کبھی دوسروں سے ڈرا دیا کبھی اپنے آپ سے ڈر گیا
کبھی دوسروں سے ڈرا دیا کبھی اپنے آپ سے ڈر گیا مرا سایہ ساتھ رہا مرے میں جہاں گیا میں جدھر گیا مرے دل میں کتنے سراب ہیں مری روح کا جو عذاب ہے انہیں دیکھ کر میں لرز اٹھا انہیں سوچ کر میں بکھر گیا مری زیست کی جو اساس ہے مری سانس محض قیاس ہے مجھے پھر بھی جینے کی آس ہے میں کہ ڈوب ڈوب ...