یہ رات تری زلف معنبر تو نہیں ہے
یہ رات تری زلف معنبر تو نہیں ہے یہ چاند ترا چہرۂ انور تو نہیں ہے ہر شخص مقدر کا سکندر تو نہیں ہے ہر اک کو غم عشق میسر تو نہیں ہے سمجھا ہے جسے سارا جہاں امن کا دشمن وہ شخص محبت کا پیمبر تو نہیں ہے کس طرح بنے دامن محبوب کی زینت آنسو ہے مری آنکھ میں گوہر تو نہیں ہے لا سکتا ہوں میں ...