قومی زبان

دل ہے برباد تمنا جاناں

دل ہے برباد تمنا جاناں اور ہم تجھ سے کہیں کیا جاناں چھوڑ کے ہم نے تو رستے سارے چن لیا پیار کا رستہ جاناں ٹوٹ سکتا ہے اگر تو چاہے درد سے دل کا یہ رشتہ جاناں تو ملے ہم سے تو بتلائیں تجھے ہم کو ارمان ہیں کیا کیا جاناں چاہیں کیا چاہنے والے تیرے تو جو چاہے وہی ہوگا جاناں خواب بننے ...

مزید پڑھیے

پیار تمہی سے کرتا ہے

پیار تمہی سے کرتا ہے یہ دل تم پر مرتا ہے راتوں کا یہ سناٹا مجھ سے باتیں کرتا ہے تجھ سے بچھڑ کر کیا بتلائیں کیسے وقت گزرتا ہے کوئی سلگتے موسم میں ٹھنڈی آہیں بھرتا ہے دل کے آئینے میں کون بنتا اور سنورتا ہے خاکۂ جاں میں پیار ترا رنگ انوکھے بھرتا ہے درد کا مارا دل دانشؔ تنہائی ...

مزید پڑھیے

دیوار و در سے دور ہمارا مکان ہے

دیوار و در سے دور ہمارا مکان ہے سر پر ہمارے دھوپ کا اک سائبان ہے یارو غم حیات سے بے اعتنائی کیا آیا ہے چند دن کے لئے میہمان ہے کب سے اسے رہی ہے خریدار کی طلب بازار زندگی میں جو غم کی دکان ہے کیوں ترک آرزو کے لئے کہہ رہے ہیں آپ شاید یہ آرزو تو محبت کی جان ہے دیوانگان عشق کا کیا ...

مزید پڑھیے

وہ ہوا کا مزاج رکھتے ہیں

وہ ہوا کا مزاج رکھتے ہیں ہم چراغوں کی طرح جلتے ہیں اس کی قدرت کو دیکھ کر یارو ہم بھی ایمان اس پہ رکھتے ہیں جھوم کر تو اٹھے ہیں یہ بادل دیکھیے اب کہاں برستے ہیں ساری بے رنگ سوچ کے چہرے لفظ پہنیں تو پھر نکھرتے ہیں کیا خبر تھی ہمیں کہ لوگوں کی آستینوں میں سانپ پلتے ہیں

مزید پڑھیے

سوچنا ہے تو پھر کھری سوچے

سوچنا ہے تو پھر کھری سوچے دل کوئی بات نہ بری سوچے بھیک دے کر نہ جانے کیا لیں گے اک بھکارن ڈری ڈری سوچے کیوں گنوایا تھا راستے میں اسے آ کے منزل پہ رہبری سوچے ٹھہرنا ہوگا کیا اسی گھر میں آنکھ میں نیند کی پری سوچے میں وفا کے سوا نہ سوچوں کچھ وہ جو سوچے ستم گری سوچے

مزید پڑھیے

وصل کیا ہے شمع جلا کر

وصل کیا ہے شمع جلا کر پروانے کو راکھ بنا کر کبھی طلب نہ پاؤں سمیٹے چھوٹی پڑ جائے ہر چادر وہ کیا چین سے سویا ہوگا میری نیند کو پنکھ لگا کر میں تو سب کچھ بھول چکا ہوں تو بھولے تو بات برابر دیواروں کی تنہائی کو دور کروں تصویر لگا کر

مزید پڑھیے

دن منہ کھولے گاتی دھوپ

دن منہ کھولے گاتی دھوپ رات سے کیوں شرماتی دھوپ کھیل کود کر شام ڈھلے کیوں اپنے گھر کو جاتی دھوپ چلتے رہنا ہی جیون ہے ہم کو یہ سمجھاتی دھوپ دن جیسے ساتھی کے دکھ میں رو رو کر مر جاتی دھوپ کبھی کبھی اچھی لگتی ہے ہلکی سی برساتی دھوپ

مزید پڑھیے

وقت سفر جو ساتھ چلے تھے

وقت سفر جو ساتھ چلے تھے لگتا تھا وہ لوگ بھلے تھے کانٹوں کی تاثیر لئے کیوں پھولوں جیسے لوگ ملے تھے اوروں کے گھر روشن کرنے ساری ساری رات جلے تھے پیاس بجھانا کھیل نہیں تھا یوں تو دریا پاؤں تلے تھے شام ہوئی تو سورج سوچے سارا دن بیکار جلے تھے

مزید پڑھیے

دل میں غم آنکھ میں ہنسی دیکھی

دل میں غم آنکھ میں ہنسی دیکھی یوں بھی اشکوں کی خود کشی دیکھی دینے والے نے ہم کو خوب دیا ہم نے ہر چیز میں کمی دیکھی کوئی بھی گھر نہیں تھا شیشہ کا پتھروں سے بھری گلی دیکھی وہ ہوا چپ تو میری نظروں نے ایک خوش رنگ سی کلی دیکھی ان کے دل پر نہیں جبینوں پر اک ریاکار بندگی دیکھی

مزید پڑھیے

ہنستے ہنستے وہ جو رویا

ہنستے ہنستے وہ جو رویا کوئی دیوانہ تھا گویا دل کے دکھ سے دیکھو میں نے آنکھوں کا یہ آنگن دھویا آنسو پائے حیرت کیوں ہے وہ کاٹا ہے جو تھا بویا برس لگے پانے میں جس کو اک لمحہ میں اس کو کھویا ساری ساری رات میں جاگا وہ میری آنکھوں میں سویا

مزید پڑھیے
صفحہ 1928 سے 6203