قومی زبان

کبھی دوسروں سے ڈرا دیا کبھی اپنے آپ سے ڈر گیا

کبھی دوسروں سے ڈرا دیا کبھی اپنے آپ سے ڈر گیا مرا سایہ ساتھ رہا مرے میں جہاں گیا میں جدھر گیا مرے دل میں کتنے سراب ہیں مری روح کا جو عذاب ہے انہیں دیکھ کر میں لرز اٹھا انہیں سوچ کر میں بکھر گیا مری زیست کی جو اساس ہے مری سانس محض قیاس ہے مجھے پھر بھی جینے کی آس ہے میں کہ ڈوب ڈوب ...

مزید پڑھیے

اس بے بصارتی میں بھی یہ گلفشانیاں

اس بے بصارتی میں بھی یہ گلفشانیاں کیا کھل گئیں دماغ کی اندر کو کھڑکیاں ہوتے ہیں مانگنے کے بھی آداب کچھ میاں خالی پڑی ہیں عقل سے کتنی ہی بستیاں قفل غم حیات نہ ٹوٹا نہ در کھلا ہم نے لگائیں لاکھ محبت کی چابیاں احساس رنگ بھرتا ہے جب سانحات میں ہاتھ آئی ہیں تو صرف تعصب کی ...

مزید پڑھیے

ماننے کو تو مانتے ہیں سب

ماننے کو تو مانتے ہیں سب سب مگر مجھ کو جانتے ہیں کب سب کے چہروں کو پڑھتا رہتا ہے آئینہ خود کو دیکھتا ہے کب منصفی خود ہی جب ہو بے کردار کیسی تعظیم کیسا پاس ادب ہونے والا نہیں کسی پہ اثر اپنے زخموں کو کیوں نہ ڈھک لیں اب موت ہی زندگی کا حاصل ہے موت ہوتی ہے زندگی کا سبب اب ہوا ...

مزید پڑھیے

وہ جو بھی بخشیں وہ انعام لے لیا جائے

وہ جو بھی بخشیں وہ انعام لے لیا جائے ملال ہی دل ناکام لے لیا جائے بڑا مزہ ہمیں اس بندگی میں حاصل ہو جو صبح و شام ترا نام لے لیا جائے رہے نہ طائر سدرہ بھی اپنی زد سے دور اسے بھی آؤ تہ دام لے لیا جائے ہماری جان سے غم نے لیے ہزاروں کام ہماری خاک سے بھی کام لے لیا جائے مروتوں سے ...

مزید پڑھیے

یوں حسرتوں کے داغ محبت میں دھو لیے

یوں حسرتوں کے داغ محبت میں دھو لیے خود دل سے دل کی بات کہی اور رو لیے گھر سے چلے تھے ہم تو خوشی کی تلاش میں غم راہ میں کھڑے تھے وہی ساتھ ہو لیے مرجھا چکا ہے پھر بھی یہ دل پھول ہی تو ہے اب آپ کی خوشی اسے کانٹوں میں تولیے ہونٹوں کو سی چکے تو زمانے نے یہ کہا یوں چپ سی کیوں لگی ہے اجی ...

مزید پڑھیے

کس طرح جیتے ہیں یہ لوگ بتا دو یارو

کس طرح جیتے ہیں یہ لوگ بتا دو یارو ہم کو بھی جینے کا انداز سکھا دو یارو پیار لیتے ہیں کہاں سے یہ زمانے والے ان گلی کوچوں کا رستہ تو دکھا دو یارو درد کے نام سے واقف نہ جہاں ہو کوئی ایسی محفل میں ہمیں بھی بٹھا دو یارو ساتھ دینا ہو تو خود پینے کی عادت ڈالو ورنہ مے خانہ کے در ہم سے ...

مزید پڑھیے

کہیں سے موت کو لاؤ کہ غم کی رات کٹے

کہیں سے موت کو لاؤ کہ غم کی رات کٹے مرا ہی سوگ مناؤ کہ غم کی رات کٹے کرے نہ پیچھا مرا زندگی کو سمجھا دو یہ راہ اس کو بھلاؤ کہ غم کی رات کٹے کہو بہاروں سے اب شاخ دل نہ ہوگی ہری خزاں کے گیت سناؤ کہ غم کی رات کٹے نہ چارہ گر کی ضرورت نہ کچھ دوا کی ہے دعا کو ہاتھ اٹھاؤ کہ غم کی رات کٹے

مزید پڑھیے

کسی کی یاد میں دنیا کو ہیں بھلائے ہوئے

کسی کی یاد میں دنیا کو ہیں بھلائے ہوئے زمانہ گزرا ہے اپنا خیال آئے ہوئے بڑی عجیب خوشی ہے غم محبت بھی ہنسی لبوں پہ مگر دل پہ چوٹ کھائے ہوئے ہزار پردے ہوں پہرے ہوں یا ہوں دیواریں رہیں گے میری نظر میں تو وہ سمائے ہوئے کسی کے حسن کی بس اک کرن ہی کافی ہے یہ لوگ کیوں مرے آگے ہیں شمع ...

مزید پڑھیے

ان کو یہ شکایت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

ان کو یہ شکایت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے مجبور بہت کرتا ہے یہ دل تو زباں کو کچھ ایسی ہی حالت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے دنیا کی عنایت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے کچھ کہنے پہ طوفان اٹھا لیتی ہے دنیا اب اس پہ قیامت ہے کہ ...

مزید پڑھیے

اس بھری دنیا میں کوئی بھی ہمارا نہ ہوا

اس بھری دنیا میں کوئی بھی ہمارا نہ ہوا غیر تو غیر ہیں اپنوں کا سہارا نہ ہوا لوگ رو رو کے بھی اس دنیا میں جی لیتے ہیں ایک ہم ہیں کہ ہنسے بھی تو گزارا نہ ہوا اک محبت کے سوا اور نہ کچھ مانگا تھا کیا کریں یہ بھی زمانے کو گوارا نہ ہوا آسماں جتنے ستارے ہیں تری محفل میں اپنی تقدیر کا ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1711 سے 6203