جس طرح کوچے میں تیرے پھرتے ہیں ہم بر طرف
جس طرح کوچے میں تیرے پھرتے ہیں ہم بر طرف اے ستم گاری ہماری طرز ہیں کم بر طرف دل سے افریدیؔ کے اپنے حسن کے صدقے سے یار کیجئے گا دو جہاں کے جتنے ہیں غم بر طرف
جس طرح کوچے میں تیرے پھرتے ہیں ہم بر طرف اے ستم گاری ہماری طرز ہیں کم بر طرف دل سے افریدیؔ کے اپنے حسن کے صدقے سے یار کیجئے گا دو جہاں کے جتنے ہیں غم بر طرف
کسی کا راغ مطالب کسی کا باغ مراد عوام خلق کو منظور ہے چراغ مراد نہیں ہے اپنی مراد آفریدیؔ اس کے سوا اگرچہ ہے بھی تو ساقی و یار ایاغ مراد
مجھ کو تو شراب سے مستی ہے اور تن قید کے چھوٹنے سے ہستی ہے اور قاسم علی دیر اور حرم کے اندر حق اور ہے شوق بت پرستی ہے اور
تم سے کہہ دیں نہ بات کیوں دل کی ضبط غم اب ہے بات مشکل کی یاد کشتی کا ڈوبنا آیا بات کی جب کسی نے ساحل کی صاحب غم نہ غم کا ذکر کرے خوب رسمیں ہیں ان کی محفل کی ہم نے خود آ کے زیر تیغ ستم لاج رکھ لی ہے عزم قاتل کی ضرب صیاد کی تو دیں سب داد کس نے پروائے مرغ بسمل کی موج دریا و رنگ لالہ و ...
دامن پہ رنگ لالہ و گل آنا چاہئے دل خون ہو کے آنکھوں سے بہہ جانا چاہئے میرے سکوت ہی کا سہی ذکر کو بہ کو لوگوں کو ایک شغل اک افسانہ چاہئے آئے وہ آرزو ہو جسے دید کی مگر محفل میں اس کی جان کا نذرانہ چاہئے اب بن گیا ہے درد ہی وجہ سکون دل اب مجھ کو درد دل کا مداوا نہ چاہئے پھر دل کو ہے ...
وہ اک صدی کا بنائے تھا انتظام تمام کہ ایک پل میں ہوئی عمر نا تمام تمام ابھی میں کر بھی نہ پایا تھا ایک جام تمام ندا یہ آئی کہ بس ہو چکی یہ شام تمام میں اپنی آگ میں جلتا ہوں میرا حال نہ پوچھ مرا نفس کیا کرتا ہے میرا کام تمام ہوا ہی ایسی چلی تھی اکھڑ گئے خیمے نہ کر سکے تھے ابھی عرصۂ ...
تازہ دم پر عزم شعلہ بار دن شام کو ثابت ہوا بے کار دن زرد کرنیں سرد جھونکے گرد ہم کس طرح کاٹیں یہ شب آثار دن صبح کو رہتے ہیں ہم فالج زدہ رات کو ملتا نہیں عیار دن بھوک لے کر خوان میں آئی ہے شام آئے گا کل تشنگی بردار دن عمر یعنی لاش کا لمبا سفر زندگی کی عمر بس دو چار دن رات ہی کو چل ...
گلے ملیں تو بنا رہتا ہے گماں دیوار یہ اور بات کہ ہوتی نہیں عیاں دیوار طواف کرتے ہو اپنا تمہیں نہیں معلوم میان مرحلۂ آگہی ہے جاں دیوار رواں دواں جو اٹھے ہم کشاں کشاں لوٹے زمیں تھی ایک رکاوٹ تو آسماں دیوار ہے سوچ سایہ خیال و نظر پہ چھایا ہوا ہیں ریزہ ریزہ فصیلیں دھواں دھواں ...
کفر عشق آیا بدل مجھ مومن دیں دار تک نوبت با صندل و قشقہ ہے بل زنار تک اشٹ کا اشلوک اک راہب نے بت خانے کے بیچ مجھ کو بتلایا کہ بھولا غیر ذکر اذکار تک شعبدہ دنیا کا کم فرصت بہت ہے جوں حباب زندگی ہے تا زمانہ وعدۂ اقرار تک کام ہے مطلب سے چاہے کفر ہووے یا کہ دیں جا پہنچتا ہے کسی صورت ...
یہ مشت خاک اپنے کو جہاں چاہے تہاں لے جا پر اس عالم کو اس عالم سے مت بار گراں لے جا عدم سے جس طرح تنہا چلا آیا تھا پھر واں کو مناسب ہے اسی صورت سے صورت چھوڑ جاں لے جا کدورت ماسوا کی دھو لے خاطر خواہ خاطر سے بجز نام خدا ہم راہ مت نام و نشاں لے جا عزیز و اقربا نے مال و ملکیت بکار ...