قومی زبان

نئی نسل

عمر اس گپھا میں رینگ آئی ہے جہاں کوئی خار کوئی کنکری نہیں سوندھی سوندھی گیلی گیلی باس ہے خدا کی نرم نرم چھاؤں ہے موت کی مٹھاس ہے خدا کی نرم نرم چھاؤں ہے ہزار بار لڑ چکا ہوں ایک ایک خواب کے لیے ہمارے درمیاں جنگ ہو چکی ہے آج جب مرے لیے صلح کی گھڑی ہے پھر کشاکش حیات کا نیا سبب کھڑا نہ ...

مزید پڑھیے

بے ضمیری

زمیں گھومی ہوا بدلی چلو موسم بدلتا ہے سلیمؔ اب تم پہاڑوں سے اتر آؤ وہ دیکھو چیونٹیوں کے پر نکل آئے کیسے اڑتی پھر رہی ہیں آج شان بے نیازی سے کہ جیسے مطمئن ہیں مکڑیوں کی سرفرازی سے سلیمؔ اب تم پہاڑوں سے اتر آؤ تمہاری دور کی آواز کیسے گونج بن کر پلٹ آئی ہے جیسے بستیوں کے سبھی گھر ...

مزید پڑھیے

یاد

نرم ریشم کی طرح بنی خامشی جا بہ جا پھر مسکنے لگی جسم کے آشیانوں سے طائر اڑے گرم تازہ لہو میں نہا کر پروں کو جھٹکنے لگے دیر تک رنگ اڑتا رہا

مزید پڑھیے

یوں ہی سہی

چلو یوں ہی سہی تم سب دریچے بند کر دو وہ ہوائیں روک دو جو خلا سینے کا بھرنے کے لیے آتی ہیں سانسیں تمہاری ساتھ لاتی ہیں تو ''لو'' ایسے سمے میری رگوں میں خون کے بدلے وہ پانی ہے جو ارماں سادھ لینے والے پیڑوں کا مقدر ہے مرے طوفان کی موجیں کسی برفیلے چوٹی کی وہ تحریریں ہیں جن کو اب فقط ...

مزید پڑھیے

دردمندی

دیکھتے دیکھتے چیونٹیاں کتنی روندی گئیں آخری سانس تک پلٹ کر جھپٹنے کی امید میں سر اٹھاتی رہیں دیکھتے دیکھتے میرے اعصاب میں بجلیاں گھل گئیں رینگتی چیونٹیاں جلد کو چیر کر خون میں مل گئیں اب میں کوئی اور ہوں ایک گھائل درندہ کہ جس کے لیے زخم ہی زخم ہیں (چاہے اپنے ہوں یا دوسروں ...

مزید پڑھیے

آئینے

اور پھر رات کی بساط الٹ گئی مسافروں نے ایک سال کے پرانے چہرے پھینک کر نئے لگا لئے کتنے خوش نصیب ہیں جن کے پاس کوئی آئنہ نہیں جن کے پاس وقت صرف وقت ہے کوئی سلسلہ نہیں بھلا نہیں برا نہیں کتنے خوش نصیب ہیں ایک سال میں سب بدل گئے زمیں کی کوکھ تخم ریزیوں کی منتظر ہے پچھلی فصل کٹ گئی رات ...

مزید پڑھیے

سانسوں کی پیغمبری

بارہا ایسی تنہائیوں میں کہ جب تیرگی بول اٹھے ذائقہ موسموں کا زباں پر یکایک بدل جائے ہم سب یہی سوچتے ہیں کہ شاید کوئی اور ہیں مگر کون؟ وقفۂ عمر میں کس نے سمجھا ہے سب موت ہی کو وصال اپنا کہتے ہیں سب موت کے منتظر ہیں میں نے اور صرف میں نے تیری سانسوں میں تیری سانسوں میں اپنا امڈتا ...

مزید پڑھیے

ورثہ

بیس صدیوں ہیولیٰ ہو تم بیس صدیوں کا پر اسرار ہیولیٰ جس پر صرف بے درد ہواؤں نے زباں پھیری تھی اب مرا ہاتھ ہے اور ہاتھ کی یہ زندہ حرارت شاید تم کو محسوس ہو بدلے ہوئے موسم کی طرح تم یہ سمجھو کہ کسی دھوپ کے ٹکڑے نے تمہیں روز کی طرح سے پھر چھیڑا ہے یا تھکا ماندہ پرندہ ہے جو آ بیٹھا ہے اس ...

مزید پڑھیے

میں نے دیکھا

میں نے دیکھا درد کی شدت سے بے چین کسی ویرانے کی سمت چلا جاتا ہوں گھنے بنوں کے بعد کھلے میدانوں میں ریت ہی ریت ہے اور ہوا میں ریت کے ننھے ذرے جگمگ جگمگ تیر رہے ہیں کچھ آدھے پورے پیڑ ہیں حیوانی ڈھانچے سالم اور ادھورے سب چپ چاپ ہیں دور پہاڑی کے پیچھے نور کا لاوا ابل رہا ہے لاکھوں ...

مزید پڑھیے

آزادگی

وقت کا بوجھ پتھریلی چپ اونچے اونچے پہاڑ میں پہاڑوں کے دامن میں پھیلی ہوئی گھاس پر پتی پتی کی تحریر پڑھتا ہوں اسرار میں غرق ہوں دیر سے جھیل کی آنکھ جھپکی نہ سہمے ہوئے پر کہیں پھڑ پھڑائے نہ کلیاں ہی چٹکیں نہ پتے ہلے ہر گھنا پیڑ نروان کی آس میں گم ہے سوکھی ہوئی ٹہنیاں سب صلیبیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1861 سے 6203