قومی زبان

خواب کار

میں نے خوابوں کے حسیں جال بنے چاندنی شب کی بہاروں میں کبھی صبح کے پھیلے چناروں میں کبھی دن کے ہنگاموں کے ہر پہلو میں شام کے بڑھتے ہوئے جادو میں میں نے جب چاہا نئے پھول چنے میں نے خوابوں کے حسیں جال بنے اپنے ہر خواب میں پایا تم کو ماند کرتے ہوئے تاروں کے دیے گنگناتے ہوئے چشموں کو ...

مزید پڑھیے

ترغیب

مسلسل ہوا نے سمیٹے ہیں پتوں کے بکھرے خزانے سفیدے کی شاخوں سے تاروں کا جھرمٹ محبت کے فتنے کا جادو جگانے چلا آ رہا ہے اندھیرے میں روشن زمستاں کی راتوں کا یخ بستہ جوبن بھڑکنے لگا ہے سلگتا تصور تمنا کی ایذا پرستی کا دامن بڑھا جا رہا ہے الجھنے سے حاصل ہوئی ہے نہ آسان ہوگی یہ مشکل بلا ...

مزید پڑھیے

خلش تأثر

خاموش ہوا بھیڑوں کا گلہ چلتے چلتے ممیا کر جا پہنچا شاید باڑے میں بوسی رستے میں پھیلا کر چپ چاپ کھڑا ہے دور ادھر وہ جنگل کالی چیلوں کا سر سبز پہاڑوں کو پر ہول بنانے والی چیلوں کا آواز نہیں آتی اب جھیل کی جانب سے مرغابی کی سنسان فضا بے جان ہوا میں لرزاں روح خموشی کی یوں لائی دوش پہ ...

مزید پڑھیے

داشتہ

رات دھندلی تیرگی نمناک گھاس ٹھہری ٹھہری مضمحل پھولوں کی باس تنہا اداس باغ کی دل سرد خاموشی سے دور ان گنت تاروں کا بے ترتیب نور سامان طور اٹھ رہی ہے جیسے موج نیم تاب کہکشاں یہ بارہا دیکھا سراب منزل کا خواب پھول کر اپنی تمنا کا مآل گوشۂ دل میں وہی زہرہ جمال لایا خیال جس نے وا کی مجھ ...

مزید پڑھیے

عشق گریزاں

سرد ہو چکی محفل اور تو نے پروانے خواہشوں سے بیگانے جان سے گزرنے کا کھیل ہی نہیں کھیلا بجھ گیا تیرا بھی دل سرد ہو چکی محفل آدمی کو جینا ہے ہمکنار غم ہو کر لطف زندگی کھو کر آج اور کل برسوں بے بسی کے بل برسوں زہر زیست پینا ہے آدمی کو جینا ہے عمر پر نہ جا اس کی یہ طویل مجبوری اپنی اصل سے ...

مزید پڑھیے

شہر میں رنگ ہے نہ خوشبو ہے

شہر میں رنگ ہے نہ خوشبو ہے پھر بھی چرچا اسی کا ہر سو ہے بہہ رہا ہے مہیب سناٹا پا بہ گل سبزۂ لب جو ہے گھپ اندھیرے کا جل رہا ہے چراغ روشنی کا عجیب جادو ہے بے دلی ہے نصیب دام خیال آرزو اک رمیدہ آہو ہے سینۂ سنگ پر ٹھٹھرتا ہوا شاخ گل کا گداز پہلو ہے شدت کرب سے نڈھال نہیں آنکھ میں جم ...

مزید پڑھیے

تیری نگہ سے تجھ کو خبر ہے کہ کیا ہوا

تیری نگہ سے تجھ کو خبر ہے کہ کیا ہوا دل زندگی سے بار دگر آشنا ہوا اک اک قدم پہ اس کے ہوا سجدہ ریز میں گزرا تھا جس جہاں کو کبھی روندتا ہوا دیکھا تجھے تو آرزوؤں کا ہجوم تھا پایا تجھے تو کچھ نہ تھا باقی رہا ہوا دشت جنوں میں ریگ رواں سے خبر ملی پھرتا رہا ہے تو بھی مجھے ڈھونڈھتا ...

مزید پڑھیے

دھندلا دیا زیست کا تصور (ردیف .. ے)

دھندلا دیا زیست کا تصور اپنی آنکھوں ہی کی نمی نے حیوان صفت ہوا ہے آخر دکھلایا کمال آدمی نے کی دوستی بھی تو دشمنی سے جانا نہ انہیں مگر ہمیں نے گاڑھے کی تو کھال کھینچ ڈالی رات ان کے جمال ریشمیں نے شعلوں سے بجھائی پیاس جی کی یاروں کے مزاج بلغمیں نے یہ زہرہ یہ مشتری یہ مہتاب کیا ...

مزید پڑھیے

وہ کہاں مجھ پہ جفا کرتا تھا

وہ کہاں مجھ پہ جفا کرتا تھا جو مقدر تھا ملا کرتا تھا آج شرماتا ہے سورج اس سے وہ جو تاروں سے حیا کرتا تھا سوچتا ہوں تو ہنسی آتی ہے سامنے اس کے میں کیا کرتا تھا میں پڑا رہتا تھا افتادگی سے جادۂ شوق چلا کرتا تھا یاد آیا ہے کہ خوش باشی کو غم کا افشردہ پیا کرتا تھا گرد رہ بن کے جو ...

مزید پڑھیے

جائیں گھڑ دوڑ پر کہ کھیلیں تاش

جائیں گھڑ دوڑ پر کہ کھیلیں تاش میرؔ جی راز عشق ہوگا فاش پتھروں میں لگا رہے ہیں جونک چاند میں خون گرم کی ہے تلاش یوں جھگڑتے ہیں جھوٹی قدروں پر زن فاحش پہ جس طرح اوباش نئے انداز سے حنوط ہوئی اب نہ بو دے گی زندگی کی لاش اڑ گیا بھاپ بن کے دل کا لہو اب زمیں دور ہے قریب آکاش ہوئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1831 سے 6203