قومی زبان

وقت کی تیز روی دیکھ کے ڈر جاتے ہیں

وقت کی تیز روی دیکھ کے ڈر جاتے ہیں لوگ جیتے ہیں کچھ اس طرح کہ مر جاتے ہیں زندگانی تری عظمت کو بڑھانے والے مسکراتے ہوئے مقتل سے گزر جاتے ہیں بزم یاراں ہو کہ دشت شب تنہائی ہو زخم بھرنے پہ جب آتے ہیں تو بھر جاتے ہیں یہ شب و روز بھی اوراق پریشاں کی طرح بارہا وقت کی آندھی میں بکھر ...

مزید پڑھیے

غموں سے رشتہ ہے اپنا بھی دوستی کی طرح

غموں سے رشتہ ہے اپنا بھی دوستی کی طرح ملے ہیں اشک بھی ہم کو یہاں ہنسی کی طرح کرم کی زحمت بے جا کا شکریہ لیکن تمہارے درد کو چاہا ہے زندگی کی طرح میں اپنا درد لیے اب کہاں کہاں جاؤں مجھے رفیق بھی ملتے ہیں اجنبی کی طرح شریف لوگ بھی ہوتے ہیں مصلحت کا شکار اجالے آج بھی ملتے ہیں تیرگی ...

مزید پڑھیے

لب پہ اک نام جب آتا ہے تو رو لیتے ہیں

لب پہ اک نام جب آتا ہے تو رو لیتے ہیں کوئی جی بھر کے رلاتا ہے تو رو لیتے ہیں چاندنی رات کی مہکی ہوئی تنہائی میں ساز غم پر کوئی گاتا ہے تو رو لیتے ہیں نور و نکہت کی فضاؤں کا دل آویز سماں دل میں جب آگ لگاتا ہے تو رو لیتے ہیں آج بھی حادثۂ درد محبت کی قسم پیار جب کوئی بڑھاتا ہے تو رو ...

مزید پڑھیے

نشاط منزل قلب و نظر کو یاد کرو

نشاط منزل قلب و نظر کو یاد کرو سفر میں اپنے کسی ہم سفر کو یاد کرو بڑے خلوص سے تاریک راستوں پہ چلو بڑے تپاک سے حسن سحر کو یاد کرو جلے چراغ تو چپکے سے نام لو میرا ملے خوشی تو مری چشم تر کو یاد کرو جو دل میں رہ کے بھی انجان سی رہی برسوں کسی کی اس نگہہ فتنہ گر کو یاد کرو دل حزیں کا ...

مزید پڑھیے

آؤ مری سہیلی

کس بات کا ہے غصہ کچھ تو بتاؤ قصہ بیٹھی ہو کیوں اکیلی آؤ مری سہیلی بکھرے یہ بال کیوں ہیں آنکھیں بھی لال کیوں ہیں کیوں ہو بنی پہیلی آؤ مری سہیلی ٹافی تمہیں کھلاؤں جھولا تمہیں جھلاؤں چلنا مری حویلی آؤ مری سہیلی اب ہنس بھی دو ذرا سا لائے ہیں میرے پیارے گڑیا نئی نویلی آؤ مری سہیلی

مزید پڑھیے

ایک سوال

ابو میرے پاس تو آنا اتنی بات مجھے سمجھانا ہم جب آپس میں لڑتے ہیں آپ ہمیشہ یہ کہتے ہیں لڑنا بھڑنا ٹھیک نہیں ہے جھگڑا کرنا ٹھیک نہیں ہے اچھے بن کر جینا سیکھو مل جل کر تم رہنا سیکھو میں نے اخباروں میں پڑھا ہے ٹی وی پر بھی اتنا سنا ہے دنیا میں پھر اک جنگ ہوگی کھلیں گے سب خون کی ...

مزید پڑھیے

دنیا سے آج جذب وفا مانگتا ہوں میں

دنیا سے آج جذب وفا مانگتا ہوں میں یہ جرم ہے اگر تو سزا مانگتا ہوں میں کس موڑ پر حیات کے چھوڑا ہے تم نے ساتھ اک اک سے آج اپنا پتہ مانگتا ہوں میں میں نے تو کی تھی درد مسلسل کی آرزو تم کو گماں ہوا کہ دوا مانگتا ہوں میں رعنائی بہار بڑھانے کے واسطے تیرا جمال تیری ادا مانگتا ہوں ...

مزید پڑھیے

کہیں شرمندہ نہ ہو رسم وفا میرے بعد

کہیں شرمندہ نہ ہو رسم وفا میرے بعد میرے ماضی کو نہ دو میری سزا میرے بعد ایسا لگتا ہے کہ سب خون کے پیاسے ہیں یہاں ہائے اس شہر کا کیا حال ہوا میرے بعد تشنہ لب اور بھی آئیں گے یہاں میری طرح کون دے گا انہیں جینے کی دعا میرے بعد مجھ پہ ہی ختم ہوا قہر زمانے بھر کا پھر کسی اور کا دامن نہ ...

مزید پڑھیے

جانے کس واسطے دل چشم کرم مانگے ہے

جانے کس واسطے دل چشم کرم مانگے ہے زندگی آپ سے پھر دیدۂ نم مانگے ہے ہم کہاں جائیں گے اب تیری گلی سے اٹھ کر کس کا دل ہے جو یہاں دیر و حرم مانگے ہے مجھ کو پھولوں کی ہوس ہے نہ تو موتی کی تلاش کاسۂ چشم مرا دست کرم مانگے ہے چشم نم کو کسی دامن کی تمنا ہی سہی دل بیتاب مگر آپ کا غم مانگے ...

مزید پڑھیے

ساز فرقت پہ غزل گاؤ کہ کچھ رات کٹے

ساز فرقت پہ غزل گاؤ کہ کچھ رات کٹے پیار کی رسم کو چمکاؤ کہ کچھ رات کٹے جب یہ طے ہے کہ غم عشق بہت کافی ہے غم کا مفہوم ہی سمجھاؤ کہ کچھ رات کٹے صبح کے ساتھ ہی ہم خود بھی بکھر جائیں گے دو گھڑی اور ٹھہر جاؤ کہ کچھ رات کٹے دامن درد پہ بکھرے ہوئے آنسو کی طرح میری پلکوں پہ بھی لہراؤ کہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1795 سے 6203