قومی زبان

مجھے اپنا جلوہ دکھا

ستارے مجھے اپنا جلوہ دکھا وقت کے کس خلا میں مظاہر کی کس کہکشاں میں زمانے کے کس دب اکبر میں تیرا ٹھکانہ ہے لاکھوں برس سے تجھے دیکھنے کی طلب میں جوں ہی شام ڈھلتی ہے میں خود بہ خود کھنچتا آتا ہوں اس غار شب میں! عجب غار ہے ایک بازار ہے سیل لمعات کا آئنے نصب ہیں رنگ اڑتے ہیں شیشوں کے ...

مزید پڑھیے

یہ سجیلی مورتی

اے ہوا پھر سے مجھے چھو کر قسم کھا صحن میں کس نے قدم رکھا تھا چپکے سے یہاں سے کون مٹی لے گیا تھا وقت کی تھالی میں کس نے لا کے رکھ دی جھلملاتی لو کے آگے رقص کرتی یہ سجیلی مورتی جس کے نقوش جسم روشن ہو رہے ہیں ویشیا کے ہونٹ فربہ پاؤں جیسے اک گرھستن کے خمیری پیٹ میں مخمل کی لہریں نوری و ...

مزید پڑھیے

بُرادہ اڑ رہا ہے

برادہ اڑ رہا ہے ترمرے سے ناچتے ہیں دیدۂ نمناک میں براق سائے رینگتے ہیں راہداری میں برادہ اڑ رہا ہے ناک کے نتھنے میں نلکی آکسیجن کی لگی ہے گوشۂ لب رال سے لتھڑا ہے ہچکی سی بندھی ہے اک غشی ہے میرا حاضر میرے غائب سے جدا ہے کیا بتاؤں ماجرا کیا ہے! زمانوں قبل ہم دونوں کا رستہ پوٹلی میں ...

مزید پڑھیے

مگر وہ نہ آیا

میں نے آواز دی اور حصار رفاقت میں اس کو بلایا مگر وہ نہ آیا گل خواب کی پتیاں دھوپ کی گرم راحت میں گم تھیں مرے جسم پر نرم بارش کی بوندیں بھی گھوڑے کا سم تھیں زمیں ایک انبوہ ہجراں میں اس چاپ کی منتظر تھی جو لا علم پھیلاؤ میں منتشر تھی پرندے سبک ریشمیں ٹہنیاں اپنی منقار میں تھام کر اڑ ...

مزید پڑھیے

بڑا چکر لگائیں

کسی دن آ پرانی کھائیوں کو پار کر کے دلدلوں میں پاؤں رکھیں نرسلوں کو کاٹ ڈالیں پیش منظر کے لیے رستہ بنائیں آ کسی دن دھند میں جکڑی ہوئی کانٹوں بھری یہ باڑ جس میں وقت کی بجلی رواں ہے جو زمیں و آسماں کو کاٹتی ہے بیچ سے اس کو ہٹائیں آ کسی دن جھولتے پل سے اتر کر نقشۂ تقویم میں پر پیچ ...

مزید پڑھیے

خواب مزدور ہے

خواب مزدور ہے رات دن سر پہ بھاری تغاری لیے سانس کی بانس کی ہانپتی کانپتی سیڑھیوں پر اترتا ہے چڑھتا ہے روپوش معمار کے حکم پر ایک لا شکل نقشے پہ اٹھتی ہوئی اوپر اٹھتی ہوئی گول دیوار کے خشت در خشت چکر میں محصور ہے خواب مزدور ہے! اک مشقت زدہ آدمی کی طرح میں حقیقت کی دنیا میں یا خواب ...

مزید پڑھیے

مراتبِ وجود بھی عجیب ہیں

اچانک اک شبیہ بے صدا سی جست بھر کے آئنے کے پاس سے گزر گئی سیاہ زرد دھاریاں کہ جیسے لہر ایک لہر سے جڑی ہوئی سنگار میز ایک دم لرز اٹھی کلاک کا طلائی عکس بھی دہل گیا بدن جو تھا بخار کے حصار میں پگھل گیا مراتب وجود بھی عجیب ہیں لہو کی کونیات میں صفات اور ذات میں عجب طرح کے بھید ...

مزید پڑھیے

وہ عرصہ جو دوری میں گزرا

میں کیسے بتاؤں وہ عرصہ جو دوری میں گزرا حضوری میں گزرا میں اس کی وضاحت نہیں کر سکوں گا سر شام ہی کوئی لا شکل کوت مجھے اپنے نرغے میں رکھتی مزا لیتی میرے نمک کا کبھی میری شیرینی چکھتی کبھی مجھ کو قطرے کبھی مجھ کو ذرے میں تبدیل کرتی کبھی مجھ کو ہیئت میں لاتی کبھی میری ہیئت کو تحلیل ...

مزید پڑھیے

یہ کیسی گھڑی ہے

یہ کند اور یخ بے نمو نیند جس میں شب ارتقا اور صبح حریرا کا تازہ عمل رائیگاں ہو رہا ہے شکستہ کناروں کے اندر مچلتی ہوئی سوختہ جان لہروں کا رقص زیاں ہو رہا ہے چراغ تحرک کف سست پر بے نشاں ہو رہا ہے مرے دہر کا طاق تہذیب جس پر مقدس صحیفہ نہیں اک ریاکار مشعل دھری ہے ہر اک شیشۂ پاک باز و ...

مزید پڑھیے

ایک زنجیرِ گریہ مرے ساتھ تھی

میں گیا اس طرف جس طرف نیند تھی جس طرف رات تھی بند مجھ پر ہوئے سارے در سارے گھر میں گیا اس طرف جس طرف تیر تھے جس طرف گھات تھی مجھ پہ مرکوز تھی اک نگاہ سیہ اور عجب زاویے سے بنائے ہوئے تھی مجھے سر سے پا تک ہدف میں گیا اس طرف جس طرف ریت کی لہر تھی موج ذرات تھی میں نہیں جانتا اس گھڑی تیرگی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1789 سے 6203