ہونٹوں پہ ہنسی آنکھ میں تاروں کی لڑی ہے
ہونٹوں پہ ہنسی آنکھ میں تاروں کی لڑی ہے وحشت بڑے دلچسپ دوراہے پہ کھڑی ہے دل رسم و رہ شوق سے مانوس تو ہو لے تکمیل تمنا کے لیے عمر پڑی ہے چاہا بھی اگر ہم نے تری بزم سے اٹھنا محسوس ہوا پاؤں میں زنجیر پڑی ہے آوارہ و رسوا ہی سہی ہم منزل شب میں اک صبح بہاراں سے مگر آنکھ لڑی ہے کیا نقش ...