اتنی فرصت نہیں اس پیکر پندار کے پاس
اتنی فرصت نہیں اس پیکر پندار کے پاس بن کے آئے وہ مسیحا کسی بیمار کے پاس گر یوں ہی وحشتیں رقصاں رہیں دالانوں میں کوئی سایہ نہ رہے گا کسی دیوار کے پاس روز آنکھوں کو نیا طرز سخن ملتا ہے روز جاتا ہوں کسی یار طرح دار کے پاس فصل غم دیکھ کے نم دیدہ ہوا چرخ فلک شاید آنکھیں ہی نہیں آئنہ ...