کچھ تو ہو درد کی لذت ہی سہی
کچھ تو ہو درد کی لذت ہی سہی تیری الفت میں اذیت ہی سہی درد کو درد نہ جب تو سمجھے بد گمانی تری عادت ہی سہی دل مہجور میں ارمان وصال نہ سہی دید کی حسرت ہی سہی بت کدہ چھوڑنے والے تو نہ تھے خیر ملتی ہے تو جنت ہی سہی دل کو تھا خاک میں ملنا سو ملا دیکھنے والوں کو عبرت ہی سہی اس ستم گار ...