکان میں رکھنا پڑتا ہے اس ...

مزید پڑھیے

کوئی نظر نہ پڑ سکے مجھ حال مست پر

کوئی نظر نہ پڑ سکے مجھ حال مست پر بیٹھا ہوا ہوں اس لیے پچھلی نشست پر اک موج آتشیں رگ و پے میں اتر گئی رکھا ہے اس نے جوں ہی کف دست، دست پر کب راس آئی مجھ کو مری فتح کی خوشی میں دل شکستہ ہو گیا اس کی شکست پر ہے یاد مجھ کو آج بھی پہلا مکالمہ قایم ہوں میں تو آج بھی عہد الست پر کیسے ...

مزید پڑھیے

یوں نہیں وہ نظر نہیں آتا

یوں نہیں وہ نظر نہیں آتا ہم کو دیدار کر نہیں آتا وقت اچھا ضرور آتا ہے پر کبھی وقت پر نہیں آتا صرف رونا ہی مجھ کو آتا ہے اور کوئی ہنر نہیں آتا جو بھی جاتا ہے اس کے کوچے میں پھر وہ بار دگر نہیں آتا اس کا جلوہ بھی اک تماشہ ہے نظر آتا ہے پر نہیں آتا اس نے جاتے ہوئے کہا ساحرؔ! وقت پھر ...

مزید پڑھیے

سودائے عشق یوں بھی اترنا تو ہے نہیں

سودائے عشق یوں بھی اترنا تو ہے نہیں یہ زخم روح ہے اسے بھرنا تو ہے نہیں سو بار آئنہ بھی جو دیکھیں تو فائدہ؟ صورت کو خود بخود ہی سنورنا تو ہے نہیں مجھ کو خبر ہے دہر میں زندہ رہوں گا میں بلھےؔ کی طرح مر کے بھی مرنا تو ہے نہیں جس لہر کو نگل گئی اک لہر دوسری اس لہر کو دوبارہ ابھرنا تو ...

مزید پڑھیے

بزعم خود کہیں خود سے ورا نہ ہو جاؤں

بزعم خود کہیں خود سے ورا نہ ہو جاؤں خدا نخواستہ میں بھی خدا نہ ہو جاؤں بس ایک دھیان کی میں انگلی تھام رکھی ہے کہ بھیڑ میں کہیں خود سے جدا نہ ہو جاؤں یہ سوچتا ہوں کسی دل میں گھر کروں میں بھی اور اس سے پہلے یہاں بے ٹھکانہ ہو جاؤں یہ جی میں آتا ہے میرے کہ رفتگاں کی طرح میں آج ملک عدم ...

مزید پڑھیے

وہ جو تم نے غم دیا تھا مجھے سازگار ہوتا

وہ جو تم نے غم دیا تھا مجھے سازگار ہوتا اگر اتنا اور ہوتا کہ وہ استوار ہوتا تری بے رخی کے صدقے مجھے آ گیا ہے جینا نہ تو روٹھتا نہ ظالم مجھے غم سے پیار ہوتا شب و روز کے نظارے یہ کرشمے رنگ و بو کے یہ طلسم توڑ دیتا اگر اختیار ہوتا اسے وقف خاک کر کے کیا خوب تو نے ورنہ یہ وہ ذرہ تھا کہ ...

مزید پڑھیے

غزل کہی ہے حدیث غم جہاں کی طرح

غزل کہی ہے حدیث غم جہاں کی طرح سنیں گے لوگ اسے اپنی داستاں کی طرح فریب دیتا ہوں دنیا کو انکساری کا میں اپنے آپ میں پھیلا ہوں آسماں کی طرح قدم قدم پہ ضیا باریاں معاذ اللہ یہ رہ گزر ہے کہ پھیلی ہے کہکشاں کی طرح یہ گل تو گل ہیں چمن کو نہ بیچ دیں ظالم جو روپ اپنا بنائے ہیں باغباں کی ...

مزید پڑھیے

زندگی کو ایک رنگیں داستاں سمجھا تھا میں

زندگی کو ایک رنگیں داستاں سمجھا تھا میں زندگی بار گراں ہے یہ کہاں سمجھا تھا میں ہاں وہی آنسو ٹپک کر کتنا رسوا کر گئے جن کو اپنا رازدار بے زباں سمجھا تھا میں ان کا دامن تھام کر کتنے درخشاں ہو گئے میرے وہ آنسو کہ جن کو رائیگاں سمجھا تھا میں اللہ اللہ ان کے پائے ناز کا حسن خرام رہ ...

مزید پڑھیے

حسن بے پردہ ہے جلوہ عام ہے

حسن بے پردہ ہے جلوہ عام ہے دیکھنا اہل نظر کا کام ہے کچھ نہیں ہوتا بجز حکم خدا آدمی تو مفت میں بدنام ہے اب خدا بخشے نہ بخشے کیا کروں دل تو میرا بندۂ اصنام ہے دیکھیے چلئے نظارے راہ کے یہ سفر بس اور دو اک گام ہے ہم نشینو اب تو میرے واسطے زندگی ٹوٹا ہوا اک جام ہے درد بھی کچھ دب ...

مزید پڑھیے

مرا درد نہاں ہے اور میں ہوں

مرا درد نہاں ہے اور میں ہوں نشاط جاوداں ہے اور میں ہوں محبت جو کبھی آرام جاں تھی وہی اب نیش جاں ہے اور میں ہوں یہ جلووں کی فراوانی کا عالم نگاہ بے زباں ہے اور میں ہوں مرا افسانہ اب میرا نہیں ہے حدیث دیگراں ہے اور میں ہوں ہوں محو حسن پوشیدہ پس گل بہار بے خزاں ہے اور میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2045 سے 6203