قومی زبان

یوں حسرتوں کی گرد میں تھا دل اٹا ہوا

یوں حسرتوں کی گرد میں تھا دل اٹا ہوا جیسے درخت سے کوئی پتا گرا ہوا ہو ہی گیا ہے نبض شناس غم جہاں سینے میں عشق کے مرا دل کانپتا ہوا ملتا سراغ خاک مجھے میرے سائے کا ہر سمت ظلمتوں کا تھا جنگل اگا ہوا کل رات خواب میں جو مقابل تھا آئنہ میرا ہی قد مجھے نظر آیا بڑھا ہوا جانے بھی دو وہ ...

مزید پڑھیے

دم ہوا کے سوا کچھ اور نہیں

دم ہوا کے سوا کچھ اور نہیں بت خدا کے سوا کچھ اور نہیں شعر فہمی کہاں کہ اب لب پر مرحبا کے سوا کچھ اور نہیں آدمی ہے مگر ادھورا ہے پارسا کے سوا کچھ اور نہیں راہ ہستی کی منزل موہوم نقش پا کے سوا کچھ اور نہیں ابتدا درد دل کی کیا کہئے انتہا کے سوا کچھ اور نہیں اپنی پہچان آپ پیدا ...

مزید پڑھیے

مرے جنوں میں مری وفا میں خلوص کی جب کمی ملے گی

مرے جنوں میں مری وفا میں خلوص کی جب کمی ملے گی چمن گرفت خزاں میں ہوگا بہار اجڑی ہوئی ملے گی جواں ہے ہمت ہے عزم محکم نظر اٹھائیں تو اہل دانش الم کے تاریک افق پہ روشن شعاع امید بھی ملے گی تصور اس ماہرو کا ہوگا کبھی تو دل میں ضیا بدامن کبھی تو ظلمت کدے میں ہم کو کھلی ہوئی چاندنی ملے ...

مزید پڑھیے

فرشتے امتحان بندگی میں ہم سے کم نکلے

فرشتے امتحان بندگی میں ہم سے کم نکلے مگر اک جرم کی پاداش میں جنت سے ہم نکلے غم‌ دنیا و دیں ان کو نہ فکر نیک و بد ان کو محبت کرنے والے بے نیاز بیش و کم نکلے غرض کعبہ سے تھی جن کو نہ تھا مطلب کلیسا سے حد دیر و حرم سے بھی وہ آگے دو قدم نکلے سحر کی منزل روشن پہ جا پہنچے وہ دیوانے شب ...

مزید پڑھیے

نظر نظر سے ملانا کوئی مذاق نہیں

نظر نظر سے ملانا کوئی مذاق نہیں ملا کے آنکھ چرانا کوئی مذاق نہیں پہاڑ کاٹ تو سکتا ہے تیشۂ فرہاد پہاڑ سر پہ اٹھانا کوئی مذاق نہیں اڑانیں بھرتے رہیں لاکھ طائران خیال ستارے توڑ کے لانا کوئی مذاق نہیں لہو لہو ہے جگر داغ داغ ہے سینہ یہ دو دلوں کا فسانہ کوئی مذاق نہیں ہوائیں آج ...

مزید پڑھیے

گو آج اندھیرا ہے کل ہوگا چراغاں بھی

گو آج اندھیرا ہے کل ہوگا چراغاں بھی تخریب میں شامل ہے تعمیر کا ساماں بھی مظہر ترے جلووں کے مامن مری وحشت کے کہسار و گلستاں بھی صحرا و بیاباں بھی دم توڑتی موجیں کیا ساحل کا پتہ دیں گی ٹھہری ہوئی کشتی ہے خاموش ہے طوفاں بھی مجبور غم دنیا دل سے تو کوئی پوچھے احساس کی رگ میں ہے خار ...

مزید پڑھیے

حسن ہے محبت ہے موسم بہاراں ہے

حسن ہے محبت ہے موسم بہاراں ہے کائنات رقصاں ہے زندگی غزل خواں ہے عشرتوں کے متلاشی غم سے کیوں گریزاں ہے تیرگی کے پردے میں روشنی کا ساماں ہے گیت ہیں جوانی ہے ابر ہے بہاریں ہیں مضطرب ادھر میں ہوں تو ادھر پریشاں ہے دھوپ ہو کہ بارش ہو تو ہے مونس و ہمدم مجھ پہ یہ ترا احساں اے غم ...

مزید پڑھیے

جنوں پہ عقل کا سایا ہے دیکھیے کیا ہو

جنوں پہ عقل کا سایا ہے دیکھیے کیا ہو ہوس نے عشق کو گھیرا ہے دیکھیے کیا ہو گئی بہار مگر آج بھی بہار کی یاد دل حزیں کا سہارا ہے دیکھیے کیا ہو خموش شمع محبت ہے پھر بھی حسن کی ضو گلوں سے تا بہ ثریا ہے دیکھیے کیا ہو شب فراق کی بڑھتی ہوئی سیاہی میں خدا کو میں نے پکارا ہے دیکھیے کیا ...

مزید پڑھیے

تو نے نظروں کو بچا کر اس طرح دیکھا مجھے

تو نے نظروں کو بچا کر اس طرح دیکھا مجھے کیوں نہ کر جاتا بھری محفل میں دل تنہا مجھے شاخ در شاخ اب کوئی ڈھونڈا کرے پتہ مجھے میں تو خود ٹوٹا ہوں آندھی نے نہیں توڑا مجھے لغزش پا نے دیا ہر راہ میں دھوکا مجھے تا در منزل تو ہی اے جذب دل پہنچا مجھے صورت آئینہ حیرت سے وہ تکتا رہ گیا آئنہ ...

مزید پڑھیے

لب پر دل کی بات نہ آئی

لب پر دل کی بات نہ آئی واپس بیتی رات نہ آئی خشک ہوئیں رو رو کر آنکھیں مدھ ماتی برسات نہ آئی میری شب کی تاریکی میں تاروں کی سوغات نہ آئی مے خانے کی مست فضا میں راس مجھے ہیہات نہ آئی دل تو امڈا رو نا سکا میں چھائی گھٹا برسات نہ آئی میرا چاند نکلنے کو تھا شام سے پہلے رات نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 200 سے 6203