زمین پاؤں تلے سر پہ آسمان لیے
زمین پاؤں تلے سر پہ آسمان لیے ندائے غیب کو جاتا ہوں بہرے کان لیے میں بڑھ رہا ہوں کسی رعد ابر کی جانب بدن کو ترک کئے اور اپنی جان لیے یہ میرا ظرف کہ میں نے اثاثۂ شب سے بس ایک خواب لیا اور چند شمع دان لیے میں سطح آب پہ اپنے قدم جما لوں گا بدن کی آگ لیے اور کسی کا دھیان لیے میں چل ...