قومی زبان

یہ سرد رات کوئی کس طرح گزارے گا

یہ سرد رات کوئی کس طرح گزارے گا ہوا چلی تو لہو کو لہو پکارے گا یہ سوچتے ہیں کہ اس بار ہم سے ملنے کو وہ اپنے بال کس انداز میں سنوارے گا شکایتیں ہی کرے گا کہ خود غرض نکلے وہ دل میں کوئی بلٹ تو نہیں اتارے گا یہی بہت ہے کہ وہ خود نکھرتا جاتا ہے کسی خیال کا چہرہ تو کیا نکھارے گا یہی ...

مزید پڑھیے

وہ ذرہ جس میں اک عالم نہاں تھا

وہ ذرہ جس میں اک عالم نہاں تھا ادب کا ایک بحر بیکراں تھا وہ نبض وقت کو پہچانتا تھا وہ رہبر تھا وہ میر کارواں تھا اسے آتا تھا لفظوں کا برتنا زباں رکھتا تھا وہ اہل زباں تھا اخوت کا تھا وہ پرچم اٹھائے نہ اپنی فکر نہ خوف جہاں تھا چٹاں کا عزم دھارے کی روانی جھکا قدموں پہ اس کے آسماں ...

مزید پڑھیے

نہ مے پی اور نہ پیمانہ ملا ہے

نہ مے پی اور نہ پیمانہ ملا ہے یوں ملنے کو تو مے خانہ ملا ہے نہ آیا جس کے در سے کوئی خالی وہ خود حال فقیرانہ ملا ہے خضر ڈھونڈے ہے جس کے نقش پا کو مجھے اک ایسا دیوانہ ملا ہے الٰہی خیر ہو اب مے کدہ کی بہکتا پیر مے خانہ ملا ہے یہ کیا دل کی صداؤں کا اثر ہے کہ وہ بے اختیارانہ ملا ...

مزید پڑھیے

جدائی وطن

آج وہ وقت جدائی مجھے یاد آیا ہے دل افسردہ ہر اک یاد سے بھر آیا ہے غیر ممکن ہے مری آنکھ سے آنسو نہ بہیں ضبط‌ دل اب تو ہر اک حد سے گزر آیا ہے زندگی ہم کو یہ معلوم نہ تھا تیرے لیے اپنی ہنستی ہوئی دنیا کو رلانا ہوگا جن کو دل دیکھ نہ سکتا تھا کبھی افسردہ آج اس دل نے انہیں اشک بہاتے ...

مزید پڑھیے

کھوٹے سکے اچھالتے رہیے

کھوٹے سکے اچھالتے رہیے کام اپنا نکالتے رہیے لوگ سیدھے ہیں جو انہیں یوں ہی جھوٹے وعدوں پہ ٹالتے رہئے بھوکے پیاسے عوام جی لیں گے آپ کتوں کو پالتے رہیے ہم کو گر کر سنبھلنا آتا ہے آپ خود کو سنبھالتے رہیے یہ ہیں بچے بہل ہی جائیں گے آپ پانی ابالتے رہیے مال جیسا ملے مرے رہبرؔ اپنی ...

مزید پڑھیے

دیر تک میں تجھے دیکھتا بھی رہا

دیر تک میں تجھے دیکھتا بھی رہا ساتھ اک سوچ کا سلسلہ بھی رہا میں تو جلتا رہا پر مری آگ میں ایک شعلہ ترے نام کا بھی رہا شہر میں سب سے چھوٹا تھا جو آدمی اپنی تنہائیوں میں خدا بھی رہا زندگی یاد رکھنا کہ دو چار دن میں ترے واسطے مسئلہ بھی رہا رنگ ہی رنگ تھا شہر جاں کا سفر راہ میں جسم ...

مزید پڑھیے

کتنی ہی بارشیں ہوں شکایت ذرا نہیں

کتنی ہی بارشیں ہوں شکایت ذرا نہیں سیلانیوں کو خطرۂ سیل بلا نہیں میں نے بھی ایک حرف بہت زور سے کہا وہ شور تھا مگر کہ کسی نے سنا نہیں لاکھوں ہی بار بجھ کے جلا درد کا دیا سو ایک بار اور بجھا پھر جلا نہیں ویسے تو یار میں بھی تغیر پسند ہوں چھوٹا سا ایک خواب مجھے بھولتا نہیں سوتے ہیں ...

مزید پڑھیے

اپنی مٹی کو سرافراز نہیں کر سکتے

اپنی مٹی کو سرافراز نہیں کر سکتے یہ در و بام تو پرواز نہیں کر سکتے عالم خواہش و ترغیب میں رہتے ہیں مگر تیری چاہت کو سبو تاژ نہیں کر سکتے حسن کو حسن بنانے میں مرا ہاتھ بھی ہے آپ مجھ کو نظر انداز نہیں کر سکتے شہر میں ایک ذرا سے کسی گھر کی خاطر اپنے صحراؤں کو ناراض نہیں کر ...

مزید پڑھیے

سڑکوں پہ گھومنے کو نکلتے ہیں شام سے

سڑکوں پہ گھومنے کو نکلتے ہیں شام سے آسیب اپنے کام سے ہم اپنے کام سے نشے میں ڈگمگا کے نہ چل سیٹیاں بجا شاید کوئی چراغ اتر آئے بام سے دم کیا لگا لیا ہے کہ سارے دکان دار چکھنے میں لگ رہے ہیں مجھے ترش آم سے غصے میں دوڑتے ہیں ٹرک بھی لدے ہوئے میں بھی بھرا ہوا ہوں بہت انتقام سے دشمن ...

مزید پڑھیے

تری طلب میں یہاں تک خراب حال ہوا

تری طلب میں یہاں تک خراب حال ہوا کہ میں جہان‌ محبت میں اک مثال ہوا مرے قریب سے اکثر وہ اس طرح گزرا نگاہ بھر کے اسے دیکھنا محال ہوا وہ لوگ جن کی رفاقت کبھی نہ راس آئی ہوئے جو دور تو دل کو بہت ملال ہوا مجھے خبر ہے کہ وہ پیشتر نہ تھا ایسا مری وفا سے جفا کا اسے خیال ہوا دکھوں سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1777 سے 6203