قومی زبان

ہماری آزمائش کا اگر کچھ غم نہیں ہوگا

ہماری آزمائش کا اگر کچھ غم نہیں ہوگا تو پھر یہ سلسلہ در سلسلہ بھی کم نہیں ہوگا زمانہ کیسے سمجھے گا کہ ہم پر وجد ہے طاری سرور و کیف و مستی کا اگر عالم نہیں ہوگا اٹھو پھر آ رہے ہیں سب تمہیں للکارنے والے کسی کے ہاتھ میں بھی امن کا پرچم نہیں ہوگا یہ ممکن کس طرح ہوگا کہ اپنے شہر میں ...

مزید پڑھیے

بانیٔ شہر ستم مظلوم کیسے ہو گیا

بانیٔ شہر ستم مظلوم کیسے ہو گیا کل جو مجرم تھا وہ اب معصوم کیسے ہو گیا محتسب سچ سچ بتا خلوت میں کیا سودا ہوا مدعی انصاف سے محروم کیسے ہو گیا طائر آزاد زیر دام کیسے آ گیا وہ خیال‌ منتشر منظوم کیسے ہو گیا کیوں شرافت کو حماقت کا دیا لوگوں نے نام فتنۂ شر خیر سے موسوم کیسے ہو ...

مزید پڑھیے

ہم تشخص کھو رہے ہیں ذات کی تشہیر میں

ہم تشخص کھو رہے ہیں ذات کی تشہیر میں خود بکھرتے جا رہے ہیں کوشش تعمیر میں یہ بھی سوچیں کاش عزت کیا ہے اور ذلت ہے کیا وہ جو رسوا ہو رہے ہیں حسرت توقیر میں آج نخل مصلحت کی چھاؤں میں ہے محو خواب پرورش جس کی ہوئی تھی سایۂ شمشیر میں اے سخنور تم جو کہتے ہو وہ کیوں کرتے نہیں کیوں ہم ...

مزید پڑھیے

وہ اگر ہم خیال ہو جائیں

وہ اگر ہم خیال ہو جائیں ختم سارے ملال ہو جائیں وہ ہوں آمادۂ جواب اگر ہم سراپا سوال ہو جائیں شہر والوں کا ہے خدا حافظ چور جب کوتوال ہو جائیں ہے جدائی خدا کی اک نعمت قربتیں جب وبال ہو جائیں ہاتھ سے آس کا عصا نہ گرے حوصلے جب نڈھال ہو جائیں ہو اگر آپ کی نگاہ کرم بے ہنر با کمال ہو ...

مزید پڑھیے

عشق اور عشق کے آداب کا کیا کرنا ہے

عشق اور عشق کے آداب کا کیا کرنا ہے تو نہیں ہے تو کسی خواب کا کیا کرنا ہے جب ترا نام مرے نام کے ساتھ آیا نہیں حرف کا لفظ کا اعراب کا کیا کرنا ہے اب سمندر ہے نہ پر ہیں نہ شب چار دہم اب تری آنکھ کے مہتاب کا کیا کرنا ہے اک یہی چادر ہجراں مجھے دے کر اس نے کہہ کے رخصت کیا اسباب کا کیا ...

مزید پڑھیے

وہاں ساحلوں پہ بشارتوں کا چراغ بھی ہے جلا ہوا

وہاں ساحلوں پہ بشارتوں کا چراغ بھی ہے جلا ہوا یہاں ہاتھ میرے بندھے ہوئے مرا بادبان چھدا ہوا گئی ساعتوں کی تلاش میں مرا حرف حرف بکھر گیا کہیں تیرے نام کا شعر بھی تھا بیاض جاں پہ لکھا ہوا مری پور پور پہ تتلیاں کئی رنگ چھوڑ کے جا چکیں ترے ذکر کا کوئی پھول تھا مرے رت جگوں میں کھلا ...

مزید پڑھیے

غم قرطاس پہ اپنے کرب کی باتیں لکھتے رہنا

غم قرطاس پہ اپنے کرب کی باتیں لکھتے رہنا ہجر کتاب کو پڑھتے رہنا شرحیں لکھتے رہنا پھر یوں ہوگا اک گم گشتہ چہرا سامنے ہوگا خوابوں کی دیوار بنانا آنکھیں لکھتے رہنا اتنا کرنا اپنی سوچ کی آن نہ بکنے دیتا دن کی دن ہی اور راتوں کو راتیں لکھتے رہنا ایسا وقت نہ آنے دینا سوکھیں سوچ ...

مزید پڑھیے

ایک نشتر سا رگ جاں میں اترنے دینا

ایک نشتر سا رگ جاں میں اترنے دینا زندہ رہنا ہے تو زخموں کو نہ بھرنے دینا اور کچھ دیر نہ اے تیز ہواؤ تھمنا جتنے بوسیدہ ہیں صفحات بکھرنے دینا تیری پہچان کی اک قوس الگ بن جائے اپنے لہجے کو ذرا اور سنورنے دینا چھو کے دیکھیں گے تو پھر ان سے بھی نفرت ہوگی آسمانوں کو زمیں پر نہ اترنے ...

مزید پڑھیے

بس ایک ہجر کے موسم کا رنگ گہرا تھا

بس ایک ہجر کے موسم کا رنگ گہرا تھا ہر ایک رت کو چکھا تھا برت کے دیکھا تھا اس ایک لمحے میں کتنی قیامتیں ٹوٹیں بس ایک لمحے کو تیرے اثر سے نکلا تھا کوئی چراغ بھی رخت سفر میں رکھ لیتے سفر میں رات بھی آئے گی یہ نہ سوچا تھا خود اپنے آپ کو چھونے کا حوصلہ نہ رہا کہ میرے جسم پہ میرا ہی خون ...

مزید پڑھیے

اک ہرا جزیرہ بھی پانیوں سے آگے ہے

اک ہرا جزیرہ بھی پانیوں سے آگے ہے اس کی دید کی ساعت رت جگوں سے آگے ہے کون سے مناظر میں اس کو ڈھونڈنے نکلیں وہ گمان سے ہٹ کر حیرتوں سے آگے ہے بادبان کی آنکھیں خواب کون سا دیکھیں کون اک کنارا سا ساحلوں سے آگے ہے عکس جھلملاتے ہیں ایک سبز قریے کے جو جلے درختوں کے جنگلوں سے آگے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1855 سے 6203