قومی زبان

آنکھوں میں ایک خواب تھا وہ بھی پگھل گیا

آنکھوں میں ایک خواب تھا وہ بھی پگھل گیا تم کیا گئے کہ شہر کا موسم بدل گیا جلتا رہا ہواؤں کے آگے مرا چراغ اک سانحہ تھا ماں کی دعاؤں سے ٹل گیا کیا ضبط غم کی آگ ہے مجھ میں لگی ہوئی میرے قریب سے جو گیا وہ بھی جل گیا چپ چاپ تھے تو کوئی ہمیں پوچھتا نہ تھا آندھی کا زور دیکھ کے دریا سنبھل ...

مزید پڑھیے

اجڑا لگتا ہے غریبوں کا نگر شام کے بعد

اجڑا لگتا ہے غریبوں کا نگر شام کے بعد دیکھ لیتے ہیں وہ امید سحر شام کے بعد دھوپ رسوائی کا سامان لیے پھرتی ہے اس کو آنا تھا تو آ جاتا مگر شام کے بعد صبح ہوتے ہی وہ مرجھا گیا توبہ توبہ کھل گیا تھا جو محبت کا ثمر شام کے بعد وہ گلستاں میں رہے یا کسی ویرانے میں ڈھونڈ لیتا ہے اسے ذوق ...

مزید پڑھیے

آج کی شام ٹھہر جاؤ غزل ہونے تک

آج کی شام ٹھہر جاؤ غزل ہونے تک التجا ہے کہ نہ گھر جاؤ غزل ہونے تک تم گل رعنا ہو خوش رنگ ہو خوش بخت بھی ہو خوشبو بن بن کے بکھر جاؤ غزل ہونے تک سوئے احساس کی لہروں میں مچا دو ہلچل آنکھ سے دل میں اتر جاؤ غزل ہونے تک پھر خدا جانے یہ آئینہ رہے یا نہ رہے آج موقع ہے سنور جاؤ غزل ہونے ...

مزید پڑھیے

خواہشیں ہیں بہت آرزوئیں بہت سوچتی ہوں کہ تم بن یہ گھر کیا کروں

خواہشیں ہیں بہت آرزوئیں بہت سوچتی ہوں کہ تم بن یہ گھر کیا کروں راہ چلتے ہوئے تھک گئے ہیں قدم ختم ہوتا نہیں یہ سفر کیا کروں کوئی سورج مرے ساتھ چلتا نہیں کوئی سایہ بھی مجھ سے الجھتا نہیں چاند بھی اب نکلتا نہیں ہے یہاں سونا سونا ہے دل کا نگر کیا کروں میں ترا دکھ بنوں میں ترا غم ...

مزید پڑھیے

دائرے اور آسمان

ہماری سب لکیریں دائروں میں گھومتی ہیں ہمارے سارے رستے ایک ہی محور کی جانب لوٹ آتے ہیں صبح دم اسپ تازہ کی طرح گھر سے نکل کر دائروں میں دوڑنا اور دن ڈھلے آخر اسی مرکز پہ واپس لوٹ آنا ہی ہماری زندگی ہے ہمیں بس ایک جانب دیکھنے کا حکم صادر ہے ہماری سوچ بینائی مقدر سب انہی رستوں کے قیدی ...

مزید پڑھیے

وہ کتنا ٹوٹ چکا ہے یہ کوئی جان نہ لے

وہ کتنا ٹوٹ چکا ہے یہ کوئی جان نہ لے غم حیات تو اور اس کا امتحان نہ لے نصیب ہوگی تجھے منزل مراد اک دن کسی شجر کا کوئی بھی تو سائبان نہ لے اسی پہ چھوڑ دے اب جو ہے کائنات کا رب یہ تیرا کام نہیں تو کسی کی جان نہ لے ترے عدو ہیں تری گھات میں یہاں ہر سو تو اس نگر میں کرائے کا اب مکان نہ ...

مزید پڑھیے

دل میں تمہارے درد کا اب سلسلہ نہیں

دل میں تمہارے درد کا اب سلسلہ نہیں تم مل گئے تو کوئی بھی مجھ کو گلہ نہیں دولت تھی میرے پاس تو یاروں کا تھا ہجوم غربت میں کوئی اب مجھے پہچانتا نہیں گرمی نے خاک کر دیا ہر ایک آشیاں معصوم پنچھیوں کا کوئی آسرا نہیں سج دھج کے کیسے نکلے ہماری غزل جناب اس انجمن میں ہائے کوئی آئنہ ...

مزید پڑھیے

حبیب ماہ کنعانی کے صدقے

حبیب ماہ کنعانی کے صدقے میں اپنے یوسف ثانی کے صدقے جبیں میری طرح داغ غلامی میں اس نقش سلیمانی کے صدقے ہے آئینہ تری صورت پہ حیراں میں آئینہ کی حیرانی کے صدقے سراپا بندگی ہے کبریائی میں اس تکمیل انسانی کے صدقے

مزید پڑھیے

تیرے خوابوں میں محبت کی دہائی دوں گا

تیرے خوابوں میں محبت کی دہائی دوں گا جب کوئی اور نہ ہوگا تو دکھائی دوں گا میری دنیا میں فقط ایک خدا کافی ہے دوستو کتنے خداؤں کو خدائی دوں گا دل کو میں قید قفس سے تو بچا لے آیا کب اسے قید نشیمن سے رہائی دوں گا کوئی انساں نظر آئے تو بلاؤ اس کو اسے اس دور میں جینے پہ بدھائی دوں ...

مزید پڑھیے

چھوٹی سی بے رخی پہ شکایت کی بات ہے

چھوٹی سی بے رخی پہ شکایت کی بات ہے اور وہ بھی اس لئے کہ محبت کی بات ہے میں نے کہا کہ آئے ہو کتنے دنوں کے بعد کہنے لگے حضور یہ فرصت کی بات ہے میں نے کہا کی مل کے بھی ہم کیوں نہ مل سکے کہنے لگے حضور یہ قسمت کی بات ہے میں نے کہا کہ رہتے ہو ہر بات پر خفا کہنے لگے حضور یہ قربت کی بات ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1896 سے 6203