قومی زبان

بہاریں اور وہ رنگیں نظارے یاد آتے ہیں

بہاریں اور وہ رنگیں نظارے یاد آتے ہیں وہ دل کش وادیاں وہ ماہ پارے یاد آتے ہیں محبت کے وہ جاں پرور سہارے یاد آتے ہیں تری آغوش میں جو دن گزارے یاد آتے ہیں وہ موسم وہ سماں وہ دن وہ صبح و شام وہ راتیں وہ ہنستے ناچتے گاتے ستارے یاد آتے ہیں وہ جھیلیں وہ چمن وہ غنچہ و گل اور وہ سبزہ مرے ...

مزید پڑھیے

کیا غضب ہے کہ ملاقات کا امکاں بھی نہیں

کیا غضب ہے کہ ملاقات کا امکاں بھی نہیں اور اب اس کو بھلانا کوئی آساں بھی نہیں کسے دیکھوں کسے آنکھوں سے لگاؤں اے دل روئے تاباں بھی نہیں زلف پریشاں بھی نہیں اور ہیں آج ٹھکانے ترے دیوانوں کے کوہ و صحرا بھی نہیں دشت و بیاباں بھی نہیں جانے کیا بات ہے سب اہل جنوں ہیں خاموش آج وہ ...

مزید پڑھیے

محبت حاصل دنیا و دیں ہے

محبت حاصل دنیا و دیں ہے محبت روح ارباب یقیں ہے نظر میں جھوم اٹھتی ہیں بہاریں کسی کی یاد بھی کتنی حسیں ہے تصدق ہو رہے ہیں ماہ و انجم نگاہوں میں وہی زہرہ جبیں ہے کہاں ممکن ہے اس کو بھول جانا کہ ہر اک نقش اس کا دل نشیں ہے جہاں چاہوں وہیں محفل سجا لوں مری ہر اک نظر حسن آفریں ہے وہی ...

مزید پڑھیے

کہاں کسی کی حمایت میں مارا جاؤں گا

کہاں کسی کی حمایت میں مارا جاؤں گا میں غم شناس مروت میں مارا جاؤں گا میں مارا جاؤں گا پہلے کسی فسانے میں پھر اس کے بعد حقیقت میں مارا جاؤں گا مرا یہ خون مرے دشمنوں کے سر ہوگا میں دوستوں کی حراست میں مارا جاؤں گا میں چپ رہا تو مجھے مار دے گا میرا ضمیر گواہی دی تو عدالت میں مارا ...

مزید پڑھیے

زرقا

تو کیا وہ جھوٹ تھا تو نے جو اس لڑکی سے بولا تھا میں تیری جھیل جیسی نیلی آنکھوں پر غزل کے شعر لکھوں گا میں تیری ریشمی زلفوں میں اپنی نظم کے موتی پروؤں گا میں تیری دودھیا رنگت کلائی میں طلائی چوڑیوں ایسے کھنکتے گیت پہنانے کا خواہاں ہوں مجھے معلوم ہے فرصت نہیں ملتی بہت سے اور ...

مزید پڑھیے

شب غم کی سحر نہیں ہوتی

شب غم کی سحر نہیں ہوتی داستاں مختصر نہیں ہوتی جب کسی کی نظر نہیں ہوتی ہم کو اپنی خبر نہیں ہوتی بعض اوقات اپنے دل پر بھی اہل دل کی نظر نہیں ہوتی ڈگمگاتے نہیں قدم جس جا وہ تری رہ گزر نہیں ہوتی جس مسرت میں غم نہ ہو شامل وہ کبھی معتبر نہیں ہوتی درد جب خود ہی اپنا درماں ہو منت چارہ ...

مزید پڑھیے

مری زندگی بھی تو ہے مرا مدعا بھی تو ہے

مری زندگی بھی تو ہے مرا مدعا بھی تو ہے میں تجھی کو چاہتا ہوں تو ہی میری آرزو ہے کسے ڈھونڈھتی ہیں ہر سو مری بے قرار نظریں تو یہ خوب جانتا ہے مجھے کس کی جستجو ہے مری چشم حسن ہی میں ترے رخ کی تابشیں ہیں مرے حلقۂ نظر میں تری زلف مشک بو ہے جو کرم پہ تم ہو مائل تو یہ شان ہے تمہاری نہ ...

مزید پڑھیے

پھر کوئی خلش نزد رگ جاں تو نہیں ہے

پھر کوئی خلش نزد رگ جاں تو نہیں ہے پھر دل میں وہی نشتر مژگاں تو نہیں ہے کیوں شام سے ڈوبے سے ہو امید کے تارو آبادئ دل‌ شہر خموشاں تو نہیں ہے کیوں ہے دل وحشت زدہ بیزار گلوں سے تاحد نظر راہ بیاباں تو نہیں ہے کیوں اٹھنے لگے آج قدم جانب صحرا پھر جوش جنوں سلسلہ جنباں تو نہیں ہے اے ...

مزید پڑھیے

مستقل دید کی یہ شکل نظر آئی ہے

مستقل دید کی یہ شکل نظر آئی ہے دل میں اب آپ کی تصویر اتر آئی ہے تو نے کس لطف سے چھیڑا ہے انہیں موج نسیم جھوم کر زلف سیہ تا بہ کمر آئی ہے کہہ رہے ہیں تری آنکھوں کے بدلتے تیور یہ ہنسی آج بہ انداز دگر آئی ہے زندگی ناچ کہ وہ جان چمن جان بہار دست رنگیں میں لئے ساغر زر آئی ہے دل ہو ...

مزید پڑھیے

کہیں راز دل اب عیاں ہو نہ جائے

کہیں راز دل اب عیاں ہو نہ جائے نگاہ محبت زباں ہو نہ جائے وہ کچھ مہرباں سے نظر آ رہے ہیں کہیں وقت نا مہرباں ہو نہ جائے چھپاتا تو ہوں دل کی حالت کو لیکن کسی کی نظر راز داں ہو نہ جائے کوئی پرسش حال کو آ رہا ہے غم آرزو پھر جواں ہو نہ جائے زمانے میں اب میرے چرچے ہیں مضطرؔ مری زندگی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1718 سے 6203