قومی زبان

درد حیات عشق ہے نغمۂ جاں گداز میں

درد حیات عشق ہے نغمۂ جاں گداز میں غرق ہے ساری کائنات لذت سوز و ساز میں شوق کا حال کیا ہوا دل کا مآل کیا ہوا ایک جہان راز ہے دیدۂ دل نواز میں کیف خود آگہی بھی ہے عالم بے خودی بھی ہے شوق سپردگی بھی ہے آج نگاہ ناز میں پچھلے پہر جو حسن کے رخ سے ہٹیں خنک لٹیں جاگ اٹھا نیا فسوں چشم‌ ...

مزید پڑھیے

مری نگاہ میں یہ رنگ سوز و ساز نہ ہو

مری نگاہ میں یہ رنگ سوز و ساز نہ ہو ترے کرم کا اگر سلسلہ دراز نہ ہو امید چشم تغافل شعار سے کب تھی اس التفات فراواں میں کوئی راز نہ ہو ہمارے حال پریشاں پہ اک نظر بھی نہیں نیاز مند سے اتنا تو بے نیاز نہ ہو کسی نے توڑ دیئے بربط حیات کے تار اب اور کیا ہو اگر آہ جاں گداز نہ ہو نظر نہ ...

مزید پڑھیے

یہ گھنی چھاؤں یہ ٹھنڈک یہ دل و جاں کا سکوں

یہ گھنی چھاؤں یہ ٹھنڈک یہ دل و جاں کا سکوں میری آنکھوں پہ ترے گیسوئے پر خم تو نہیں لذت درد وہی ہے وہی کیفیت زیست التفات نگہ ناز ابھی کم تو نہیں دل کے ارمان مچلتے ہی چلے جاتے ہیں یہ سیہ رات تری کاکل برہم تو نہیں الجھنیں شوق کی بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں آج زلفوں میں تری کوئی نیا خم تو ...

مزید پڑھیے

دل و نظر میں نہ پیدا ہوئی شکیبائی

دل و نظر میں نہ پیدا ہوئی شکیبائی کسی کے غم نے طبیعت ہزار بہلائی تمام حسن و محبت تمام رعنائی وہ اک نگاہ جو پیغام زندگی لائی چھلک پڑیں نہ کہیں اشک میری آنکھوں سے کسی کے درد محبت کی ہو نہ رسوائی غم زمانہ کے مارے نہ رہ سکے زندہ نگاہ دوست نے کیا کیا نہ کی مسیحائی نہ رک سکیں گے رہ ...

مزید پڑھیے

مسئلہ یہ بھی بہ فیض عشق آساں ہو گیا

مسئلہ یہ بھی بہ فیض عشق آساں ہو گیا زیست کو اندازۂ غم‌ ہائے دوراں ہو گیا دل میں جب احساس کا شعلہ فروزاں ہو گیا نور افشاں ہر چراغ بزم امکاں ہو گیا تیرے لہراتے ہی اے جان طرب روح نشاط زندگی رقصاں ہوئی عالم غزل خواں ہو گیا اس طرح میری بہار زندگی رخصت ہوئی دل اجڑ کر رہ گیا آغوش ...

مزید پڑھیے

رقص شباب و رنگ بہاراں نظر میں ہے

رقص شباب و رنگ بہاراں نظر میں ہے یہ تم نظر میں ہو کہ گلستاں نظر میں ہے اک روشنی سے عالم دل جگمگا اٹھا وہ ہیں کہ آفتاب درخشاں نظر میں ہے اہل جنوں سے کیجیے اب چاک دل کی بات دامن نظر میں ہے نہ گریباں نظر میں ہے ان کے کرم سے بڑھنے لگے دل کے حوصلے انداز التفات فراواں نظر میں ہے سو ...

مزید پڑھیے

گردش جام بھی ہے رقص بھی ہے ساز بھی ہے

گردش جام بھی ہے رقص بھی ہے ساز بھی ہے جس میں نغموں کا تلاطم ہے وہ آواز بھی ہے اتنا سادہ بھی اسے اے دل پر شوق نہ جان التفات ایک نگاہ غلط انداز بھی ہے مدعا ان کا سمجھ میں نہیں آتا اے دل بے سبب ہے یہ تغافل کہ کوئی راز بھی ہے غرق کیفیت آہنگ طرب سن تو سہی زندگی درد میں ڈوبی ہوئی آواز ...

مزید پڑھیے

میرے تصورات میں اب کوئی دوسرا نہیں

میرے تصورات میں اب کوئی دوسرا نہیں آپ کو جانتا ہوں میں غیر سے واسطا نہیں دیکھ تو اے نگاہ دوست کیا تجھے دل دیا نہیں کون ہے مجھ سے آشنا تو اگر آشنا نہیں دل کو سکون کر عطا جان کو بخش دے قرار تیرے کرم کی دیر ہے درد یہ لا دوا نہیں جس سے نہ ہو مرا گزر رہ نہیں تری رہ گزر جس پہ نہ میرا سر ...

مزید پڑھیے

وہ رہ و رسم نہ وہ ربط نہاں باقی ہے

وہ رہ و رسم نہ وہ ربط نہاں باقی ہے پھر بھی اس دل کو محبت کا گماں باقی ہے اب بھی لوگوں کی زباں پر ہیں کئی افسانے اپنا قصہ بہ حدیث دگراں باقی ہے اب نہیں مجھ کو میسر ترا دامن پھر بھی جوشش دیدۂ خوں ناب فشاں باقی ہے گل و نسریں کے تصور سے مری سانسوں میں نکہت زلف مسیحا نفساں باقی ...

مزید پڑھیے

مجبور تو بہت ہیں محبت میں جی سے ہم

مجبور تو بہت ہیں محبت میں جی سے ہم یہ اور بات ہے نہ کہیں کچھ کسی سے ہم اک شام ہم سخن تھے چمن میں کلی سے ہم یادش بخیر پھر نہ ملے زندگی سے ہم اللہ رے وہ وقت وہ مجبورئ حیات رو رو کے ہو رہے تھے جدا جب کسی سے ہم تکلیف التفات نہ کر اے نگاہ ناز اب مطمئن ہیں اپنے غم زندگی سے ہم ہیں یاد اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1717 سے 6203