تجھے خلق کہتی ہے خود نما تجھے ہم سے کیوں یہ حجاب ہے
تجھے خلق کہتی ہے خود نما تجھے ہم سے کیوں یہ حجاب ہے ترا جلوہ تیرا ہے پردہ در تیرے رخ پہ کیوں یہ نقاب ہے تجھے حسن مایۂ ناز ہے دل خستہ محو نیاز ہے کہوں کیا یہ قصۂ راز ہے مرا عشق خانہ خراب ہے یہ رسالہ عشق کا ہے ادق ترے غور کرنے کا ہے سبق کبھی دیکھ اس کو ورق ورق مرا سینہ غم کی کتاب ...