قومی زبان

زمین پاؤں تلے سر پہ آسمان لیے

زمین پاؤں تلے سر پہ آسمان لیے ندائے غیب کو جاتا ہوں بہرے کان لیے میں بڑھ رہا ہوں کسی رعد ابر کی جانب بدن کو ترک کئے اور اپنی جان لیے یہ میرا ظرف کہ میں نے اثاثۂ شب سے بس ایک خواب لیا اور چند شمع دان لیے میں سطح آب پہ اپنے قدم جما لوں گا بدن کی آگ لیے اور کسی کا دھیان لیے میں چل ...

مزید پڑھیے

مٹتی ہوئی تہذیب سے نفرت نہ کیا کر

مٹتی ہوئی تہذیب سے نفرت نہ کیا کر چوپال پہ بوڑھوں کی کہانی بھی سنا کر معلوم ہوا ہے یہ پرندوں کی زبانی تھم جائے گا طوفان درختوں کو گرا کر پیتل کے کٹورے بھی نہیں اپنے گھروں میں خیرات میں چاندی کا تقاضا نہ کیا کر ممکن ہے گریبانوں میں خنجر بھی چھپے ہوں تو شہر اماں میں بھی نہ بے خوف ...

مزید پڑھیے

عجب اک سایۂ لاہوت میں تحلیل ہوگی

عجب اک سایۂ لاہوت میں تحلیل ہوگی فسون حشر سے ہیئت مری تبدیل ہوگی کیے جائیں گے میرے جسم میں نوری اضافے کسی روشن ستارے پر مری تکمیل ہوگی دیا جائے گا غسل اولیں میرے بدن کو طلسمی باغ ہوگا اس کے اندر جھیل ہوگی کبھی پہنچے گا حس سامعہ تک حرف خفتہ کبھی آواز نا معلوم کی ترسیل ...

مزید پڑھیے

جب ہے مٹنا ہی تو انداز حکیمانہ سہی

جب ہے مٹنا ہی تو انداز حکیمانہ سہی خلوت غم کے عوض گوشۂ مے خانہ سہی رونق بادہ کشی جرأت رندانہ سہی خار ہونا ہے تو مے خانہ بہ مے خانہ سہی عشق اک قطرے میں دریا کو سمو دیتا ہے عقل کو دیوانہ سمجھتی ہے تو دیوانہ سہی میرے دل میں بھی تجلی کے خزینے ہیں نہاں ماہ و خورشید میں عکس رخ جانانہ ...

مزید پڑھیے

دل و نگاہ پہ جس کو ہو اختیار چلے

دل و نگاہ پہ جس کو ہو اختیار چلے رہ وفا میں کوئی بھی نہ خام کار چلے ہمیں روش پہ زمانہ کی اعتبار نہیں ہمارے ساتھ زمانہ ہزار بار چلے ہم اپنے وقت کے آقا ہم اپنے دور کے شاہ مگر خدا نہ کرے اپنی پیش یار چلے یہ رہروان محبت ہی خوب جانتے ہیں کہ فرش گل پہ چلے یا بہ نوک خار چلے نہ راہبر پہ ...

مزید پڑھیے

جو نور دیکھتا ہوں میں جام شراب میں

جو نور دیکھتا ہوں میں جام شراب میں وہ آفتاب میں ہے نہ وہ ماہتاب میں اس طرح عزم زہد ہے عہد شباب میں چلنے کا جیسے قصد کرے کوئی خواب میں میری نظر سے چھپ کے رہیں وہ حجاب میں میرے ندیم کیا مہ و انجم ہیں خواب میں مجھ کو سنائے جاتے ہیں افسانے خلد کے ڈوبا ہوا ہوں مستئ شعر و شراب میں آخر ...

مزید پڑھیے

عمر بھر دنیا کو سمجھاتا رہا

عمر بھر دنیا کو سمجھاتا رہا خود فریب زندگی کھاتا رہا روشنی آنکھوں میں باقی تھی نہ تھی وہ نظر میں تھا نظر آتا رہا زندگی کیا تھی ترے جانے کے بعد سانس تھا آتا رہا جاتا رہا اس طرح ڈھونڈھوگے اک دن تم مجھے جیسے کچھ کھویا گیا جاتا رہا اپنی صورت ہی نہ پہچانی گئی وقت آئینہ تو دکھلاتا ...

مزید پڑھیے

منزل یار بے نشاں بھی نہیں

منزل یار بے نشاں بھی نہیں دل ہو غافل تو رازداں بھی نہیں برق کیوں بے قرار ہے اتنا اب تو گلشن میں آشیاں بھی نہیں ہو نظر میں اگر حقیقت حسن زندگی سادہ داستاں بھی نہیں وہ جفاؤں پہ شرمسار نہ ہوں اب یہ منزل مجھے گراں بھی نہیں یار کی جستجو کو کیا کہئے رائیگاں بھی ہے رائیگاں بھی ...

مزید پڑھیے

حیات عشق کی خورشید سامانی نہیں جاتی

حیات عشق کی خورشید سامانی نہیں جاتی مٹا جاتا ہے دل ذروں کی تابانی نہیں جاتی جو کل تک کھیل سمجھے تھے ہمیں برباد کر دینا اب ان مغرور نظروں کی پشیمانی نہیں جاتی ہمیں پر لطف کی بارش ہے لیکن وائے نادانی ہمیں سے وہ نگاہ لطف پہچانی نہیں جاتی وطن کیا جرأت اہل جنوں سے ہو گیا خالی خرد ...

مزید پڑھیے

ہر آئنے نے کہا رخصت غبار کے بعد

ہر آئنے نے کہا رخصت غبار کے بعد یہاں تو کچھ بھی نہیں ہے جمال یار کے بعد زمانہ زیر نگیں تھا رضائے یار کے بعد وہ اختیار ملا ترک اختیار کے بعد یہ مانتا ہوں ادب شرط عشق ہے لیکن یہ ہوش کس کو رہے گا نگاہ یار کے بعد پروں سے منہ کو چھپا کر قفس میں آ بیٹھا چمن کا حال نہ دیکھا گیا بہار کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1793 سے 6203