قومی زبان

ہاتھ ہمارے سب سے اونچے ہاتھوں ہی سے گلہ بھی ہے

ہاتھ ہمارے سب سے اونچے ہاتھوں ہی سے گلہ بھی ہے گھر ایسے کو سونپ دیا جو آگ بھی ہے اور ہوا بھی ہے اپنی انا کا جال کسی دن پاگل پن میں توڑوں گا اپنی انا کے جال کو میں نے پاگل پن میں بنا بھی ہے دیئے کے جلنے اور بجھنے کا بھید سمجھ میں آئے تو کیا اسی ہوا سے جل بھی رہا تھا اسی ہوا سے بجھا ...

مزید پڑھیے

ہمہ وقت جو مرے ساتھ ہیں یہ ابھرتے ڈوبتے سائے سے

ہمہ وقت جو مرے ساتھ ہیں یہ ابھرتے ڈوبتے سائے سے کسی روشنی کے سراب ہیں کہ ملے ہر اپنے پرائے سے خم جادہ سے میں پیادہ پا کبھی دیکھ لیتا ہوں خواب سا کہیں دور جیسے دھواں اٹھا کسی بھولی بسری سرائے سے اٹھی موج درد تو یک بہ یک مرے آس پاس بکھر گئے مہ نیم شب کے ادھر ادھر جو لرز رہے تھے ...

مزید پڑھیے

اوپر بادل نیچے پربت بیچ میں خواب غزالاں کا

اوپر بادل نیچے پربت بیچ میں خواب غزالاں کا دیکھو میں نے حرف جما کے نگر بنایا جاناں کا پاگل پنچھی بعد میں چہکے پہلے میں نے دیکھا تھا اس جمپر کی شکنوں میں ہلکا سا رنگ بہاراں کا بستی یونہی بیچ میں آئی اصل میں جنگ تو مجھ سے تھی جب تک میرے باغ نہ ڈوبے زور نہ ٹوٹا طوفاں کا ہم املاک ...

مزید پڑھیے

گیت کے بعد بھی گائے جاؤں

گیت کے بعد بھی گائے جاؤں اپنی آواز سنائے جاؤں کوئی ایسا ہو کہ دیکھے جائے میں جہاں تک نظر آئے جاؤں اس ہوس میں کہ اندھیرا نہ رہے گھر میں جو کچھ ہے جلائے جاؤں پھیلتی جائے خموشی مجھ میں اور میں شور مچائے جاؤں اپنی آنکھوں کو شب و روز فروغؔ خواب ہی خواب دکھائے جاؤں

مزید پڑھیے

اپنے ہی شب و روز میں آباد رہا کر

اپنے ہی شب و روز میں آباد رہا کر ہم لوگ برے لوگ ہیں ہم سے نہ ملا کر شاید کسی آواز کی خوشبو نظر آئے آنکھیں ہیں تو خوابوں کی تمنا بھی کیا کر باتوں کے لیے شکوۂ موسم ہی بہت ہے کچھ اور کسی سے نہ کہا کر نہ سنا کر سونے دے انہیں رنگ جو سوئے ہیں بدن میں آوارہ ہواؤں کو نہ محسوس کیا کر تو ...

مزید پڑھیے

گھر مجھے رات بھر ڈرائے گیا

گھر مجھے رات بھر ڈرائے گیا میں دیا بن کے جھلملائے گیا کل کسی اجنبی کا حسن مجھے یاد آیا تو یاد آئے گیا کوئی گھائل زمیں کی آنکھوں میں نیند کی کونپلیں بچھائے گیا سفر عشق میں بدن اس کا دور سے روشنی دکھائے گیا اپنی لہروں میں رنج کا موسم آنسوؤں کے کنول کھلائے گیا شہر کا ایک برگ ...

مزید پڑھیے

راتوں کو دن کے سپنے دیکھوں دن کو بتاؤں سونے میں

راتوں کو دن کے سپنے دیکھوں دن کو بتاؤں سونے میں میرے لیے کوئی فرق نہیں ہے ہونے اور نہ ہونے میں برسوں بعد اسے دیکھا تو آنکھوں میں دو ہیرے تھے اور بدن کی ساری چاندی چھپی ہوئی تھی سونے میں دھرتی تیری گہرائی میں ہوں گے میٹھے سوت مگر میں تو صرف ہوا جاتا ہوں کنکر پتھر ڈھونے میں گھر ...

مزید پڑھیے

پھول زمین پر گرا پھر مجھے نیند آ گئی

پھول زمین پر گرا پھر مجھے نیند آ گئی دور کسی نے کچھ کہا پھر مجھے نیند آ گئی ابر کی اوٹ میں کہیں نرم سی دستکیں ہوئیں ساتھ ہی کوئی در کھلا پھر مجھے نیند آ گئی رات بہت ہوا چلی اور شجر بہت ڈرے میں بھی ذرا ذرا ڈرا پھر مجھے نیند آ گئی اور ہی ایک سمت سے اور ہی اک مقام پر گرد نے شہر کو ...

مزید پڑھیے

جنگل سے آگے نکل گیا

جنگل سے آگے نکل گیا وہ دریا کتنا بدل گیا کل میرے لہو کی رم جھم میں سورج کا پہیا پھسل گیا چہروں کی ندی بہتی ہے مگر وہ لہر گئی وہ کنول گیا اک پیڑ ہوا کے ساتھ چلا پھر گرتے گرتے سنبھل گیا اک آنگن پہلے چھینٹے میں بادل سے اونچا اچھل گیا اک اندھا جھونکا آیا تھا اک عید کا جوڑا مسل ...

مزید پڑھیے

شہر کا شہر بسا ہے مجھ میں

شہر کا شہر بسا ہے مجھ میں ایک صحرا بھی سجا ہے مجھ میں کئی دن سے کوئی آوارہ خیال راستہ بھول رہا ہے مجھ میں رات مہکی تو پھر آنکھیں مل کے کوئی سوتے سے اٹھا ہے مجھ میں دھوپ ہے اور بہت ہے لیکن چھاؤں اس سے بھی سوا ہے مجھ میں کب سے الجھے ہیں یہ چہروں کے ہجوم کون سا جال بچھا ہے مجھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1776 سے 6203