قومی زبان

لہو آنکھوں میں جمتا جا رہا ہے

لہو آنکھوں میں جمتا جا رہا ہے یہ دریا خشک پڑتا جا رہا ہے جسے صدیوں کی وسعت ہے میسر وہ لمحوں میں سمٹتا جا رہا ہے جسے دل میں اترنا چاہئے تھا وہی دل سے اترتا جا رہا ہے سفینہ پھر سے کوئی ضد کے چلتے ہواؤں سے الجھتا جا رہا ہے تماشا گر تو ہیں موجود لیکن یہ مجمع کیوں اکھڑتا جا رہا ...

مزید پڑھیے

رفتہ رفتہ درد دل یوں کم ہو جاتا ہے

رفتہ رفتہ درد دل یوں کم ہو جاتا ہے میرا غم اس کی خوشیوں میں ضم ہو جاتا ہے سانسوں کا سانسوں سے جب سنگم ہو جاتا ہے ریشہ ریشہ روح کا تب ریشم ہو جاتا ہے کوئی کشش ہے اس کی باتوں میں برتاؤ میں اس کے آگے ہر چہرہ مبہم ہو جاتا ہے یہی سوچ کر تم دل کی رکھوالی کرنا دوست کڑی دھوپ میں یہ کاغذ ...

مزید پڑھیے

تھا برف آتش میں ڈھل رہا ہے

تھا برف آتش میں ڈھل رہا ہے وہ خود کو یکسر بدل رہا ہے کسی نے ڈھالے ہیں موم کے بت کسی کا سورج پگھل رہا ہے ابھی زمیں پر گرے گا ٹپ سے بہت زیادہ اچھل رہا ہے نئی عبارت لکھے گا شاید وہ دائرے سے نکل رہا ہے اندھیرے پھر ہاتھ مل رہے ہیں پھر ایک جگنو سنبھل رہا ہے بجھا سمندر کی پیاس یارب یہ ...

مزید پڑھیے

کہیں دریا نہیں ہوتا کہیں صحرا نہیں ہوتا

کہیں دریا نہیں ہوتا کہیں صحرا نہیں ہوتا ضرورت پر ہماری کوئی بھی اپنا نہیں ہوتا کہانی ختم ہو جاتی کوئی صدمہ نہیں ہوتا بچھڑتے وقت وہ چھپ کر اگر رویا نہیں ہوتا بتاؤ کون سی شے کی کمی ہے میرے پیکر میں مجھے سمجھاؤ میرا عکس کیوں سمجھا نہیں ہوتا تمہاری یاد کے سائے میں یوں ہر وقت رہتا ...

مزید پڑھیے

درد دب جائے کسی طور نہ آنسو آئے

درد دب جائے کسی طور نہ آنسو آئے جذبۂ دل پہ بتا کس طرح قابو آئے تیرگی ان کو مٹانے پہ کمر بستہ تھی پھر بھی جنگل میں چمکتے ہوئے جگنو آئے دل کے صحرا میں بہت تیج کلانچے بھرتے شام ہوتے ہی تری یادوں کے آہو آئے تیرے احساس میں ڈوبوں تو مہک جائے دماغ تجھ کو سوچوں تو مرے جسم میں خوشبو ...

مزید پڑھیے

تم کو سوچا تیرگی میں دیر تک

تم کو سوچا تیرگی میں دیر تک میں نہایا روشنی میں دیر تک دھوپ میں رہنا تھا سارا دن ہمیں کیسے رہتے چاندنی میں دیر تک چیخ گھٹ کر رہ گئی دل میں مگر شور گونجا خامشی میں دیر تک پھر مجھے آواز دی اک شخص نے پھر میں ٹھہرا اس گلی میں دیر تک غرق ہو جانے سے پہلے کشتیاں لڑکھڑائی تھیں ندی میں ...

مزید پڑھیے

زمیں کو ناپ چکا آسمان باقی ہے

زمیں کو ناپ چکا آسمان باقی ہے ابھی پرندے کے اندر اڑان باقی ہے بدھائی تم کو کہ پہنچے تو اس بلندی پر مگر یہ دھیان بھی رکھنا ڈھلان باقی ہے میں اپنی نیند کی قسطیں چکاؤں گا کب تک تمہاری یاد کا کتنا لگان باقی ہے میں ایک موم کا بت ہوں تو دھوپ کا چہرا بچے گی کس کی انا امتحان باقی ...

مزید پڑھیے

کیا سب اس نے سن کر ان سنا کیا

کیا سب اس نے سن کر ان سنا کیا وہ خود میں اس قدر تھا مبتلا کیا میں ہوں گزرا ہوا سا ایک لمحہ مرے حق میں دعا کیا بد دعا کیا کرن آئی کہاں سے روشنی کی اندھیرے میں کوئی جگنو جلا کیا مسافر سب پلٹ کر آ رہے ہیں وہاں سے بند ہے ہر راستہ کیا میں اک مدت سے خود ہی گم شدہ ہوں بتاؤں آپ کو اپنا ...

مزید پڑھیے

جنوں میں ریت کو یوں ہی نہیں نچوڑا تھا

جنوں میں ریت کو یوں ہی نہیں نچوڑا تھا کسی کی پیاس زیادہ تھی پانی تھوڑا تھا پھر اس کے بعد تو آنکھوں سے نیند غائب تھی کسی خیال نے احساس کو جھنجھوڑا تھا تمام عمر بھٹکتے رہے تھے وحشت میں بس ایک مرتبہ ہم نے حصار توڑا تھا وجود رکھنا تھا اپنی شناخت کھو کر بھی ندی نے خود کو سمندر کی ...

مزید پڑھیے

کسی سراغ سے کمرے میں نور اترے گا

کسی سراغ سے کمرے میں نور اترے گا ضرور اندھیروں کا اک دن غرور اترے گا خفا ہے مجھ سے تو اس کو خفا ہی رہنے دو ملوں گا اس سے تو غصہ ضرور اترے گا پتا چلے گا تبھی کیا گنوا دیا تم نے تمہارے سر سے جب اس کا فطور اترے گا بس انتظار میں رہ جائے گی وہ شہزادی اڑن کھٹولا کہیں جا کے دور اترے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1986 سے 6203