قومی زبان

تری تنہائی کا دکھ آشکارا ہو رہا ہے

تری تنہائی کا دکھ آشکارا ہو رہا ہے بچھڑتی ساعتوں میں تو ہمارا ہو رہا ہے حساب دوستاں در دل اگر ہے تو نہ جانے یہاں اب کیا مرتب گوشوارا ہو رہا ہے عذاب مصلحت کی قید میں ہیں لوگ اور تو سمجھتا ہے یہاں سب کا گزارا ہو رہا ہے کہیں سے اک کڑی گم ہے ہماری گفتگو میں بظاہر تو یہ دکھ ترسیل ...

مزید پڑھیے

کسی پہ اپنا کمال ظاہر نہیں کرے گا

کسی پہ اپنا کمال ظاہر نہیں کرے گا وہ فتح سے پہلے چال ظاہر نہیں کرے گا جلو میں لے کر چلے گا لشکر مگر عدو پر وہ اپنا جلوہ جلال ظاہر نہیں کرے گا اسے کبھی گفتگو کی مہلت نہیں ملے گی جو آج بھی دل کا حال ظاہر نہیں کرے گا یہ دل کہ شفاف آئنہ ہی سہی مگر اب ترا مکمل جمال ظاہر نہیں کرے ...

مزید پڑھیے

طلب ہے دریوزہ گر

میں اپنی روح عذاب گر سے یہ کہہ رہا تھا کہ روح کی پیاس اور بدن کی طلب میں ایک ربط باہمی ہے نہ روح سرشار ہے نہ تابندگی تن ہے یہ ریزہ ریزہ جو رزق پہنچا ہے تار و پو کا سرشتۂ نا تواں ہے عرض ہنر کے دامان بے رفو کا یہ لقمۂ خشک و حلق فرسا کبھی تو لذت شعار کام و دہن بھی ہوتا فصیل تن ماورائے پس ...

مزید پڑھیے

ڈرائنگ روم

دودھیا رنگ کے قمقمے دودھیا روشنی جامنی رنگ شیشوں پہ یہ روشنی کا دھواں ذہن کی دھیمی دھیمی سلگتی ہوئی آگ کا امتحاں کچھ گرے رنگ کے سوٹ کچھ چمپئی ساریاں دست نازک میں دست صبا ادھ کھلی خواب آلود آنکھوں میں افسانے نا خواستہ گفتگو ہم نشینی سے انگڑائی کے ساتھ پہلو تہی جذب کرتی پسینے کو ...

مزید پڑھیے

ڈھاتے ہیں اب وہ ظلم و ستم کم بہت ہی کم

ڈھاتے ہیں اب وہ ظلم و ستم کم بہت ہی کم یعنی ہے ان کا لطف و کرم کم بہت ہی کم جس راہ میں ہیں رنج و الم کم بہت ہی کم اٹھتے ہیں اس پہ میرے قدم کم بہت ہی کم اس سے مراد یہ تو نہیں دل ہے مطمئن مانا ہے میری آنکھ میں نم کم بہت ہی کم اے دوست اور ہے ترا دل اور ہی زباں اب تجھ کو منہ لگائیں گے ہم ...

مزید پڑھیے

عجیب دکھ ہے لبوں پر گلا کوئی بھی نہ تھا

عجیب دکھ ہے لبوں پر گلا کوئی بھی نہ تھا بچھڑتے وقت کسی سے خفا کوئی بھی نہ تھا ہر ایک شخص کو سچے حروف ازبر تھے کسی کے پاس مگر معجزہ کوئی بھی نہ تھا بہ نام حسن سبھی گفتگو کمال کی تھی یہ اور بات سر آئنہ کوئی بھی نہ تھا عذاب ذہن تھی اک مہر آب و دانے پر ترے نگر میں خوشی سے رہا کوئی بھی ...

مزید پڑھیے

حیرت ہے کہ جو ظلم سے تقدیر بنائیں

حیرت ہے کہ جو ظلم سے تقدیر بنائیں کچھ لوگ انہیں صاحب توقیر بنائیں اک خواب میں رکھیں کوئی گزرا ہوا لمحہ اک خواب سے آئندہ کی تعبیر بنائیں پتھر پہ کریں نقش ترے ہجر کا قصہ پانی پہ ترے وصل کی تصویر بنائیں شاید کسی زندان سے نکلے نہیں اب تک یہ لوگ جو کاغذ پہ بھی زنجیر بنائیں اک بار ...

مزید پڑھیے

وجود خاک سے باہر نکال دے گا وہ

وجود خاک سے باہر نکال دے گا وہ مجھے بھی اپنے سراپے میں ڈھال دے گا وہ میں جانتا ہوں محبت میں ہارنے کے بعد سبھی کے سامنے میری مثال دے گا وہ شکوہ بخت پہ مسرور شخص کو آخر کسی فقیر کے قدموں میں ڈال دے گا وہ میں اس کے حق میں یہاں آخری دعا گو ہوں مجھے بھی اپنی صفوں سے نکال دے گا وہ کوئی ...

مزید پڑھیے

ہمیشہ جیتنے والا کبھی تو ہارا بھی ہو

ہمیشہ جیتنے والا کبھی تو ہارا بھی ہو محبتوں میں کوئی فیصلہ ہمارا بھی ہو میں اس کنارے پہ بیٹھا ہوں اور سوچتا ہوں مری گرفت میں دریا کا وہ کنارا بھی ہو یہ شہر چھوڑنا مشکل تو ہے مگر سر دست کسی کو میرا ٹھہرنا یہاں گوارا بھی ہو مجھے قبول نہیں تہمت دعا اور وہ یہ چاہتا ہے کسی نے اسے ...

مزید پڑھیے

ترے آسماں سے عذاب کیوں نہیں ٹوٹتا

ترے آسماں سے عذاب کیوں نہیں ٹوٹتا مری نیند اور مرا خواب کیوں نہیں ٹوٹتا ترا ذکر کرتا ہوں صبح و شام نماز میں یہ طلسم اجر و ثواب کیوں نہیں ٹوٹتا مرے خد و خال بکھرتے کیوں نہیں راہ میں ترے آئینے کا سراب کیوں نہیں ٹوٹتا ترے لفظ لفظ کی منتظر ہیں سماعتیں لب حسن تیرا حجاب کیوں نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1918 سے 6203