قومی زبان

کچھ اپنے کام نہیں آوے جام جم کی کتاب

کچھ اپنے کام نہیں آوے جام جم کی کتاب کفایت اپنے کو بس ایک اپنے غم کی کتاب نہیں خیال سوا اس کے اور ہے دل میں جو مکتب عشق میں جیسے پڑھا صنم کی کتاب خط آنے سے نہیں خاطر جمع ہوئے مطلق اسے تو خط کہوں یا سبزہ یا ستم کی کتاب شب فراق سے تیری گیا ہوں سب کچھ بھول وقایہ کنز و ہدایہ سبھی علم ...

مزید پڑھیے

آخری ڈائری

پندرہ روز علالت کے، ایسے گزرے جن میں باہم رابطہ نہ تھا پھیل گیا اک تنہا دن تب دوسرے تنہا دن سے ملا دھیرے دھیرے اینٹ پہ اینٹ جمی میرے چاروں طرف دیوار بنی پندرہ روز کے بعد کہیں یہ زنداں ٹوٹا واپس لوٹا اپنی دنیا میں سب کچھ ویسے ہی پڑا ہے جیسے چھوڑ گیا تھا میز اسی طرح ترچھی رکھی ...

مزید پڑھیے

دیکھتے دیکھتے

چیونٹیاں کتنی روندی گئیں آخری سانس تک پلٹ کر جھپٹنے کی امید میں سر اٹھاتی رہیں کتنا بے مدعا حوصلہ دیکھتے دیکھتے مٹ گیا رینگتی چیونٹیاں جلد کو چیر کر خون میں مل گئیں میرے اعصاب میں بجلیاں گھل گئیں اب میں کوئی اور ہوں ایک گھائل درندہ زخم ہی زخم ہیں چاہے اپنے ہوں یا دوسروں کے زخم ...

مزید پڑھیے

کوئی کچھ نہیں؟

خیر کوئی ربط ہی نہیں وقت کی طویل ڈور نے بے ارادہ ایک کر دیا صبح و شام گھوم گھوم کر زمیں گرفت اور سخت اور سخت کر گئی جانے آج کیوں وہی دھاگے میری شاہ رگ میں دور تک دھنسے ہوئے وہ سرا ہی میں نے کھو دیا جس سے لوگ الجھے سلجھے تانے بانے کھول کر یوں الگ نکل گئے جیسے وقت کچھ نہیں وہ سارے ...

مزید پڑھیے

آج کے بعد

آج کے بعد اگر جینا ہے آج کا سب کچھ تج دینا ہے ایک جھلک میں ایک جھپک میں زخمی چھلنی اس پیکر کو اپنے لہو کی آگ میں جل جانے دو گل جانے دو ارمانوں سے باہر آؤ اپنے آپ سے آگے بڑھ جاؤ سیماؤں سے پار اتر کر دیکھو کیسی کھلی فضا ہے ہر شے میں جیسے آنے والی دنیاؤں کا بیج چھپا ہے بیجوں سے پیڑ ...

مزید پڑھیے

سورج گیا تو چاند ستارے نکل پڑے

سورج گیا تو چاند ستارے نکل پڑے جن کی تلاش تھی وہ نظارے نکل پڑے اے کاروان قوم تری خیر ہو کہ ہم لگتا ہے رہزنوں کے سہارے نکل پڑے طوفان جوش پر تھا سفینہ بھنور میں تھا غرقاب ہم ہوئے تو کنارے نکل پڑے تھا جس کا خوف ہو کے رہا حادثہ وہی نیزے کسی کے سینے ہمارے نکل پڑے پہلے تو میرے حق میں ...

مزید پڑھیے

جلوۂ یار مری راہ گزر تک پہنچے

جلوۂ یار مری راہ گزر تک پہنچے ذوق‌ دیدار اگر تاب نظر تک پہنچے اس کی یہ ضد مرے قدموں کو نہیں تھی منظور اس نے چاہا تو بہت تھا مرے سر تک پہنچے آ گئی شرم دواؤں کو اثر کر نہ سکیں جب اٹھے ہاتھ دعاؤں کے اثر تک پہنچے فتنہ گر نام اسی کا ہے عمل رد عمل تیرے فتنے تھے پلٹ کر ترے در تک ...

مزید پڑھیے

ہوتا نہیں یقین مجھے چھوڑ جائے گا

ہوتا نہیں یقین مجھے چھوڑ جائے گا وہ میرا پیار میری وفا آزمائے گا اے سنگ سرخ توڑ نہ نفرت کی ضرب سے نازک ہے میرا شیشۂ دل ٹوٹ جائے گا زر بھی زمیں بھی نور محمد بھی ہے ترا اک ساتھ چل کے دیکھ زمانے پہ چھائے گا بھونروں کو اتنی دعوت حرص و ہوس نہ دے تجھ سے ترا گلاب بدن چھوٹ جائے گا یہ ...

مزید پڑھیے

میں تیرا منتظر ہوں جلوۂ جانانہ برسوں سے

میں تیرا منتظر ہوں جلوۂ جانانہ برسوں سے چھلک اٹھا ہے میرے صبر کا پیمانہ برسوں سے وفا کی پاسداری ہے نہ جل جانے کا جذبہ ہے بدل ڈالی ہے کس نے فطرت پروانہ برسوں سے نہ لا گردش میں اس کے سامنے پیمانہ اے ساقی نہ جانے کون سے زنداں میں تھا دیوانہ برسوں سے انہیں اصرار ہے میں ان کو گھر ...

مزید پڑھیے

تم اگر رکتے

ریل گزری دندناتی چیخ برماتی اک ہمکتا مسکراتا پھول تھامے ہاتھ کی ہلکی سی جنبش (سلام آخری) چاقوؤں کی دھار پیشانی میں دھنس کر رہ گئی روز و شب معمول کے سب سائبانوں میں دراڑیں پڑ گئیں پھن اٹھائے پٹریوں کے ناگ بل کھانے لگے سرخ انگارے بجھے سبز زہری جھنڈیاں لہرا گئیں کھولتا جلتا لہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1860 سے 6203