چلو یہ بھی اپنا ہی جرم ہے یہ گناہ بھی مرے سر گئے
چلو یہ بھی اپنا ہی جرم ہے یہ گناہ بھی مرے سر گئے
میں نہ چل سکا تو ٹھہر گیا وہ گزر سکے تو گزر گئے
وہی ساعتیں ہیں فروغ جاں مری راہ شوق میں آج بھی
مری منزلوں کے نصیب جب ترے نقش پا سے سنور گئے
وہی مرحلے مری یاد ہیں وحی مشغلے مرا خواب ہیں
شب و روز جب ترے گیسوؤں ترے عارضوں میں ٹھہر گئے
وہ ندی کا ساحل دل ربا ہمیں یاد سب ہے ذرا ذرا
ترے رخ پہ جب مری اک طلب پہ شفق کے رنگ بکھر گئے
میں جو چپ رہا تو یہ بات تھی کہ کسی کا راز نہ کھل سکے
میں جو رو پڑا تو یہ راز تھا کہ مری وفا سے وہ ڈر گئے
میں کہاں ہوں ساغر مے کہاں شب ماہ کیوں ہے دھواں دھواں
یہ بتا خمار سحر گہی مرے عقل و ہوش کدھر گئے