قومی زبان

مرے کہنے میں پٹواری نہیں ہے

مرے کہنے میں پٹواری نہیں ہے زمیں میری ہے سرکاری نہیں ہے سمندر تو ہوا کھاری تو کیسے ندی جب کوئی بھی کھاری نہیں ہے بھلے الزام خود پر لے لیا ہے مگر غلطی مری ساری نہیں ہے زمیں پر چاہے کچھ بن جا تو لیکن خدا بننا سمجھ داری نہیں ہے دکھاؤں تو ہنر کیسے میں کلکلؔ ابھی آئی مری باری نہیں ...

مزید پڑھیے

دکھ سے غیروں کے پگھلتا کون ہے

دکھ سے غیروں کے پگھلتا کون ہے خود سے باہر اب نکلتا کون ہے برف سی تاثیر سب کی ہو گئی ظلم سہہ کر اب ابلتا کون ہے غیر کو ہی سب بدلنے میں رہے اپنی فطرت کو بدلتا کون ہے چھوڑ دو اس کو اسی کے حال پر عشق میں پڑ کر سنبھلتا کون ہے زندگی بھر جو نہ کھائے ٹھوکریں کھول کر آنکھیں یوں چلتا کون ...

مزید پڑھیے

وہ جتنا مجھے آزماتا رہے گا

وہ جتنا مجھے آزماتا رہے گا یقیں میرا اتنا گنواتا رہے گا کبھی پوچھ لے تو رضا اس کے من کی کہاں تک تو اپنی چلاتا رہے گا یہ حیوانیت جرم کرتی رہے گی شرافت پہ الزام آتا رہے گا زمانہ ہے بہرا بچے کیسے عزت کوئی شور کب تک مچاتا رہے گا زمانہ ہوا خود میں چالاک اتنا تو جب تک ڈرے گا ڈراتا ...

مزید پڑھیے

چلو مانا کہ پھرتیلے نہیں تھے

چلو مانا کہ پھرتیلے نہیں تھے مگر اتنے بھی ہم ڈھیلے نہیں تھے خیالوں میں سجا لیتے تھے ان کو ہمارے شوق خرچیلے نہیں تھے مزہ منزل کو پا کر بھی نہ آیا سفر میں ریت کے ٹیلے نہیں تھے حویلی میں سبھی رہتے تھے مل کر تب اتنے رشتے زہریلے نہیں تھے کبھی آتے تھے خط ان کے بھی کلکلؔ وہ پہلے اتنے ...

مزید پڑھیے

اٹھا خود جس سے جاتا بھی نہیں ہے

اٹھا خود جس سے جاتا بھی نہیں ہے خدا اس کو اٹھاتا بھی نہیں ہے نہیں اٹھتی ہیں بے شک اس کی نظریں مگر سر وہ جھکاتا بھی نہیں ہے کرے گا دیکھ کر وہ آئنہ کیا کبھی جو مسکراتا بھی نہیں ہے ہوئی جس نام سے نفرت وہ اس کو کتابوں سے مٹاتا بھی نہیں ہے میں اس کا درد کلکلؔ کیسے بانٹوں کہ جو چھالے ...

مزید پڑھیے

کبھی غنچہ کبھی شعلہ کبھی شبنم کی طرح

کبھی غنچہ کبھی شعلہ کبھی شبنم کی طرح لوگ ملتے ہیں بدلتے ہوئے موسم کی طرح میرے محبوب مرے پیار کو الزام نہ دے ہجر میں عید منائی ہے محرم کی طرح میں نے خوشبو کی طرح تجھ کو کیا ہے محسوس دل نے چھیڑا ہے تری یاد کو شبنم کی طرح کیسے ہم درد ہو تم کیسی مسیحائی ہے دل پہ نشتر بھی لگاتے ہو تو ...

مزید پڑھیے

کچھ تو چہرے پہ خون رہنے دے

کچھ تو چہرے پہ خون رہنے دے تھوڑا دل میں سکون رہنے دے کون سا سو برس جیوں گا میں مجھ پہ اس کا جنون رہنے دے سائباں چھین لے مگر اے دوست میری خاطر ستون رہنے دے میں تو جاہل ہوں مجھ کو مطلب کیا ذکر علم و فنون رہنے دے سخت دشوار ہے جئے جانا زندگی پر سکون رہنے دے گرم رکھتا ہے سرد موسم ...

مزید پڑھیے

کل چل دیے تم بس پوچھ کے اور

کل چل دیے تم بس پوچھ کے اور اور پوچھتے کچھ کچھ پوچھتے اور میں سامنے تھا تم سامنے تھیں ممکن نہیں ہیں اب فاصلے اور تکیہ تصور کا خبط ہے خوب جو وقت بے وقت تجھ کو چھوئے اور گفتار مبہم سے تنگ ہو کر فرمائے وہ چشم فرمائیے اور اک موڑ تھا خاص اپنے سفر کا اک موڑ تھا اور پھر راستے اور میں ...

مزید پڑھیے

کہاں سے گئی بات میری کہاں کو

کہاں سے گئی بات میری کہاں کو یوں کہیے زباں دے رہا ہوں زباں کو چلا ہوں کی پھر کچھ نیا مان پاؤں حصار یقیں ڈھ کے دشت گماں کو وجود استعارہ ہے نظم جہاں میں ہے مطلوب عدم شاعر لا مکاں کو ہے سایہ گرفتار پنجۂ خورشید سلاسل ہیں ہم تو خودی عیاں کو ہوا ازل کی گرہ کھلنے کو تھی اڑی ناخن شمع ...

مزید پڑھیے

سیاہ خانہ کبھی جلوہ گر سا لگتا ہے

سیاہ خانہ کبھی جلوہ گر سا لگتا ہے کہو کہاں سے یہ ویرانہ گھر سا لگتا ہے رکے ہوئے ہیں اسی ''پھر ملیں گے'' پر اب تک کہا زبان کا اس کی نظر سا لگتا ہے چھپی ہے کب کوئی بھی بات تم سے پر پھر بھی وہ بات کیا ہے کہ کہنے میں ڈر سا لگتا ہے یہ آئنے میں مجھے دیکھتا ہے کون بھلا اک عرصے سے جو ادھر سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1720 سے 6203