قومی زبان

کتنی دفعہ نہ جانے دی دستک

کتنی دفعہ نہ جانے دی دستک آخری بار تیسری دستک پٹریوں میں پھنسا ہوا پاؤں اور گاڑی کی آ پڑی دستک تم نے چھپنے ہی کب دیا مجھ کو تم نے گنتی نہیں گنی دس تک سچ میں آنے پہ ہو تم آمادہ دی گئی ہے کہ ہو گئی دستک گول کی گول ہی رہی دنیا پھر وہی در ہے پھر وہی دستک تینوں دشمن ہیں میرے خوابوں ...

مزید پڑھیے

تمہارے گھر پہ میں آ تو نہیں رہا مرے دوست

تمہارے گھر پہ میں آ تو نہیں رہا مرے دوست گھما پھرا کے بتاؤ نہ راستہ مرے دوست ہوا ہو گرم کہ ٹھنڈی پسینہ سوکھتا ہے وہ میرا دوست ہے اچھا ہے یا برا مرے دوست بچھڑتے وقت ضرورت نہیں ہوئی محسوس اور اب نہ رابطہ نمبر نہ رابطہ مرے دوست میں یوں تو ایک محبت کے قائلین میں تھا تجھے ملا تو رہا ...

مزید پڑھیے

پاؤں بے دھیانی میں ایسا پڑ گیا

پاؤں بے دھیانی میں ایسا پڑ گیا سب کے کرداروں تلک کیچڑ گیا کیا ہوا جو اوک بھر لی جھیل سے کیا ہوا جو ایک پتا جھڑ گیا دل میں آپ آئے تو نکلے کتنے لوگ چیونٹیوں کے بل میں پانی پڑ گیا کس نے چومی ہے مری مفلس جبیں کون اتنے مہنگے موتی جڑ گیا وہ اگر ضدی ہے تو ہوتی رہے میں بھی پارسؔ اڑ گیا ...

مزید پڑھیے

نہ گرے کہیں نہ ہرے ہوئے کئی سال سے

نہ گرے کہیں نہ ہرے ہوئے کئی سال سے یوں ہی خشک پات جڑے رہے تری ڈال سے کوئی لمس تھا جو سراپا آنکھ بنا رہا کوئی پھول جھانکتا رہ گیا کسی شال سے تری کائنات سے کچھ زیادہ طلب نہیں فقط ایک موتی ہی موتیوں بھرے تھال سے تو وہ ساحرہ کہ طلسم تیرا عروج پر میں وہ آگ ہوں جو بجھے گی تیرے زوال ...

مزید پڑھیے

اپنی پسند چھوڑ دی اس کی خرید لی

اپنی پسند چھوڑ دی اس کی خرید لی ورثے کا کھیت بیچ کے کوٹھی خرید لی اک عمر اپنے بیٹوں کو انگلی تھمائی پھر بوڑھے نے اک دکان سے لاٹھی خرید لی ویسے تو نرخ کم ہی تھے گندم کے اس برس آئی تھی تیرے گاؤں سے مہنگی خرید لی ہم دوستوں کے پیار میں ہم رنگ ہیں لباس اور لوگ کہہ رہے ہیں کہ وردی خرید ...

مزید پڑھیے

ترا غرور عبث انتہائی سطح پہ ہے

ترا غرور عبث انتہائی سطح پہ ہے بلندی پر بھی وہی ہے جو کھائی سطح پہ ہے پھلانگ سکتا ہوں جتنا ہے دو دلوں کے بیچ مگر جو فاصلہ جغرافیائی سطح پہ ہے مجھے نہیں ہے ذرا رنج تہ نشینی کا مجھے خوشی ہے چلو میرا بھائی سطح پہ ہے ہم ایسے دیکھنے والوں کا کوئی دوش نہیں کہ زیر سطح کثافت صفائی سطح ...

مزید پڑھیے

کیا اذیت ہے مرد ہونے کی

کیا اذیت ہے مرد ہونے کی کوئی بھی جا نہیں ہے رونے کی دائرہ قید کی علامت ہے چاہے انگوٹھی پہنو سونے کی سانس پھونکی گئی بڑا احسان چابی بھر دی گئی کھلونے کی ایسی سردی میں شرط چادر ہے اوڑھنے کی ہو یا بچھونے کی بوجھ جیسا تھا جس کا تھا مجھے کیا مجھے اجرت ملی ہے ڈھونے کی میں جزیرے ...

مزید پڑھیے

ہوا جام صحت تجویز کرتی ہے

مجھے معلوم تھا یہ دن بھی دکھ کی کوکھ سے پھوٹا ہے میری ماتمی چادر نہیں تبدیل ہوگی آج کے دن بھی جو راکھ اڑتی تھی خوابوں کی بدن میں یوں ہی آشفتہ رہے گی اور اداسی کی یہی صورت رہے گی میں اپنے سوگ میں ماتم کناں یوں سر بہ زانو رات تک بیٹھی رہوں گی اور مرے خوابوں کا پرسہ آج بھی کوئی نہیں دے ...

مزید پڑھیے

نئے سال کی پہلی نظم

اندیشوں کے دروازوں پر کوئی نشان لگاتا ہے اور راتوں رات تمام گھروں پر وہی سیاہی پھر جاتی ہے دکھ کا شب خوں روز ادھورا رہ جاتا ہے اور شناخت کا لمحہ بیتتا جاتا ہے میں اور میرا شہر محبت تاریکی کی چادر اوڑھے روشنی کی آہٹ پر کان لگائے کب سے بیٹھے ہیں گھوڑوں کی ٹاپوں کو سنتے رہتے ہیں! حد ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2035 سے 6203