قومی زبان

تو جب گھر سے چلا جاتا ہے

تو جب گھر سے چلا جاتا ہے پیچھے رہ بھی کیا جاتا ہے مر جانے والی ہر شے پر میرا نام لکھا جاتا ہے برف کا اک اک آنسو پی کر دریا وجد میں آ جاتا ہے شاید اس نے دستک سن لی دیکھو در کھلتا جاتا ہے الف سمجھ میں آ جاوے تو سب کچھ پڑھنا آ جاتا ہے آئینے کو اشکؔ دکھانے میرے ساتھ خدا جاتا ہے

مزید پڑھیے

خدا کی بے رخی پر رو رہی ہے

خدا کی بے رخی پر رو رہی ہے دعا مجھ سے لپٹ کر رو رہی ہے مکیں کوئی نہیں ہے گھر میں لیکن کسی کی روح اندر رو رہی ہے غزل مایوس ہو کر ہر جگہ سے کھڑی ہے میرے در پر رو رہی ہے ندی کی پیاس کا غم کون سمجھے سمندر در سمندر رو رہی ہے محبت کو کوئی گھر دے خدایا بچاری آج در در رو رہی ہے

مزید پڑھیے

موسم سوکھے پیڑ گرانے والا تھا

موسم سوکھے پیڑ گرانے والا تھا کسی کسی میں پھول بھی آنے والا تھا پار کے منظر نے موقعے پر آنکھیں دیں میں اندھا دیوار اٹھانے والا تھا اس نے بھی آنکھوں میں آنسو روک لیے میں بھی اپنے زخم چھپانے والا تھا تم نے کیوں بارود بچھا دی دھرتی پر میں تو دعا کا شہر بسانے والا تھا وہ لڑکی تو ...

مزید پڑھیے

برف سے لڑتا تھا میرے پاس پانی کیوں نہیں

برف سے لڑتا تھا میرے پاس پانی کیوں نہیں اب سوال اٹھتا ہے دریا میں روانی کیوں نہیں داستاں پڑھ کر مری اخبار میں روتا ہے وہ آ کے سنتا دکھ مرا میری زبانی کیوں نہیں میں ترا بے خواب بچہ ماں بتا میرے لیے کوئی لوری کیوں نہیں کوئی کہانی کیوں نہیں ڈوبنا چاہوں گا تو خشکی میں ہو جاؤں گا ...

مزید پڑھیے

ایک نہ اک دیوار سرکتی رہتی ہے

ایک نہ اک دیوار سرکتی رہتی ہے گھر کی چھت ہر رت میں ٹپکتی رہتی ہے جسم مرا شہروں میں ہنستا گاتا ہے روح مری جنگل میں سسکتی رہتی ہے تتلی پیار کرے کاغذ کے پھولوں سے خوشبو صحراؤں میں بھٹکتی رہتی ہے بھیڑ میں بھی اک چاند چمکتا رہتا ہے شہر میں بھی پائل سی چھنکتی رہتی ہے چاروں اور کے ...

مزید پڑھیے

کہاں جا رہا ہوں

زمیں پہلے ایسی کبھی بھی نہ تھی پاؤں مٹی پہ ہوتے تھے نظریں افق پر ہمیں اپنے بارے میں معلوم ہوتا تھا ہم کون ہیں اور کیا کر رہے ہیں کہاں جا رہے ہیں مگر آج عالم یہ ہے پاؤں رکتے نہیں آنکھ کھلتی نہیں اجنبی راستوں پر میں بڑھتا چلا جا رہا ہوں

مزید پڑھیے

الفاظ کے تاریک بادل

الفاظ کے جادو سے سحر کاروں نے ہر وقت پتھر کو کبھی شیشہ کبھی آگ کو شبنم نفرت کو محبت کبھی انسان کو حیوان۔۔۔۔۔ حیوان بنایا جس راہ پہ چلتے رہے گمراہ مسافر ان راہوں کو ہر موڑ پہ، بے موڑ پہ اس طرح گھمایا کہ جیسے خلاؤں میں سبھی گھوم رہے ہوں دیوانوں کی مانند گردش نے انہیں اور بھی دیوانہ ...

مزید پڑھیے

منزل کے نام

کیسے کھینچوں تری تصویر تو گم ہے اب تک تجھ کو اے جان جہاں میں نے تو دیکھا بھی نہیں جب کبھی ابر شب مہ میں اڑا جاتا ہے آبشاروں سے صدا آتی ہے چھن چھن کے کہیں یا کبھی شام کی تاریکی میں تنہائی میں جب کبھی جلوہ جھلکتا ہے تری یادوں کا میں سجاتا ہوں خیالوں میں حسیں خواب کوئی سامنے آتی ہے دو ...

مزید پڑھیے

کرائی سس

ندیاں میرے قدموں کے نیچے سے بہتی چلی جا رہی ہیں پہاڑ میرے گھٹنوں اور درخت میرے رونگٹوں پر رشک کر رہے ہیں پھیلی ہوئی زمین پر میں کتنا اونچا ہو گیا ہوں چاند میرے ماتھے پر ہے اور سورج ہاتھوں کا کھلونا ہے خدا میری کھوپڑی کے اندر چمگادڑ کی طرح پھڑپھڑا رہا ہے سمندر میرا پاؤں چوم رہے ...

مزید پڑھیے

ریت کا صحرا

جب ریت کا صحرا دیکھ کے ڈر جاتا ہے ادیب کا سینہ بھی وہ لمحے اکثر آتے ہیں جب ذہن کے سارے پردے اٹکے اٹکے سے رہ جاتے ہیں جب شور مچاتی شاخ زباں سے سارے پرندے مر مر کے گر جاتے ہیں وہ لمحے اکثر آتے ہیں جب آوازوں کے پنجر اپنے سوکھے سوکھے ہاتھ لیے میرے سر پر چھا جاتے ہیں اور میں گھبرا سا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1999 سے 6203