خواب کار
میں نے خوابوں کے حسیں جال بنے چاندنی شب کی بہاروں میں کبھی صبح کے پھیلے چناروں میں کبھی دن کے ہنگاموں کے ہر پہلو میں شام کے بڑھتے ہوئے جادو میں میں نے جب چاہا نئے پھول چنے میں نے خوابوں کے حسیں جال بنے اپنے ہر خواب میں پایا تم کو ماند کرتے ہوئے تاروں کے دیے گنگناتے ہوئے چشموں کو ...