قومی زبان

ہاتھ سے آخر چھوٹ پڑا پتھر جو اٹھایا تھا

ہاتھ سے آخر چھوٹ پڑا پتھر جو اٹھایا تھا کیا کرتا مجرم بھی تو خود اپنا سایا تھا ایسا ہوتا کاش کہیں کچھ رنگ بھی مل جاتے اس نے میرے خوابوں کا خاکہ تو بنایا تھا اب تو بھی باہر آ جا یوں جسم میں چھپنا کیا پردہ ہی کرنا تھا تو کیوں مجھ کو بلایا تھا آج کے موسم سے بے سدھ کچھ لوگ کفن ...

مزید پڑھیے

نہ خطرہ تیرگی سے تھا نہ خطرہ تیرگی کا ہے

نہ خطرہ تیرگی سے تھا نہ خطرہ تیرگی کا ہے در و دیوار پہ پہرا ابھی تک روشنی کا ہے نہا کر خون میں کانٹوں پہ اکثر رقص کرتا ہوں یہ مستی بے خودی کی ہے یہ نشہ زندگی کا ہے ہے آخر کس لیے قزاق غم پیہم تعاقب میں تصرف میں ہمارے کیا کوئی لمحہ خوشی کا ہے ملوں کس طور میں خود سے تشخص کس طرح ...

مزید پڑھیے

یہ سچ ہے بہم اس کی محبت بھی نہیں تھی

یہ سچ ہے بہم اس کی محبت بھی نہیں تھی اور ترک مراسم ہوں یہ ہمت بھی نہیں تھی اس شخص کی الفت میں گرفتار یہ دل تھا جس شخص کو چھونے کی اجازت بھی نہیں تھی کچھ زخم تمنا کو نہ تھا شوق مداوا کچھ اس کو مسیحائی کی عادت بھی نہیں تھی تھے راہ محبت میں پڑاؤ کئی لازم کیا کیجیے رکنا مری فطرت بھی ...

مزید پڑھیے

شام تھی ہم تھے اور سمندر تھا

شام تھی ہم تھے اور سمندر تھا کس قدر دل فریب منظر تھا اک طرف تھی خوشی اجالوں کی اک طرف شام ہونے کا ڈر تھا تھے پریشان تیر نظروں کے جب تلک دل مرا ہدف پر تھا وہ تھا کمسن یہ سچ سہی لیکن حسرتوں میں مرے برابر تھا دل تو تھا مطمئن رفاقت میں خوف سا دھڑکنوں کے اندر تھا اپنے ہاتھوں اسے ...

مزید پڑھیے

خود کو پا بستۂ زنجیر کیے جا چپ چاپ

خود کو پا بستۂ زنجیر کیے جا چپ چاپ خواب شرمندۂ تعبیر کیے جا چپ چاپ خامۂ رنج و الم سے رخ کم مائیگی پر نصرت‌ جاوداں تحریر کیے جا چپ چاپ یہ عمل باعث تسکین جنوں بھی ہوگا جذبۂ عشق کی تعمیر کیے جا چپ چاپ غم دوراں کی اذیت بھی تو دل سہتا ہے غم جاناں کو بھی جاگیر کیے جا چپ چاپ زخم گہرے ...

مزید پڑھیے

دل کبھی بے وفا نہیں ہوتا

دل کبھی بے وفا نہیں ہوتا وقت کا کچھ پتہ نہیں ہوتا اپنی اپنی ہے سب کی مجبوری دل کسی کا برا نہیں ہوتا اپنا اپنا خیال ہے ورنہ کچھ برا یا بھلا نہیں ہوتا غم ہی اک دوست ہے ہمیشہ کا زندگی بھر جدا نہیں ہوتا خون دے دے کے میں نے سینچا ہے ورنہ گلشن ہرا نہیں ہوتا بٹ کے ہم لوگ رہ گئے ...

مزید پڑھیے

یہ کائنات ہے کیا دشت کیا مکاں کیا ہے

یہ کائنات ہے کیا دشت کیا مکاں کیا ہے بس ایک جذبۂ تخلیق ہے جہاں کیا ہے خدا نے دیکھ کے تاب تجسس انساں نظر پہ حد سی لگا دی ہے آسماں کیا ہے گلا کے چھوڑے گا ہر شے کو وقت کا تیزاب سوائے نور خدا اور جاوداں کیا ہے بس ایک غیب کی تلوار یہ خدائی ہے پھر اس کے سامنے فریاد کیا فغاں کیا ہے غم ...

مزید پڑھیے

مدتوں سوچا کیا کہنے کو کچھ

مدتوں سوچا کیا کہنے کو کچھ پھر بھی مجھ سے کیا بنا کہنے کو کچھ جس کے منہ میں ہی زباں ہوتی نہ تھی آج وہ بھی آ گیا کہنے کو کچھ ضبط نے مجھ کو نہ کچھ کہنے دیا درد تھا کب سے اٹھا کہنے کو کچھ جو بھی آیا منہ میں وہ تم کہہ گئے تم نے اب چھوڑا ہے کیا کہنے کو کچھ تم نے جب ترک تعلق کر لیا کیوں ...

مزید پڑھیے

درد ہوگا تو کیا برا ہوگا

درد ہوگا تو کیا برا ہوگا عشق کا قرض کچھ ادا ہوگا خون سے جو خطوط لکھتا تھا ہاں وہی بے وفا بنا ہوگا گر عنایت کسی نے کی تجھ پر اس میں اس کا ہی کچھ بھلا ہوگا پھر یقیناً کوئی جفا ہوگی اس کا وعدہ اگر وفا ہوگا آج لگتا ہے سب ہمارے ہیں کل ہمارا کسے پتہ ہوگا درد بنیاد زندگی ہے رازؔ اس پہ ...

مزید پڑھیے

اس زمانے کے فریبوں سے بچا کوئی نہ تھا

اس زمانے کے فریبوں سے بچا کوئی نہ تھا منزلیں تھیں سامنے پر راستہ کوئی نہ تھا زندگی میں جو ملے اچھے لگے اپنے لگے میں تو سب کا ہو گیا لیکن مرا کوئی نہ تھا کس قدر بچ کر چلا میں کتنا آہستہ چلا مڑ کے جب دیکھا تو اپنا نقش پا کوئی نہ تھا غم سے سب ہارے ہوئے تھے زندگی کی دوڑ میں سورما بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1799 سے 6203