قومی زبان

اپنے سائے سے بھی ڈرتی ہے تجھے کیا معلوم

اپنے سائے سے بھی ڈرتی ہے تجھے کیا معلوم زندگی عکس بدلتی ہے تجھے کیا معلوم دن تو سورج ہے کسی طرح سے ڈھل جاتا ہے رات آنکھوں میں ٹھہرتی ہے تجھے کیا معلوم میرے چہرے پہ لکھے حرف تو پڑھ لیتا ہے جو میرے دل پہ گزرتی ہے تجھے کیا معلوم یہ ترے نام سے منسوب بھی ہو سکتی ہے سانس رہ رہ کے ...

مزید پڑھیے

سارے دکھ بھول گئے سارے ستم بھول گئے

سارے دکھ بھول گئے سارے ستم بھول گئے تم کو دیکھا تو سبھی رنج و الم بھول گئے ان کو وہ لکھ دیا جو ہم کو نہیں لکھنا تھا خط میں جو کچھ ہمیں کرنا تھا رقم بھول گئے آپ سے ہم نے نہ ملنے کی قسم کھائی تھی جانے کیا ہو گیا ہم اپنی قسم بھول گئے مل گیا نقش قدم تیرا جبیں کو اپنی لوگ کہتے ہیں کہ ہم ...

مزید پڑھیے

کیا کھویا تھا کیا پایا تھا اب تو یہ بھی یاد نہیں

کیا کھویا تھا کیا پایا تھا اب تو یہ بھی یاد نہیں کس سے بچھڑے کون ملا تھا اب تو یہ بھی یاد نہیں یاد ہے بس اتنا ہی مجھ کو میں نے پیڑ پہ لکھا تھا لیکن کس کا نام لکھا تھا اب تو یہ بھی یاد نہیں ہلکا ہلکا یاد ہے اتنا کچھ نہ کچھ تو ٹوٹا تھا دل تھا یا پھر عہد وفا تھا اب تو یہ بھی یاد ...

مزید پڑھیے

خوشی ہر دم نہیں رہتی مسلسل غم نہیں ہوتا

خوشی ہر دم نہیں رہتی مسلسل غم نہیں ہوتا محبت میں ہمیشہ ایک سا موسم نہیں ہوتا سلیقے سے بچھڑتے ہم پشیمانی نہیں ہوتی تمہیں صدمہ نہیں ہوتا ہمیں بھی غم نہیں ہوتا بچھڑ کر بھی بہت نزدیک رہتا ہے ترا سایہ وہ مجھ سے دور جاتا ہے مگر مدھم نہیں ہوتا شکستہ پاؤں والے بھی تو منزل تک پہنچتے ...

مزید پڑھیے

تیرے نام ہیں روشن راتیں اپنے نام اندھیرے ہیں

تیرے نام ہیں روشن راتیں اپنے نام اندھیرے ہیں ساری خوشیاں اب تیری ہیں جو غم ہیں وہ میرے ہیں جھوٹ موٹ کے ان خوابوں سے آنکھوں کو برباد نہ کر خواب کو خواب ہی رہنے دے بس میرے ہیں نہ تیرے ہیں مکر و ریا کی یہ دنیا بھی دیکھو بین بجاتی ہے ان راہوں پہ تم مت جانا جن راہوں پہ سپیرے ہیں کوئی ...

مزید پڑھیے

نہ ہو آرزو کچھ یہی آرزو ہے

نہ ہو آرزو کچھ یہی آرزو ہے فقط میں ہی میں ہوں تو پھر تو ہی تو ہے نہ یہ ہے نہ وہ ہے نہ میں ہوں نہ تو ہے ہزاروں تصور اور اک آرزو ہے نہ امید جھوٹی نہ کچھ یاس سچی نہیں جو کہیں بھی وہی چار سو ہے کسے ڈھونڈھتے ہیں یہی ڈھونڈھتے ہیں یہی جستجو ہے اگر جستجو ہے جگائے گا کس طرح شور ...

مزید پڑھیے

اک حسین لا جواب دیکھا ہے

اک حسین لا جواب دیکھا ہے رات کو آفتاب دیکھا ہے گورا مکھڑا یے سرخ گال ترے چاندنی میں گلاب دیکھا ہے نرگسی آنکھ زلف شب رنگی بادلوں کا جواب دیکھا ہے جھومتے جام سا چھلکتا بدن ایک جام شراب دیکھا ہے ہم تو مل کر نہ مل سکے تم کو تم کو دیکھا کہ خواب دیکھا ہے

مزید پڑھیے

وہ ستم گر ہے خیالات سمجھنے والا

وہ ستم گر ہے خیالات سمجھنے والا مجھ سے پہلے مرے جذبات سمجھنے والا میں نے رکھا ہے ہمیشہ ہی تبسم لب پر رو دیا کیوں مرے حالات سمجھنے والا جو نہ سمجھے تیری منزل وہ یوں ہی چلتا رہا رک گیا تیرے مقامات سمجھنے والا جو نہ سمجھے وہ بناتے رہے لاکھوں باتیں ہوا خاموش تری بات سمجھنے ...

مزید پڑھیے

یا رب ترے کرم سے یہ سودا کریں گے ہم

یا رب ترے کرم سے یہ سودا کریں گے ہم دنیا میں پی کے خلد میں توبہ کریں گے ہم یوں رسم حسن و عشق کو رسوا کریں گے ہم تم منتظر رہو گے نہ آیہ کریں گے ہم آئینے میں خود اپنا تماشا کریں گے ہم یوں بھی شب فراق گزارہ کریں گے ہم جب تک نہ نظر آؤ گے ایسا کریں گے ہم ہر روز اک خدا کو تراشا کریں گے ...

مزید پڑھیے

با خبر تھا اک نظر میں دو جہاں لے جائے گا

با خبر تھا اک نظر میں دو جہاں لے جائے گا میری جاں بن کر وہ اک دن میری جاں لے جائے گا آخری ہچکی سے پہلے چارہ گر سے پوچھ لوں جو نظر آتا نہیں رشتہ کہاں لے جائے گا مے کدہ دیر و حرم یا کوئی دوانوں کہ بزم تجھ سے یے بچھڑا ہوا لمحہ کہاں لے جائے گا وہ جو پچھلے سال سب کھیتوں کو سونا دے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1895 سے 6203