قومی زبان

نہیں اپنے تو بیگانے بہت ہیں

نہیں اپنے تو بیگانے بہت ہیں جہاں میں آئنہ خانے بہت ہیں پریشاں کیوں ہو میرے ہم رکابو مرے غم کو مرے شانے بہت ہیں زمانہ بھر کی حجت کے مقابل فقط تسبیح کے دانے بہت ہیں ابھی سے آپ ہمت ہار بیٹھے ابھی الزام سر آنے بہت ہیں ہمیں رکھا ہے کس درجے میں صاحب سنا ہے آپ کے خانے بہت ہیں کسی کو ...

مزید پڑھیے

کوئی پاؤں سفر میں رکھ

کوئی پاؤں سفر میں رکھ موسم کو بستر میں رکھ گھر کا خرچ نظر میں رکھ کچھ پیسے بھی گھر میں رکھ عزت جان بچائے جو وہ فطرت خنجر میں رکھ اچھا زیور خودداری کم ظرفی مت سر میں رکھ تپ کر کندن بنتا ہے گردش کو ٹھوکر میں رکھ پیکرؔ عیش جو کرنی ہے بزنس دو نمبر میں رکھ

مزید پڑھیے

کنکر کہہ نہ پتھر کہہ

کنکر کہہ نہ پتھر کہہ گوہر ہے تو گوہر کہہ پیچھے غیبت ہوتی ہے جو کہنا ہے منہ پر کہہ پتھر ڈھونے والے کو کائنات کا محور کہہ چیخے قومی یکجہتی حق پر ہو جو حق پر کہہ لہجہ قاتل ٹھہرے گا کڑوی بات کو ہنس کر کہہ مستقبل کی فکر بھی رکھ حال کا حال بھی کھل کر کہہ بھڑک اٹھیں جس سے جذبات ایسی ...

مزید پڑھیے

ہنستے ہنستے کہہ دی بات

ہنستے ہنستے کہہ دی بات تم نے آخر کڑوی بات میرے لئے پتھر کی لکیر کانپ کے منہ سے نکلی بات برسوں بعد بھی لگتا ہے جیسے ہو کل ہی کی بات پل میں لہجہ بدل گیا دیکھی تم نے اس کی بات آنکھوں میں چہرہ ان کا دل میں اک اک ان کی بات پیکرؔ ایسا جھوٹ نہ بول لگنے لگے جو سچی بات

مزید پڑھیے

گزرے ہے دل پہ جو وہ کہیں کیا کسی سے ہم

گزرے ہے دل پہ جو وہ کہیں کیا کسی سے ہم اپنوں میں ہو کے رہ گئے اک اجنبی سے ہم اس واقعہ کا تجزیہ کرنا محال ہے سہمی ہوئی ہے ہم سے خوشی یا خوشی سے ہم رہنے لگے خفا خفا سورج بھی چاند بھی مانوس کیا ہوئے ہیں کسی روشنی سے ہم دن دن ہے رات رات ہے یہ جاننے کے بعد کیسے نباہ کرتے بھلا تیرگی سے ...

مزید پڑھیے

نہیں میرا آنچل میلا ہے

نہیں میرا آنچل میلا ہے اور تیری دستار کے سارے پیچ ابھی تک تیکھے ہیں کسی ہوا نے ان کو اب تک چھونے کی جرأت نہیں کی ہے تیری اجلی پیشانی پر گئے دنوں کی کوئی گھڑی پچھتاوا بن کے نہیں پھوٹی اور میرے ماتھے کی سیاہی تجھ سے آنکھ ملا کر بات نہیں کر سکتی اچھے لڑکے مجھے نہ ایسے دیکھ اپنے سارے ...

مزید پڑھیے

ڈیوٹی

جان مجھے افسوس ہے تم سے ملنے شاید اس ہفتے بھی نہ آ سکوں گا بڑی اہم مجبوری ہے جان تمہاری مجبوری کو اب تو میں بھی سمجھنے لگی ہوں شاید اس ہفتے بھی تمہارے چیف کی بیوی تنہا ہوگی

مزید پڑھیے

تاج محل

سنگ مرمر کی خنک بانہوں میں حسن خوابیدہ کے آگے مری آنکھیں شل ہیں گنگ صدیوں کے تناظر میں کوئی بولتا ہے وقت جذبے کے ترازو پہ زر و سیم و جواہر کی تڑپ تولتا ہے! ہر نئے چاند پہ پتھر وہی سچ کہتے ہیں اسی لمحے سے دمک اٹھتے میں ان کے چہرے جس کی لو عمر گئے اک دل شب زاد کو مہتاب بنا آئی تھی! اسی ...

مزید پڑھیے

واہمہ

تمہارا کہنا ہے تم مجھے بے پناہ شدت سے چاہتے ہو تمہاری چاہت وصال کی آخری حدوں تک مرے فقط میرے نام ہوگی مجھے یقیں ہے مجھے یقیں ہے مگر قسم کھانے والے لڑکے! تمہاری آنکھوں میں ایک تل ہے!

مزید پڑھیے

شگون

سات سہاگنیں اور میری پیشانی! صندل کی تحریر بھلا پتھر کے لکھے کو کیا دھوئے گی بس اتنا ہے جذبے کی پوری نیکی سے سب نے اپنے اپنے خدا کا اسم مجھے دے ڈالا ہے اور یہ سننے میں آیا ہے شام ڈھلے جنگل کے سفر میں اسم بہت کام آتے ہیں!

مزید پڑھیے
صفحہ 2036 سے 6203