وقت کی تیز روی دیکھ کے ڈر جاتے ہیں
وقت کی تیز روی دیکھ کے ڈر جاتے ہیں لوگ جیتے ہیں کچھ اس طرح کہ مر جاتے ہیں زندگانی تری عظمت کو بڑھانے والے مسکراتے ہوئے مقتل سے گزر جاتے ہیں بزم یاراں ہو کہ دشت شب تنہائی ہو زخم بھرنے پہ جب آتے ہیں تو بھر جاتے ہیں یہ شب و روز بھی اوراق پریشاں کی طرح بارہا وقت کی آندھی میں بکھر ...