قومی زبان

اس ارض کے تختہ پر سنسار ہے اور میں ہوں

اس ارض کے تختہ پر سنسار ہے اور میں ہوں موہوم ہوا تو کیا پر یار ہے اور میں ہوں پڑتی ہے نظر جیدھر وہ یار ہے اور میں ہوں ہے کون سوا میرے دل دار ہے اور میں ہوں میں یار کنے قاصد بھیجا تو ہے پر شاید لے نامہ اگر آیا ریبار ہے اور میں ہوں موڑوں گا نہیں منہ کو میں عشق کے میداں سے اس یار کے ...

مزید پڑھیے

کہاں کا ننگ رہا اور اور کہاں رہا ناموس

کہاں کا ننگ رہا اور اور کہاں رہا ناموس الجھ گئی جو محبت میں دختر‌ طیموس مزا جو وصل کا چاہے تو بار‌ ہجر اٹھا پھر انتقام ہو آخر کے تئیں کنار‌ و بوس مجازی ہو کہ حقیقی صریح عشق کا نام لطیف تحفہ پیارا عجیب نام عروس مجھے بھی عشق کا ہے مرض کیا کروں یارو معالجے سے مرے عاجز آیا ...

مزید پڑھیے

پانچ دن کو جو یہاں پر آ گیا

پانچ دن کو جو یہاں پر آ گیا مثل گل دو روز میں کمھلا گیا زندگی پھسلا کے لے آئی مجھے کون ظالم اس جگہ بہلا گیا کیوں چھٹا کر ایک عدم کے عیش کو دوسرا کوئی عدم دکھلا گیا ہستئ موہوم پر جو غور کی دوستو بے طرح جی گھبرا گیا پیشتر مرنے سے مرنا خوب ہے جو کہ یہ سمجھاؤ وہی کچھ پا گیا آہ اس دل ...

مزید پڑھیے

اپنے جانان کو اے جان اسی جان میں ڈھونڈ

اپنے جانان کو اے جان اسی جان میں ڈھونڈ ڈھونڈ مت اور جگہ پر دل حیران میں ڈھونڈ ڈھونڈھنا اس کا بہت سہل بتایا ہے فقیر جان میں اپنی اسے لوں گا میں اک آن میں ڈھونڈ جس طرف دیکھو اسی کا ہے جھمکڑا واللہ طالب اللہ کا لیتا ہے ہر اک شان میں ڈھونڈ چاہنے والے کا خود آپ چہیتا ہے وہ مہ کنعاں ...

مزید پڑھیے

ماتم رنج و الم غم ہیں بہم چاروں ایک

ماتم رنج و الم غم ہیں بہم چاروں ایک ستم و جور جفا ناز و صنم چاروں ایک جب اٹکتا ہے جو دل کچھ نہیں چھوڑے باقی ننگ و ناموس حیا اور شرم چاروں ایک عشق بازاں کے تئیں عشق میں تیرے اے یار مسجد و مدرسہ و دیر و حرم چاروں ایک فرق ہرگز نہیں جو تجھ سے ملاوے آنکھیں تیر اور خنجر و جمدھر کے زخم ...

مزید پڑھیے

فاسق جو اگر عاشق دیوانہ ہوا تو کیا

فاسق جو اگر عاشق دیوانہ ہوا تو کیا دنیا کے مطالب کو فرزانہ ہوا تو کیا غفلت میں کوئی پڑ کر گر عمر کو کھو ڈالے بعد اس کے اگر سمجھا پھر سیانا ہوا تو کیا یہ عمر غنیمت ہے جو دم کہ گزرتا ہے گر خانہ ہوا تو کیا ویرانہ ہوا تو کیا نظارہ تو کر اے دل ہو شان میں دلبر کا گر بھوکا جو ٹل جاوے پھر ...

مزید پڑھیے

اے دل اب عشق کی لے گوئی اور چوگان میں آ

اے دل اب عشق کی لے گوئی اور چوگان میں آ بے خطر ٹھوک کے خم جنگ کے سامان میں آ خوف غماز رقیبوں کا نہ کر کچھ ہرگز ہو کے راضی بہ رضا وقت ہے میدان میں آ فرصت اس وقت غنیمت ہے نکل ظلمت سے سلجھ کر زلف سے رخسار درخشان میں آ گل رخسارہ کا نظارہ تو کر آنکھیں کھول انگبیں چکھنے کو پھر دل لب ...

مزید پڑھیے

پھیر روز فراق یار آیا

پھیر روز فراق یار آیا نامہ بر آہ زار زار آیا تیرے جانے سے فتنہ ہو تیار بہ سر چشم اشک بار آیا جھاڑا مرقد پہ میرے جب دامن آسماں کا گویا غبار آیا مے سے توبہ تو کر نہیں سکتا کیا کروں موسم بہار آیا مارا جاوے گا بھاگ اے ناصح دیکھ یہ نازنیں سوار آیا کسی مخلوق کو خدا نہ دکھائے جو کہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1857 سے 6203