یوں حسرتوں کی گرد میں تھا دل اٹا ہوا
یوں حسرتوں کی گرد میں تھا دل اٹا ہوا جیسے درخت سے کوئی پتا گرا ہوا ہو ہی گیا ہے نبض شناس غم جہاں سینے میں عشق کے مرا دل کانپتا ہوا ملتا سراغ خاک مجھے میرے سائے کا ہر سمت ظلمتوں کا تھا جنگل اگا ہوا کل رات خواب میں جو مقابل تھا آئنہ میرا ہی قد مجھے نظر آیا بڑھا ہوا جانے بھی دو وہ ...