قومی زبان

موسموں کی سختیاں

موسموں کی سختیاں الحفیظ و الاماں بے وفا ہے یہ جہاں آگے تم جانو میاں شہر میں دو چار تھے کیا ہوئے آشفتگاں اب کوئی مثبت عمل کب تلک آہ و فغاں ایک صحرائے بسیط تیرے میرے درمیاں رحم سے عاری زمیں اور ناراض آسماں کیوں اٹھائیں ذلتیں کس کو رہنا ہے یہاں اڑ رہی ہیں چار سو زندگی کی ...

مزید پڑھیے

یہاں کسے ہنسنے کی فرصت رکھی ہے

یہاں کسے ہنسنے کی فرصت رکھی ہے ایک سے نمٹو دوسری آفت رکھی ہے ہر جانب اک کھیل ہے آپا دھاپی کا منظر منظر کیسی وحشت رکھی ہے سوچوں تو بازار بھی چھوٹا لگتا ہے گھر کے اندر اتنی ضرورت رکھی ہے تیرے دل کو پیار سے مالا مال کرے پھول کے اندر جس نے نکہت رکھی ہے ایک کے دکھ میں سارے رویا کرتے ...

مزید پڑھیے

ہوا ہے نہ ہوگا زمانہ کسی کا

ہوا ہے نہ ہوگا زمانہ کسی کا اٹھانا کسی کو گرانا کسی کا کئی رہ نما تھے علاوہ بھی دل کے مگر ہم نے کہنا نہ مانا کسی کا تعلق کہاں زندگی سے ہمارا تعارف ہے بس غائبانہ کسی کا مقدر ہی اول مقدر ہی آخر نہ پانی کسی کا نہ دانہ کسی کا جو باقی بچیں گے وہ کیسے جئیں گے اگر ہو ہی جائے زمانہ کسی ...

مزید پڑھیے

سب کی آنکھوں میں رہا کرتے تھے

سب کی آنکھوں میں رہا کرتے تھے فرد ہیں قوم ہوا کرتے تھے اب تعلق میں غرض ہے شامل دوست بچپن میں ہوا کرتے تھے راستے تال تلیا، ٹیلے کتنے رومان ہوا کرتے تھے اس کا خوش ہونا بہت بھاتا تھا ہم نشانے کو خطا کرتے تھے عشق پروان وہاں چڑھتا تھا جہاں آسیب رہا کرتے تھے ہاتھ تو اب بھی ملاتے ...

مزید پڑھیے

کسی سے کہیں جی لگانے سے پہلے

کسی سے کہیں جی لگانے سے پہلے ذرا پوچھ لیتے زمانے سے پہلے قیامت کی بابت بتاتے نہیں ہو نہ آنے سے پہلے نہ جانے سے پہلے یہ دل ہیں یہ آنکھیں بہت مضطرب ہیں ٹھکانے لگا جاؤ جانے سے پہلے بھلائی بھی تھوڑی سی جھولی میں ہوتی گناہوں کی جنت کمانے سے پہلے تغیر ہر اک زندگی کا مقدر میں رویا ...

مزید پڑھیے

عشق کو زہر کیوں پلاوے ہے

عشق کو زہر کیوں پلاوے ہے عشق تو راستہ دکھاوے ہے پاؤں ننگے ہیں سر بھی ننگا ہے سورج اوپر سے کھلکھلاوے ہے خوب رستے بدل کے دیکھ لئے وہ ہر اک راستے میں آوے ہے چل رہا ہے اذیتوں کا سفر سانس جاوے ہے سانس آوے ہے لوگ ہلکان ہو رہے ہیں عبث زندگی کس کے ہاتھ آوے ہے وقت اک دائرے میں گھومے ...

مزید پڑھیے

سفر میں دھوپ ہے تو سائبان بھی ہوگا

سفر میں دھوپ ہے تو سائبان بھی ہوگا زمین ہوگی جہاں آسمان بھی ہوگا خبر کہاں تھی کہ یہ روح ایک مسجد ہے سیہ وجود میں نور اذان بھی ہوگا ترے بدن پہ یہ بوڑھا سفید سر کیسا جدید بچے بتا کیا جوان بھی ہوگا مری پسند کے افراد جس میں رہتے ہیں زمیں پہ ایسا کوئی خاندان بھی ہوگا سنا ہے شہر ...

مزید پڑھیے

ساون میں گھبرا جاتا ہے

ساون میں گھبرا جاتا ہے دل میرا صحرا جاتا ہے الف سمجھ میں آ جاوے تو سب کچھ پڑھنا آ جاتا ہے برف کا اک اک آنسو پی کر دریا وجد میں آ جاتا ہے اصل سفر ہے وہاں سے آگے جہاں تلک رستہ جاتا ہے لڑکی میلے میں تنہا تھی سوچ کے دل بیٹھا جاتا ہے جب میں جنگل ہو جاتا ہوں مور ناچنے آ جاتا ہے شاید ...

مزید پڑھیے

میں ریت کا محل ہوں مرے پاسباں درخت

میں ریت کا محل ہوں مرے پاسباں درخت سینے پہ روک لیتے ہیں سب آندھیاں درخت دیکھے گئے تھے جس کے تلے دو جواں بدن لوگوں نے ٹکڑے ٹکڑے کیا وہ جواں درخت ڈھونڈیں گے اب پرند کہاں شام کو پناہ جنگل کی آگ کھا گئی سب ڈالیاں درخت پھل دار تھا تو گاؤں اسے پوجتا رہا سوکھا تو قتل ہو گیا وہ بے زباں ...

مزید پڑھیے

سمندر میں کھڑے ہو رو رہے ہو

سمندر میں کھڑے ہو رو رہے ہو یہ کیسی میلی چادر دھو رہے ہو یہ دنیا مسئلہ اللہ کا ہے یہ مٹی سر پہ تم کیوں ڈھو رہے ہو ہمارے آنسوؤں کے جگنوؤں سے ستارو کیوں پریشاں ہو رہے ہو سمندر کو دکھا کر آگ اب کیوں دعا کی بارشوں کو رو رہے ہو جہاں پرکھوں کے سجدوں کے نشاں ہیں وہ گلیاں خون سے کیوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1998 سے 6203