قومی زبان

جوئے کم آب سے اک تیز سا جھرنا ہوا میں

جوئے کم آب سے اک تیز سا جھرنا ہوا میں تیری جانب ہوں رواں شور مچاتا ہوا میں مجھ سے خالی نہیں اب ایک بھی ذرہ ہے یہاں دیکھ یہ تنگ زمیں اور یہ پھیلا ہوا میں دیکھ کر وسعت صحرائے تپاں لرزاں ہوں ساحل دیدۂ نمناک پہ ٹھہرا ہوا میں پا بہ زنجیر ادھر تیز ہوا اور ادھر خاک کے تخت پہ سلطان سا ...

مزید پڑھیے

غضب کی کاٹ تھی اب کے ہوا کے طعنوں میں

غضب کی کاٹ تھی اب کے ہوا کے طعنوں میں شگاف پڑ گئے ہیں بے زباں چٹانوں میں ہمارے ہونٹ ہی پتھر کے ہیں وگرنہ میاں ہم ایک آگ لیے پھرتے ہیں دہانوں میں بگولہ بن کے اٹھا تو میں تھا خرابے سے بپا ہوا نہ کوئی حشر آسمانوں میں سیاہ شہر کی قسمت میں میرا فیض کہاں چراغ نذر ہوں جلتا ہوں آستانوں ...

مزید پڑھیے

اے دل زار کہیں نیند نہ ہو طاری

اے دل زار کہیں نیند نہ ہو طاری چشم درویش بھی خوابوں سے نہیں عاری جسم کا دشت بھی سنسان ہے برسوں سے ملک دل پر بھی نہیں روح کی سرداری چاند سے کم نہ تھی ہم ہجر کے ماروں کو اس شب تار میں موہوم سی چنگاری یک بیک کون مری فکر میں در آیا نہر خوشبو سی بیاباں میں ہوئی جاری راکھ کے ڈھیر میں ...

مزید پڑھیے

جسم دیوار ہے دیوار میں در کرنا ہے

جسم دیوار ہے دیوار میں در کرنا ہے روح اک غار ہے اس غار میں گھر کرنا ہے ایک ہی قطرہ تو ہے اشک ندامت کا بہت کون سے دشت و بیابان کو تر کرنا ہے جلتے رہنا بھی ہے دیوار پہ فانوس کے بن بے زرہ معرکۂ باد بھی سر کرنا ہے خاک ہو جانے پہ اے خاک بسر کیوں ہو بضد کیا تمہیں دوش ہوا پر بھی سفر کرنا ...

مزید پڑھیے

جلتا ہوا جو چھوڑ گیا طاق پر مجھے

جلتا ہوا جو چھوڑ گیا طاق پر مجھے دیکھا نہ اس نے لوٹ کے پچھلے پہر مجھے وحشت سے تھا نوازنا اتنا اگر مجھے صحرا دیا ہے کیوں فقط آفاق بھر مجھے میں گونجتا تھا حرف میں ڈھلنے سے پیشتر گھیرا ہے اب سکوت نے اوراق پر مجھے شام و سحر کی گردشیں بھی دیکھنی تو ہیں اب چاک سے اتار مرے کوزہ گر ...

مزید پڑھیے

چاندنی رات میں اک بار اسے دیکھا تھا

چاندنی رات میں اک بار اسے دیکھا تھا چاند سے بر سر پیکار اسے دیکھا تھا مثل خورشید نمودار وہ اب تک نہ ہوا آخری بار سر غار اسے دیکھا تھا میں بھلا کیسے بیاں کرتا سراپا اس کا شب یلدا پس دیوار اسے دیکھا تھا دل میں اتری ہی نہ تھی روشنی اس منظر کی اولیں بار تو بے کار اسے دیکھا تھا لوگ ...

مزید پڑھیے

جو آ سکو تو بتاؤ کہ انتظار کریں

جو آ سکو تو بتاؤ کہ انتظار کریں وگرنہ اپنے مقدر پہ اعتبار کریں چراغ خانۂ امید ہے ابھی روشن ابھی نہ ترک تعلق کو اختیار کریں ہمارے طول مسافت کا یہ تقاضا ہے شریک حال تجھے اے خیال یار کریں یہ گل رخوں کا ہے شیوہ بہ نام ناز و ادا نگاہ عاشق بسمل کو اشک بار کریں یہ اہل عشق کو زیبا نہیں ...

مزید پڑھیے

یہ جو ہر سمت ترے نیزے کی شہرت ہے بہت

یہ جو ہر سمت ترے نیزے کی شہرت ہے بہت سچ تو یہ ہے کہ مرے سر کی بدولت ہے بہت چشمۂ چشم کے پانی سے نہیں ہوگا کچھ خاک صحرا ہے اسے خوں کی ضرورت ہے بہت میں تو اک آنکھ ہوں آواز سے مجھ کو نہ ڈرا یہ ترے جلوۂ صد رنگ کی دہشت ہے بہت بت معنی بھی معانی کے پجاری بھی گئے آ کہ اب معبد الفاظ میں خلوت ...

مزید پڑھیے

ہوا میں جو یہ ایک نمناکی ہے

ہوا میں جو یہ ایک نمناکی ہے صدا تیز رفتار دریا کی ہے قدم روک مت پیچھے مڑ کے نہ دیکھ یہ آواز کم بخت دنیا کی ہے مکاں تو مرا لا مکاں ہو گیا شکایت مگر تنگئ جا کی ہے بھڑکتا ہے شعلہ سا رنگ سکوت قلندر کے لہجے میں بیباکی ہے پڑا رہ بدن کے دریچے نہ کھول مری انگلیوں میں ہوس ناکی ہے شجر سے ...

مزید پڑھیے

ہم تو بس اک عقدہ تھے حل ہونے تک

ہم تو بس اک عقدہ تھے حل ہونے تک زنجیروں میں بند تھے پاگل ہونے تک عشق اگر ہے دین تو پھر ہو جائیں گے ہم بھی مرتد اس کے مکمل ہونے تک میں پانی تھا سورج گھور رہا تھا مجھے کیا کرتا بے بس تھا بادل ہونے تک اب تو خیر سراب سی خوب چمکتی ہے آنکھ تھی دریا شہر کے جنگل ہونے تک مجھ میں بھی تھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1813 سے 6203