تیرے در پر مقام رکھتے ہیں
تیرے در پر مقام رکھتے ہیں قصد دار السلام رکھتے ہیں ابتدا اپنی انتہا سے پرے ناتمامی تمام رکھتے ہیں آسماں سے کسے امید نجات آشیاں زیر دام رکھتے ہیں ایک یوسف کہ ساتھ غربت میں ایسے لاکھوں غلام رکھتے ہیں بے بہا شے ہوں میں کہ وہ مجھ کو ناخریدہ غلام رکھتے ہیں سب کی سنتے ہیں کرتے ...