قومی زبان

تمہارے غم سے توبہ کر رہا ہوں

تمہارے غم سے توبہ کر رہا ہوں تعجب ہے میں ایسا کر رہا ہوں ہے اپنے ہاتھ میں اپنا گریباں نہ جانے کس سے جھگڑا کر رہا ہوں بہت سے بند تالے کھل رہے ہیں ترے سب خط اکٹھا کر رہا ہوں کوئی تتلی نشانے پر نہیں ہے میں بس رنگوں کا پیچھا کر رہا ہوں میں رسماً کہہ رہا ہوں ''پھر ملیں گے'' یہ مت سمجھو ...

مزید پڑھیے

اب اس کا وصل مہنگا چل رہا ہے

اب اس کا وصل مہنگا چل رہا ہے تو بس یادوں پہ خرچہ چل رہا ہے محبت دو قدم پر تھک گئی تھی مگر یہ ہجر کتنا چل رہا ہے بہت ہی دھیرے دھیرے چل رہے ہو تمہارے ذہن میں کیا چل رہا ہے بس اک ہی دوست ہے دنیا میں اپنا مگر اس سے بھی جھگڑا چل رہا ہے دلوں کو توڑنے کا فن ہے تم میں تمہارا کام کیسا چل ...

مزید پڑھیے

لو آج سمندر کے کنارے پہ کھڑا ہوں

لو آج سمندر کے کنارے پہ کھڑا ہوں غرقاب سفینوں کے سسکنے کی صدا ہوں اک خاک بہ سر برگ ہوں ٹہنی سے جدا ہوں جوڑے گا مجھے کون کہ میں ٹوٹ گیا ہوں اب بھی مجھے اپنائے نہ دنیا تو کروں کیا ماحول سے پیمان وفا باندھ رہا ہوں مستقبل بت خانہ کا حافظ ہے خدا ہی ہر بت کو یہ دعویٰ ہے کہ اب میں ہی خدا ...

مزید پڑھیے

یاد

وہ نغمے وہ مناظر وہ بہاریں یاد ہیں مجھ کو یہی وہ نقش ہیں جو مٹ نہیں سکتے مٹانے سے وہ راتیں اور وہ ساون کی پھواریں یاد ہیں مجھ کو یہی افسانے اکثر کہتا رہتا ہوں زمانے سے وہ تیرا مسکرا کر چاند کو تابندگی دینا شراب عشق سے مخمور ہو جانا فضاؤں کا وہ تیری مست آنکھوں کا نوید زندگی ...

مزید پڑھیے

بھرے ہوئے جام پر صراحی کا سر جھکا تو برا لگے گا

بھرے ہوئے جام پر صراحی کا سر جھکا تو برا لگے گا جسے تیری آرزو نہیں تو اسے ملا تو برا لگے گا یہ ایسا رستہ ہے جس پہ ہر کوئی بارہا لڑکھڑا رہا ہے میں پہلی ٹھوکر کے باد ہی گر سنبھل گیا تو برا لگے گا میں خوش ہوں اس کے نکالنے پر اور اتنا آگے نکل چکا ہوں کے اب اچانک سے اس نے واپس بلا لیا تو ...

مزید پڑھیے

بیٹھے بیٹھے اک دم سے چونکاتی ہے

بیٹھے بیٹھے اک دم سے چونکاتی ہے یاد تری کب دستک دے کر آتی ہے تتلی کے جیسی ہے میری ہر خواہش ہاتھ لگانے سے پہلے اڑ جاتی ہے میرے سجدے راز نہیں رہنے والے اس کی چوکھٹ ماتھے کو چمکاتی ہے عشق میں جتنا بہکو اتنا ہی اچھا یہ گمراہی منزل تک پہنچاتی ہے پہلی پہلی بار عجب سا لگتا ہے دھیرے ...

مزید پڑھیے

راستے جو بھی چمک دار نظر آتے ہیں

راستے جو بھی چمک دار نظر آتے ہیں سب تیری اوڑھنی کے تار نظر آتے ہیں کوئی پاگل ہی محبت سے نوازے گا مجھے آپ تو خیر سمجھ دار نظر آتے ہیں میں کہاں جاؤں کروں کس سے شکایت اس کی ہر طرف اس کے طرفدار نظر آتے ہیں زخم بھرنے لگے ہیں پچھلی ملاقاتوں کے پھر ملاقات کے آثار نظر آتے ہیں ایک ہی ...

مزید پڑھیے

وہ پاس کیا ذرا سا مسکرا کے بیٹھ گیا

وہ پاس کیا ذرا سا مسکرا کے بیٹھ گیا میں اس مذاق کو دل سے لگا کے بیٹھ گیا جب اس کی بزم میں دار و رسن کی بات چلی میں جھٹ سے اٹھ گیا اور آگے آ کے بیٹھ گیا درخت کاٹ کے جب تھک گیا لکڑ ہارا تو اک درخت کے سائے میں جا کے بیٹھ گیا تمہارے در سے میں کب اٹھنا چاہتا تھا مگر یہ میرا دل ہے کہ مجھ ...

مزید پڑھیے

رگ احساس میں نشتر ٹوٹا

رگ احساس میں نشتر ٹوٹا ہاتھ سے چھوٹ کے ساغر ٹوٹا ٹوٹنا تھا دل نازک کو نہ پوچھ کب کہاں کس لئے کیوں کر ٹوٹا سینہ دھرتی کا لرز اٹھا ہے آسماں سے کوئی اختر ٹوٹا جھک گیا پائے بتاں پر لیکن پتھروں سے نہ مرا سر ٹوٹا سخت جانی مری توبہ توبہ قتل کرتے تھے کہ خنجر ٹوٹا اشک پلکوں سے گرا یوں ...

مزید پڑھیے

آنکھ سے آنسو ڈھلکا ہوتا

آنکھ سے آنسو ڈھلکا ہوتا تو پھر سورج ابھرا ہوتا کہتے کہتے غم کا فسانہ کٹتی رات سویرا ہوتا کشتی کیوں ساحل پر ڈوبی موجیں ہوتیں دریا ہوتا جو گرجا پیاسی دھرتی پر کاش وہ بادل برسا ہوتا پھولوں میں چھپنے والوں کو کانٹوں میں تو ڈھونڈا ہوتا تجھ کو پانا سہل نہیں ہے سہل جو ہوتا تو کیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 199 سے 6203