اب اس کا اور کیا انجام ہوگا قیصر حیدری دہلوی 07 ستمبر 2020 شیئر کریں اب اس کا اور کیا انجام ہوگا محبت کر کے جو بدنام ہوگا ابھی انساں ہے تشنہ کام الفت ابھی نام وفا بدنام ہوگا جو آغاز سحر کا ہے نظارہ وہی میرا چراغ شام ہوگا کلی پر رات بھر روئے گی شبنم تبسم موت کا پیغام ہوگا