قومی زبان

ہونٹوں پہ ہنسی آنکھ میں تاروں کی لڑی ہے

ہونٹوں پہ ہنسی آنکھ میں تاروں کی لڑی ہے وحشت بڑے دلچسپ دوراہے پہ کھڑی ہے دل رسم و رہ شوق سے مانوس تو ہو لے تکمیل تمنا کے لیے عمر پڑی ہے چاہا بھی اگر ہم نے تری بزم سے اٹھنا محسوس ہوا پاؤں میں زنجیر پڑی ہے آوارہ و رسوا ہی سہی ہم منزل شب میں اک صبح بہاراں سے مگر آنکھ لڑی ہے کیا نقش ...

مزید پڑھیے

صراحی کا بھرم کھلتا نہ میری تشنگی ہوتی

صراحی کا بھرم کھلتا نہ میری تشنگی ہوتی ذرا تم نے نگاہ ناز کو تکلیف دی ہوتی مقام عاشقی دنیا نے سمجھا ہی نہیں ورنہ جہاں تک تیرا غم ہوتا وہیں تک زندگی ہوتی تمہاری آرزو کیوں دل کے ویرانے میں آ پہنچی بہاروں میں پلی ہوتی ستاروں میں رہی ہوتی زمانے کی شکایت کیا زمانہ کس کی سنتا ہے مگر ...

مزید پڑھیے

دن چھپا اور غم کے سائے ڈھلے

دن چھپا اور غم کے سائے ڈھلے آرزو کے نئے چراغ جلے ہم بدلتے ہیں رخ ہواؤں کا آئے دنیا ہمارے ساتھ چلے لب پہ ہچکی بھی ہے تبسم بھی جانے ہم کس سے مل رہے ہیں گلے دل کے ان حوصلوں کا حال نہ پوچھ جو ترے دامن کرم میں پلے کون یاد آ گیا اذاں کے وقت بجھتا جاتا ہے دل چراغ جلے مصلحت سرنگوں خرد ...

مزید پڑھیے

دل دیوانہ عرض حال پر مائل تو کیا ہوگا

دل دیوانہ عرض حال پر مائل تو کیا ہوگا مگر وہ پوچھ بیٹھے خود ہی حال دل تو کیا ہوگا ہمارا کیا ہمیں تو ڈوبنا ہے ڈوب جائیں گے مگر طوفان جا پہنچا لب ساحل تو کیا ہوگا شراب ناب ہی سے ہوش اڑ جاتے ہیں انساں کے ترا کیف نظر بھی ہو گیا شامل تو کیا ہوگا خرد کی رہبری نے تو ہمیں یہ دن دکھائے ...

مزید پڑھیے

اشکوں میں حسن دوست دکھاتی ہے چاندنی

اشکوں میں حسن دوست دکھاتی ہے چاندنی شبنم کو چار چاند لگاتی ہے چاندنی اب بھی اداس اداس ہیں راتیں ترے بغیر اب بھی بجھی بجھی نظر آتی ہے چاندنی جس نے چراغ شام غریباں بجھا دیا اس ہاتھ کا مذاق اڑاتی ہے چاندنی تیرے فروغ حسن سے یہ بھی نہ ہو سکا نظروں کے حوصلے تو بڑھاتی ہے ...

مزید پڑھیے

جہان آرزو آواز ہی آواز ہوتا ہے

جہان آرزو آواز ہی آواز ہوتا ہے بڑی مشکل سے احساس شکست ساز ہوتا ہے ہمیں کیا آپ انجام محبت سے ڈراتے ہیں ہمارے خون سے ہر دور کا آغاز ہوتا ہے قفس ہے دام ہے بھڑکی ہوئی ہے آتش گل بھی اسی ماحول میں اندازۂ پرواز ہوتا ہے پگھل جاتی ہیں زنجیریں سلگ اٹھتی ہیں دیواریں لب خاموش میں وہ شعلۂ ...

مزید پڑھیے

وہ کب آئیں خدا جانے ستارو تم تو سو جاؤ

وہ کب آئیں خدا جانے ستارو تم تو سو جاؤ ہوئے ہیں ہم تو دیوانے ستارو تم تو سو جاؤ کہاں تک مجھ سے ہمدردی کہاں تک میری غم خواری ہزاروں غم ہیں انجانے ستارو تم تو سو جاؤ گزر جائے گی غم کی رات امیدو تو جاگ اٹھو سنبھل جائیں گے دیوانے ستارو تم تو سو جاؤ ہمیں روداد ہستی رات بھر میں ختم ...

مزید پڑھیے

تم نہ مانو مگر حقیقت ہے

تم نہ مانو مگر حقیقت ہے عشق انسان کی ضرورت ہے جی رہا ہوں اس اعتماد کے ساتھ زندگی کو مری ضرورت ہے حسن ہی حسن جلوے ہی جلوے صرف احساس کی ضرورت ہے اس کے وعدے پہ ناز تھے کیا کیا اب در و بام سے ندامت ہے اس کی محفل میں بیٹھ کر دیکھو زندگی کتنی خوبصورت ہے راستہ کٹ ہی جائے گا قابلؔ شوق ...

مزید پڑھیے

حیرتوں کے سلسلے سوز نہاں تک آ گئے

حیرتوں کے سلسلے سوز نہاں تک آ گئے ہم نظر تک چاہتے تھے تم تو جاں تک آ گئے نا مرادی اپنی قسمت گمرہی اپنا نصیب کارواں کی خیر ہو ہم کارواں تک آ گئے ان کی پلکوں پر ستارے اپنے ہونٹوں پہ ہنسی قصۂ غم کہتے کہتے ہم کہاں تک آ گئے زلف میں خوشبو نہ تھی یا رنگ عارض میں نہ تھا آپ کس کی آرزو میں ...

مزید پڑھیے

تمہیں جو میرے غم دل سے آگہی ہو جائے

تمہیں جو میرے غم دل سے آگہی ہو جائے جگر میں پھول کھلیں آنکھ شبنمی ہو جائے اجل بھی اس کی بلندی کو چھو نہیں سکتی وہ زندگی جسے احساس زندگی ہو جائے یہی ہے دل کی ہلاکت یہی ہے عشق کی موت نگاہ دوست پہ اظہار بیکسی ہو جائے زمانہ دوست ہے کس کس کو یاد رکھوگے خدا کرے کہ تمہیں مجھ سے دشمنی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1877 سے 6203