موسموں کی سختیاں
موسموں کی سختیاں الحفیظ و الاماں بے وفا ہے یہ جہاں آگے تم جانو میاں شہر میں دو چار تھے کیا ہوئے آشفتگاں اب کوئی مثبت عمل کب تلک آہ و فغاں ایک صحرائے بسیط تیرے میرے درمیاں رحم سے عاری زمیں اور ناراض آسماں کیوں اٹھائیں ذلتیں کس کو رہنا ہے یہاں اڑ رہی ہیں چار سو زندگی کی ...