قومی زبان

نیاز عشق ہے ناز بتاں ہے

نیاز عشق ہے ناز بتاں ہے محبت کائنات دو جہاں ہے حجابات تعین اٹھ رہے ہیں نگاہ شوق تیرا امتحاں ہے مسرت بھی بڑی نعمت ہے لیکن ترے غم سے مجھے فرصت کہاں ہے نہ رہبر ہے نہ جادہ ہے نہ منزل نگاہوں میں غبار کارواں ہے ترے نقش قدم پر چل رہا ہوں خدا جانے مری منزل کہاں ہے مرا ذوق سیہ کاری نہ ...

مزید پڑھیے

جان دے دی رہرو منزل نے منزل کے قریب

جان دے دی رہرو منزل نے منزل کے قریب حوصلے طوفاں کے نکلے بھی تو ساحل کے قریب وہ نظر بہکی ہوئی پھرتی ہے کیوں دل کے قریب اس کی منزل بھی ہے شاید میری منزل کے قریب عزم غرقابی ہے تو منت کش طوفاں نہ بن کشتیاں لاکھوں ہوئی ہیں غرق ساحل کے قریب رہرو منزل نے بن کر مرکز یاس و امید منزلیں ...

مزید پڑھیے

اب یہ عالم ہے کہ جس شے پہ نظر جاتی ہے

اب یہ عالم ہے کہ جس شے پہ نظر جاتی ہے ہو بہ ہو آپ کی تصویر نظر آتی ہے خود کو تاریخ کسی وقت جو دہراتی ہے میرے حالات پہ دنیا کو ہنسا جاتی ہے یاد ایام بہاراں بھی نہیں وجہ سکوں اب تو تزئین قفس ہی مجھے بہلاتی ہے برق بن بن کے گری ہے مرے دل پر اکثر وہ تجلی جو سر طور نظر آتی ہے آج کچھ ان ...

مزید پڑھیے

سب کو وحشت ہے مری وحشت کے ساماں دیکھ کر

سب کو وحشت ہے مری وحشت کے ساماں دیکھ کر چاک داماں دیکھ کر چاک گریباں دیکھ کر بے خبر کانٹوں سے تھا اہل محبت کا شعور پاؤں رکھنے تھے زمین کوئے جاناں دیکھ کر اللہ اللہ جذبۂ الفت کی معجز کاریاں وہ پریشاں ہو گئے مجھ کو پریشاں دیکھ کر یاد آیا پھر مجھے افسانۂ طور و کلیم اک تجلی سی ترے ...

مزید پڑھیے

ہر آئنہ نے کہا رخصت غبار کے بعد

ہر آئنہ نے کہا رخصت غبار کے بعد یہاں تو کچھ بھی نہیں ہے جمال یار کے بعد زمانہ زیر نگیں تھا رضائے یار کے بعد وہ اختیار ملا ترک اختیار کے بعد یہ مانتا ہوں ادب شرط عشق ہے لیکن یہ ہوش کس کو رہے گا نگاہ یار کے بعد پروں سے منہ کو چھپا کر قفس میں آ بیٹھا چمن کا حال نہ دیکھا گیا بہار کے ...

مزید پڑھیے

مزاج نغمہ و شعر و شراب پیدا کر

مزاج نغمہ و شعر و شراب پیدا کر حیات عشق میں کچھ آب و تاب پیدا کر نظر کو خیرگئ شوق بے پناہ ملے ہر ایک ذرے سے وہ آفتاب پیدا کر شکست خواب کے با وصف بند ہیں آنکھیں پھر ایک بار تماشائے خواب پیدا کر یہ بے نیازئ تزئین آئنہ کب تک کبھی کبھی تو خود اپنا جواب پیدا کر ہر ایک ذرہ ہے معمورۂ ...

مزید پڑھیے

تمہاری بزم میں مجھ تک بھی جام آیا تو

تمہاری بزم میں مجھ تک بھی جام آیا تو وفور شوق نے کوئی مقام پایا تو قدم قدم پہ ہماری ہی آزمائش ہے اگر تمہیں کسی منزل پہ آزمایا تو ہم اپنی تاب نظر سے بہت پشیماں ہیں پھر اب کی بار ہمیں کچھ نظر نہ آیا تو دل تباہ سے شاید کوئی کرن پھوٹی حریم شوق کا ہر گوشہ جگمگایا تو تمہارے غم کو ...

مزید پڑھیے

جب سنبھل کر قدم اٹھاتا ہوں

جب سنبھل کر قدم اٹھاتا ہوں کوئی ٹھوکر ضرور کھاتا ہوں آپ سے جب نظر ملاتا ہوں کون ہوں کیا ہوں بھول جاتا ہوں مجھ پہ اے رنگ ڈالنے والو میں تو رنگوں کا جنم داتا ہوں وقت ہے مبتلائے خواب عدم ٹھوکریں مار کر جگاتا ہوں ذہن ایسا ہے کچھ پراگندہ یاد کرتا ہوں بھول جاتا ہوں ڈھونڈھتے پھر ...

مزید پڑھیے

غم جب ان کا دیا ہوا غم ہے

غم جب ان کا دیا ہوا غم ہے حیف اس آنکھ پر جو پر نم ہے دل کی آواز لاکھ مدھم ہے دل کی آواز میں بڑا دم ہے زندگی میں سکون کے طالب زندگی خود ہی مستقل غم ہے ان کے جاتے ہی یہ ہوا محسوس جیسے تاروں میں روشنی کم ہے چین ہے ترک آرزو کے بعد آرزوؤں کا نام ہی غم ہے ہر نفس مخزن الم ہے رئیسؔ شکر ہے ...

مزید پڑھیے

جانے کیا بات ہے کیوں گرمئ بازار نہیں

جانے کیا بات ہے کیوں گرمئ بازار نہیں اب کوئی جنس وفا کا بھی خریدار نہیں لوگ اک شخص کو لے جاتے ہیں مقتل کی طرف اس پہ الزام ہے اتنا کہ گنہ گار نہیں زندگی زخم سہی زخم کا درماں کیجے کوئی اس شہر میں زخموں کا خریدار نہیں پیکر شعر میں ڈھل جائے کسی کا چہرہ میرے اظہار محبت کا یہ معیار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1794 سے 6203