خراماں شاہد سیمیں بدن ہے
خراماں شاہد سیمیں بدن ہے قیامت آسمانی پیرہن ہے تبسم ہے کہ موج نور و نکہت نظر ہے یا محبت کی کرن ہے مری مستی کا اندازہ ہے کس کو نگاہ ناز میری ہم سخن ہے وہ میری زندگی پر حکمراں ہیں مرے بس میں نہ یہ تن ہے نہ من ہے ہزاروں رنگ ہیں میری نظر میں تصور میں کسی کی انجمن ہے خیالوں میں مرے ...