قومی زبان

تیرے در پر مقام رکھتے ہیں

تیرے در پر مقام رکھتے ہیں قصد دار السلام رکھتے ہیں ابتدا اپنی انتہا سے پرے ناتمامی تمام رکھتے ہیں آسماں سے کسے امید نجات آشیاں زیر دام رکھتے ہیں ایک یوسف کہ ساتھ غربت میں ایسے لاکھوں غلام رکھتے ہیں بے بہا شے ہوں میں کہ وہ مجھ کو ناخریدہ غلام رکھتے ہیں سب کی سنتے ہیں کرتے ...

مزید پڑھیے

ہر عداوت کی ابتدا ہے عشق

ہر عداوت کی ابتدا ہے عشق کہ محبت کی انتہا ہے عشق لو زلیخا کو کب ہوا ہے عشق کس قدر طاقت آزما ہے عشق فلک و مدعی و یار و اجل سب بھلے ہیں مگر برا ہے عشق دیکھیے اس کا ہوگا کیا انجام اب خدا سے ہمیں ہوا ہے عشق ہو چکا ہم سے کچھ جو ہونا تھا تو نے یہ حال کیا کیا ہے عشق وامق و قیس و کوہ کن ...

مزید پڑھیے

نہ پہنچے ہاتھ جس کا ضعف سے تا زیست دامن تک

نہ پہنچے ہاتھ جس کا ضعف سے تا زیست دامن تک سراغ خوں اب اس کا مر کے جائے خاک گردن تک سر و ساماں سے ہیں یہ بے سر و سامانیاں اپنی کہ ہے جوش جنوں میرا گریباں گیر دامن تک نہ کی غفلت سے قدر دل عبث الزام دل بر پر متاع خفتہ کے جانے کے سو رستے ہیں رہزن تک یہ حیلہ بھی نہیں کم موت کے آنے کو گر ...

مزید پڑھیے

تھک تھک گئے ہیں عاشق درماندۂ فغاں ہو

تھک تھک گئے ہیں عاشق درماندۂ فغاں ہو یا رب کہیں وہ غفلت فریاد بے کساں ہو یا قہر ہے وہ شوخی یا پردہ ہے نظر کا دل میں تو اس کا گھر ہو اور آنکھ سے نہاں ہو یہ شور بھر رہا ہے فریاد کا جہاں میں جو بات لب پہ آئی الٹی پھری فغاں ہو کس کس دعا کو مانگیں کیا کیا ہوس نکالیں اک جاں کدھر کدھر ہو ...

مزید پڑھیے

محبت وہ ہے جس میں کچھ کسی سے ہو نہیں سکتا

محبت وہ ہے جس میں کچھ کسی سے ہو نہیں سکتا جو ہو سکتا ہے وہ بھی آدمی سے ہو نہیں سکتا یہ کہنا ہے تو کیا کہنا کہ کہتے کہتے رک جانا بیان حسرت دل بھی تو جی سے ہو نہیں سکتا اچٹتی سی نگاہیں کب جگر کے پار ہوتی ہیں کرو خوں دوست بن کر دشمنی سے ہو نہیں سکتا ہمیں کیوں دل دیا اور دل ربائی ان ...

مزید پڑھیے

وہی وعدہ ہے وہی آرزو وہی اپنی عمر تمام ہے

وہی وعدہ ہے وہی آرزو وہی اپنی عمر تمام ہے وہی چشم ہے وہی راہ ہے وہی صبح ہے وہی شام ہے وہی خستہ حال خراب ہے وہی خواب کشتۂ خواب ہے وہی زندگی کو جواب ہے نہ سلام ہے نہ پیام ہے وہی جوش نالہ و آہ میں وہی شعلہ جان تباہ میں وہی برق یاس نگاہ میں جو خیال ہے سو وہ خام ہے وہی خواب و خور کی ...

مزید پڑھیے

اے خار خار حسرت کیا کیا فگار ہیں ہم

اے خار خار حسرت کیا کیا فگار ہیں ہم کیا حال ہوگا اس کا جس دل میں خار ہیں ہم ہر چند دل میں تیرے ظالم غبار ہیں ہم کتنے دبے ہوئے ہیں کیا خاکسار ہیں ہم کیا جانے کیا دکھائے کم بخت راز دشمن بے اختیار ہو تم اور بے قرار ہیں ہم واں شوخیوں نے مارے ناکام کیسے کیسے یاں سادگی سے کیا کیا ...

مزید پڑھیے

کوئی کیسا ہی ثابت ہو طبیعت آ ہی جاتی ہے

کوئی کیسا ہی ثابت ہو طبیعت آ ہی جاتی ہے خدا جانے یہ کیا آفت ہے آفت آ ہی جاتی ہے وہ کیسے ہی چلیں تھم تھم قیامت آ ہی جاتی ہے بچے کوئی کسی ڈھب سے پہ شامت آ ہی جاتی ہے ستم کر کے ستم گر کی نظر نیچی ہی رہتی ہے برائی پھر برائی ہے ندامت آ ہی جاتی ہے زلیخا بے خرد آوارہ لیلیٰ بد مزہ ...

مزید پڑھیے

ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں تھیں نگر روشن تھا

ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں تھیں نگر روشن تھا ہم جسے چھوڑ کے آئے تھے وہ گھر روشن تھا روشنی میں بھی اندھیروں کا گماں ہوتا ہے تم مرے ساتھ تھے جب تک تو سفر روشن تھا وہ مجھے چھوڑ گیا پر اسے معلوم نہ تھا دور تک عزم سفر ساتھ تھا در روشن تھا لوگ شاید اسے آثار قدیمہ سمجھیں اس اداسی پہ نہ جا ...

مزید پڑھیے

جم گئی آنکھ میں تعبیر پگھلتی ہی نہیں

جم گئی آنکھ میں تعبیر پگھلتی ہی نہیں چاندنی رات مرے خواب میں ڈھلتی ہی نہیں پہلے یوں تھا مری آنکھیں نہیں پتھرائی تھیں اب تو آنسو کی کوئی بوند نکلتی ہی نہیں خالی آنکھوں سے تکا کرتی ہوں آنگن اپنا دوپہر ہے جو تری یاد کی ڈھلتی ہی نہیں جانے کس خوف سے سہمی سی ہے بچی میری اب کھلونے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1894 سے 6203