مجھے اپنا جلوہ دکھا
ستارے مجھے اپنا جلوہ دکھا وقت کے کس خلا میں مظاہر کی کس کہکشاں میں زمانے کے کس دب اکبر میں تیرا ٹھکانہ ہے لاکھوں برس سے تجھے دیکھنے کی طلب میں جوں ہی شام ڈھلتی ہے میں خود بہ خود کھنچتا آتا ہوں اس غار شب میں! عجب غار ہے ایک بازار ہے سیل لمعات کا آئنے نصب ہیں رنگ اڑتے ہیں شیشوں کے ...