قومی زبان

محبت ہو گئی تم سے

تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہو تو کہہ دوں میں یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا میں ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی خوشبوؤں کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو کس کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی تم ...

مزید پڑھیے

مرحوم اور محروم

مری حیات یہ ہے اور یہ تمہاری قضا زیادہ کس سے کہوں اور کس کو کم بولو تم اہل خانہ رہے اور میں یتیم ہوا تمہارا درد بڑا ہے یا میرا غم بولو تمہارا دور تھا گھر میں بہار ہنستی تھی ابھی تو در پہ فقط رنج و غم کی دستک ہے تمہارے ساتھ کا موسم بڑا حسین رہا تمہارے بعد کا موسم بڑا بھیانک ...

مزید پڑھیے

تری نگہ سے اسے بھی گماں ہوا کہ میں ہوں

تری نگہ سے اسے بھی گماں ہوا کہ میں ہوں وگرنہ دل تو مرا مانتا نہ تھا کہ میں ہوں عجیب لمحہ وہ دیدار حسن یار کا تھا اس ایک پل کی تجلی میں یہ کھلا کہ میں ہوں نہ جانے بے خبری کے وہ کس مقام پہ تھا نظر اٹھاتا تو ہر گل پکارتا کہ میں ہوں ترے جمال کی کچھ روشنی سی پڑتی ہے بتا رہا ہے مجھے رنگ ...

مزید پڑھیے

شمع حق شعبدۂ حرف دکھا کر لے جائے

شمع حق شعبدۂ حرف دکھا کر لے جائے کہیں تجھ کو ہی نہ تجھ سے کوئی آ کر لے جائے پہنے پھرتے ہیں جو پیراہن سقراط و مسیح ان کا بہروپ نہ دل تیرا لبھا کر لے جائے تو چڑھاوا تو نہیں ہے کہ کوئی سحر مقال سوئے مقتل تجھے لفظوں میں سجا کر لے جائے تو کوئی سوکھا ہوا پتہ نہیں ہے کہ جسے جس طرف موج ...

مزید پڑھیے

تمہاری چاہت کی چاندنی سے ہر اک شب غم سنور گئی ہے

تمہاری چاہت کی چاندنی سے ہر اک شب غم سنور گئی ہے سنہری پوروں سے خواب ریزے سمیٹتی ہر سحر گئی ہے مہکتے جھونکے کے حرف تسکیں میں جانی پہچانی لرزشیں تھیں تمہاری سانسوں کی آنچ کتنی قریب آ کر گزر گئی ہے اب اس کا چارہ ہی کیا کہ اپنی طلب ہی لا انتہا تھی ورنہ وہ آنکھ جب بھی اٹھی ہے دامان ...

مزید پڑھیے

گماں تھا یا تری خوشبو یقین اب بھی نہیں

گماں تھا یا تری خوشبو یقین اب بھی نہیں نہیں ہوا پہ بھروسہ تو کچھ عجب بھی نہیں کھلیں تو کیسے کھلیں پھول اجاڑ صحرا میں سحاب خواب نہیں گریۂ طلب بھی نہیں ہنسی میں چھپ نہ سکی آنسوؤں سے دھل نہ سکی عجب اداسی ہے جس کا کوئی سبب بھی نہیں ٹھہر گیا ہے مرے دل میں اک زمانے سے وہ وقت جس کی سحر ...

مزید پڑھیے

ایک پہنچا ہوا مسافر ہے

ایک پہنچا ہوا مسافر ہے دل بھٹکنے میں پھر بھی ماہر ہے کون لایا ہے عشق پر ایماں میں بھی کافر ہوں تو بھی کافر ہے درد کا وہ جو حرف اول تھا درد کا وہ ہی حرف آخر ہے کام ادھورا پڑا ہے خوابوں کا آج پھر نیند غیر حاضر ہے لاج رکھ لی تری سماعت نے ورنہ تابشؔ بھی کوئی شاعر ہے

مزید پڑھیے

پہلے مفت میں پیاس بٹے گی

پہلے مفت میں پیاس بٹے گی بعد میں اک اک بوند بکے گی کتنے حسیں ہو ماشاء اللہ تم پہ محبت خوب جچے‌ گی ظالم بس اتنا بتلا دے کیا رونے کی چھوٹ ملے گی آج تو پتھر باندھ لیا ہے لیکن کل پھر بھوک لگے گی میں بھی پاگل تو بھی پاگل ہم دونوں کی خوب جمے گی یار نے پانی پھیر دیا ہے خاک ہماری خاک ...

مزید پڑھیے

ویسے تو میرے مکاں تک تو چلا آتا ہے

ویسے تو میرے مکاں تک تو چلا آتا ہے پھر اچانک سے ترے ذہن میں کیا آتا ہے آہیں بھرتا ہوں کہ پوچھے کوئی آہوں کا سبب پھر ترا ذکر نکلتا ہے مزہ آتا ہے تیرے خط آج لطیفوں کی طرح لگتے ہیں خوب ہنستا ہوں جہاں لفظ وفا آتا ہے جاتے جاتے یہ کہا اس نے چلو آتا ہوں اب یہی دیکھنا ہے جاتا ہے یا آتا ...

مزید پڑھیے

دل پھر اوس کوچے میں جانے والا ہے

دل پھر اس کوچے میں جانے والا ہے بیٹھے بٹھائے ٹھوکر کھانے والا ہے ترک تعلق کا دھڑکا سا ہے دل کو وہ مجھ کو اک بات بتانے والا ہے کتنے ادب سے بیٹھے ہیں سوکھے پودے جیسے بادل شعر سنانے والا ہے یہ مت سوچ سرائے پر کیا بیتے گی تو تو بس اک رات بتانے والا ہے اینٹوں کو آپس میں ملانے والا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 198 سے 6203