قومی زبان

یہ رات تری زلف معنبر تو نہیں ہے

یہ رات تری زلف معنبر تو نہیں ہے یہ چاند ترا چہرۂ انور تو نہیں ہے ہر شخص مقدر کا سکندر تو نہیں ہے ہر اک کو غم عشق میسر تو نہیں ہے سمجھا ہے جسے سارا جہاں امن کا دشمن وہ شخص محبت کا پیمبر تو نہیں ہے کس طرح بنے دامن محبوب کی زینت آنسو ہے مری آنکھ میں گوہر تو نہیں ہے لا سکتا ہوں میں ...

مزید پڑھیے

مے خانے میں جام و سبو

مے خانے میں جام و سبو اور مسجد میں اللہ ہو ہو وہ تبسم یا آنسو اک تصویر کے دو پہلو خار پہ بھی ہے گل کا گماں اف یہ فریب رنگ و بو تیری نظر میں سارا جہاں میری نظر میں بس اک تو تیرا تکلم سحر آگیں تیری خموشی میں جادو سب ہیں وفا سے بیگانے وقت زمانہ قسمت تو چندن میں کب آئے پھول سونے ...

مزید پڑھیے

ٹکڑوں میں تم کیوں پھرتے ہو

ٹکڑوں میں تم کیوں پھرتے ہو کہتے کچھ ہو کچھ دکھتے ہو راتوں میں ہے کتنا سناٹا ساری راتیں کیوں جگتے ہو آنکھوں میں ہیں نیندیں اتنی کیا کرتے ہو کب سوتے ہو تھک کر میں خود کو کہتا ہوں تم چادر سے کیوں لمبے ہو جانے والا کب لوٹے گا دل سے اب بھی تم بچے ہو

مزید پڑھیے

یہ کیسے غم نکھارا جا رہا ہے

یہ کیسے غم نکھارا جا رہا ہے فقط اب دن گزارا جا رہا ہے بڑا ہی پیار کرتے ہیں وہ مجھ سے بدن یہ کہہ سنوارا جا رہا ہے کبھی آپس کبھی گھر اور کبھی تم مجھے کشتوں میں مارا جا رہا ہے ذرا سا کانپ اٹھے ٹھہرے پربت یہ کس کو یوں پکارا جا رہا ہے غضب لاشوں پہ کرتے رقص ہیں جو وہ کہتے ہیں مدارا جا ...

مزید پڑھیے

غریبوں کے آنگن ہیں سب سے بڑے

غریبوں کے آنگن ہیں سب سے بڑے یہ دنیا کے گلشن ہیں سب سے بڑے بڑی مختصر سی رہی بات یہ کہ ہم اپنے دشمن ہیں سب سے بڑے ذرا دیکھ جلتے ہوئے شہر کو سیاست کے روزن ہیں سب سے بڑے کہاں سے چلے ہم کہاں کے لیے ترقی کے توسن ہیں سب سے بڑے یہ خانہ بدوشی یہ آوارہ پن محبت میں پھسلن ہیں سب سے بڑے ترا ...

مزید پڑھیے

ملو گے تم نہیں چاہا کرو گے

ملو گے تم نہیں چاہا کرو گے بتاؤ عاشقی کا کیا کرو گے یقیں میں تم نے اپنا دل دیا تھا وفا میں جان تم مانگا کرو گے میں اپنی حد سے اب بے حد ہوئی ہوں تو کیا سوچے بنا لوٹا کرو گے لگائی ہے جو تم نے آگ جانم کبھی کیا اس کو تم تاپا کرو گے اسی کمرے میں اب بھی ہوں اکیلی تو کیا تم یاد بن پیچھا ...

مزید پڑھیے

بادۂ وحشت اثر سے مست ویرانے میں تھا

بادۂ وحشت اثر سے مست ویرانے میں تھا ایک عالم بے خودی کا تیرے دیوانے میں تھا جلوہ فرماتا وہ کعبے میں نہ بت خانے میں تھا ڈھونڈھتا تھا جس کو میں وہ دل کے کاشانے میں تھا حسرتیں تھیں رقص میں ساز طرب تھی آہ دل عیش دنیا بھر کا میرے ایک غم خانے میں تھا پوچھتا کیا ہے حقیقت اس کی مجھ سے ...

مزید پڑھیے

رنگ تصویر جہاں کو ترا نقشا سمجھا

رنگ تصویر جہاں کو ترا نقشا سمجھا ذرہ ذرہ کو میں اک حسن سراپا سمجھا محو حیرت جو تصور نے بنایا مجھ کو اپنی تصویر کو میں تیرا سراپا سمجھا بے خود جلوہ کبھی اور کبھی ہشیار رہا کبھی معبود کبھی خود کو میں بندہ سمجھا وائے غفلت کہ سراب آسا نہ جانا اس کو بھول اتنی ہوئی دنیا کو میں دنیا ...

مزید پڑھیے

نثار شمع ہونے بزم میں پروانہ آ پہنچا

نثار شمع ہونے بزم میں پروانہ آ پہنچا قریب منزل دیوانگی دیوانہ آ پہنچا ترانے حمد کے گلشن میں برگ گل سے سنتا ہوں زبان غنچہ پہ کیوں کر ترا افسانہ آ پہنچا اسے کہتے ہیں مل کر خاک میں اکسیر ہو جانا ہوا سر سبز وہ زیر زمیں جو دانہ آ پہنچا سفر اس بزم سے کرنے کو پھر رجعت کی ٹھانی ...

مزید پڑھیے

کیا ہے عشق نے آزاد دو جہاں سے ہمیں

کیا ہے عشق نے آزاد دو جہاں سے ہمیں نہ کچھ یہاں سے غرض ہے نہ کچھ وہاں سے ہمیں خودی کو بھول کے مست الست ہو جانا ملا ہے فیض یہ خم خانۂ مغاں سے ہمیں اذاں حرم میں ہے ناقوس ہے کنشت میں تو صدائیں آتی ہیں تیری کہاں کہاں سے ہمیں پھر آج اٹھا ہے وہ پردۂ حجاب کہیں شعاعیں سی نظر آتی ہیں کچھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1965 سے 6203