اس ارض کے تختہ پر سنسار ہے اور میں ہوں
اس ارض کے تختہ پر سنسار ہے اور میں ہوں موہوم ہوا تو کیا پر یار ہے اور میں ہوں پڑتی ہے نظر جیدھر وہ یار ہے اور میں ہوں ہے کون سوا میرے دل دار ہے اور میں ہوں میں یار کنے قاصد بھیجا تو ہے پر شاید لے نامہ اگر آیا ریبار ہے اور میں ہوں موڑوں گا نہیں منہ کو میں عشق کے میداں سے اس یار کے ...