قومی زبان

بزم سخن ہے اور سخنداں نئے نئے

بزم سخن ہے اور سخنداں نئے نئے محفل میں آج آئے ہیں مہماں نئے نئے کن منزلوں کی تاک میں یہ کاروان زیست راہیں نئی نئی ہیں گلستاں نئے نئے بالکل غلط ہے کون یہ کہتا ہے وجد میں ملتے نہیں جنوں کو بیاباں نئے نئے ساقی ذرا نظر تو اٹھا دیکھ بزم میں پینے کو آج آئے ہیں مہماں نئے نئے جب تک ہے ...

مزید پڑھیے

کچھ آنسو رو لینے کے بعد نذر خواب ہو گیا

کچھ آنسو رو لینے کے بعد نذر خواب ہو گیا میں تم کو یاد کرتے کرتے گہری نیند سو گیا رگیں لکیریں ہو گئیں مسام نقطے بن گئے بدن تمہاری یاد میں حروف نظم ہو گیا میں بھول آیا کھول کر کتاب عمر پڑھتے وقت سحاب غم جو گزرا کل ورق ورق بھگو گیا اب اس کے رتجگوں نے بھی پہن لیا غلاف نیند جو چلہ کش ...

مزید پڑھیے

میسر آج سروکار سے زیادہ ہے

میسر آج سروکار سے زیادہ ہے دیے کی روشنی مقدار سے زیادہ ہے یہ جھانک لیتی ہے اندر سے آرزو خانہ ہوا کا قد مری دیوار سے زیادہ ہے گھٹن سے ڈرتے میں شہر ہوا میں آیا تھا مگر یہ تازگی درکار سے زیادہ ہے یونہی میں آنکھ سے باہر نکل کے دیکھتا ہوں مرا قدم مری رفتار سے زیادہ ہے میں روز گھر کی ...

مزید پڑھیے

برگد سے واپسی

وہ بچی گم شدہ حیرت سے آثار قدیمہ والا صفحہ کھول کر اسکول کی بک پڑھ رہی ہے اسے معلوم ہی کب ہے جسے نروان ملتا ہے وہ صدیاں اوڑھ کر صفحوں میں بدھا بن کے رہتا ہے وہ پڑھتے پڑھتے جب تصویر پر نظریں جماتی ہے تو اس کو، آنکھ کے حلقوں میں مردہ خواہشوں کی زردیاں محسوس ہوتی ہیں گھنے برگد کے سائے ...

مزید پڑھیے

رائیگانی کی بشارت

ہوا نے کنج گم گشتہ میں آ کے میری پلکوں پر جمی ویرانیوں کی خاک کو جھاڑا اور اپنی شبنم افشانی سے میری بانجھ پلکوں کو گہر باری میں بدلا یہ سمجھتی ہے میں اس کے ہاتھ میں انگلی تھما کر پھر کسی نا دیدہ پربت کے سفر کی ضد کروں گا تا ابد ہمراہ پھروں گا وقت اک ڈیسپوزیبل رشتے کی صورت ہے جو ...

مزید پڑھیے

خواب کدوں سے واپسی

اے میرے بدن سے لپٹی ہجرت کی سرشاری! خواہش کی بے سمت جہت کے کہنے میں مت آ میرے بازوؤں میں قوت تو ہے جو سوکھے سمندر میں تیرتی کشتی کے پتوار میں اتری ہے لیکن میری ٹانگوں میں حرکت کے کوڈز مسلسل مرتے جاتے ہیں گونج ایک بہاؤ میں میری جانب بڑھتی ہے اور خاموشی۔۔۔ چہرے کے خال و خط سے نوچ کے ...

مزید پڑھیے

زندگی اپنا فیصلہ خود لکھے گی

ہم اپنی برہنگی چھپاتے پھرتے ہیں ایسی حالت میں تعارف کا فلسفہ دیوانگی میں بڑبڑانا ہوتا ہے بکھری چیزوں کے انبار میں کس کس کا رتبہ یاد رکھتے ہم نے مرضی کی ترتیب بنا لی خوشبو کا اہتمام کہاں سے کرتے بدبو ہمیں زیادہ پر تپاکی سے ملی ہم اپنے ہی جسموں کو چھو کر خوش ہو جانے والے سڑاند دیتی ...

مزید پڑھیے

میں نظم لکھتا ہوں!

میں جب تخلیق کا جگنو پکڑتا ہوں میں جب اندر اندھیرے میں گندھی مٹی کا پانی روشنی کی بوند کی خواہش جگاتا ہے کیمیائی خواب کتنے اہتمام انگیز ہوتے ہیں بھٹکتی خوشبوؤں کو جمع کرتے ہیں پہاڑوں پر پڑی بینائیوں کی وسعتوں کو جوڑ کر ترتیب سے رکھتے ہیں اور آنکھیں بناتے ہیں پھر ان میں آنسوؤں ...

مزید پڑھیے

بوڑھا وقت ہمارا استقبال کرتا ہے

عرشۂ خاک سے، میں نے ہاتھوں میں مٹی بھری اور ہوا میں اچھالی بہت دور تک خاک اڑتی گئی دیر تک میں نے بے معنی نظارے کو کائناتی حوالوں سے ماپا کبھی طول اور عرض میں اس کو رکھا ابھرے پپوٹوں، کبھی بند آنکھوں سے دیکھا! وہ سوچا جو دیکھا نہیں جا سکا! ہوا خاک تھی یا ہوا میں تھی خاک۔۔۔! گرد کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1868 سے 6203