قومی زبان

تجھے خلق کہتی ہے خود نما تجھے ہم سے کیوں یہ حجاب ہے

تجھے خلق کہتی ہے خود نما تجھے ہم سے کیوں یہ حجاب ہے ترا جلوہ تیرا ہے پردہ در تیرے رخ پہ کیوں یہ نقاب ہے تجھے حسن مایۂ ناز ہے دل خستہ محو نیاز ہے کہوں کیا یہ قصۂ راز ہے مرا عشق خانہ خراب ہے یہ رسالہ عشق کا ہے ادق ترے غور کرنے کا ہے سبق کبھی دیکھ اس کو ورق ورق مرا سینہ غم کی کتاب ...

مزید پڑھیے

گیا سب رنج و غم کنج قفس کا

گیا سب رنج و غم کنج قفس کا ترحم ہو گیا فریاد رس کا رہے ثابت قدم راہ وفا میں شکستہ دل ہوا پائے ہوس کا حضوری ہو گئی غیبت میں ہم کو ترنم دل میں ہے بانگ جرس کا کریں اس شوخ سے ہم قطع الفت نہیں یہ کام ساقیؔ اپنے بس کا

مزید پڑھیے

دل شہید ہوا ہے شہید حسن صفات

دل شہید ہوا ہے شہید حسن صفات پلایا ذوق نظر نے بھی جام آب حیات عدم وجود تعین صفات جلوۂ ذات غلط ہے وہم دوئی نفی ہے یہ فی الاثبات نگاہ لطف سے دیکھو ہمیں بھی حسن آرا کہاں ہے رنگ تجاہل یہ داخل حسنات فروغ جذب انا الحق میں رنگ ہو حق ہے ہوئے جو اہل نظر ان کا صاف ہے مرات ہمارا شیوۂ ...

مزید پڑھیے

تلاش جس نور کی ہے تجھ کو چھپا ہے تیرے بدن کے اندر

تلاش جس نور کی ہے تجھ کو چھپا ہے تیرے بدن کے اندر ظہور عالم ہوا اسی سے وہ ہے ہر اک جان و تن کے اندر تجھے یہ بے صرفہ جد و کد ہے کشاکشی میں بھی شد و مد ہے نفس کی تجھ کو اگر مدد ہے سفر ہے اس جا وطن کے اندر تجھے وہاں سے گریز و رم ہے تلاش اب آہو حرم ہے چلا ہے وہ راہ جو بھرم ہے، ہے مشک نافہ ...

مزید پڑھیے

ملتے نہیں ہو ہم سے یہ کیا ہوا وتیرا

ملتے نہیں ہو ہم سے یہ کیا ہوا وتیرا ملنے لگا ہے شاید اب تم سے کوئی خیرا آنکھوں ہی میں اڑایا نقد دل و جگر کو وہ شوخ دل ربا ہے کیسا اٹھائی گیرا الفت کا جرم بے شک سرزد ہوا ہے ہم سے اس کو صغیرہ سمجھو چاہے اسے کبیرا میدان حشر تیرا کوچہ بنا ہے قاتل جاتا ہے اب جو کوئی آتا ہے ...

مزید پڑھیے

وہ پاس ہے تیرے دور نہیں تو واصل ہے مہجور نہیں

وہ پاس ہے تیرے دور نہیں تو واصل ہے مہجور نہیں کیوں حبل مرکب میں ہے پھنسا مختار ہے تو مجبور نہیں سرگرم شوق‌ و حضور نہیں دل سرد ہے تو محرور نہیں جس قلب میں عشق کا نور نہیں وہ تاب جلوۂ طور نہیں ہر رنگ میں ہے وہ جلوہ نما تو ایک حجاب میں جا کے چھپا کیوں کور سواد ہوا ہے بتا کیا آنکھوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2012 سے 6203