خوابوں کا شہر
خوابوں میں ہمارے نخل اگے انہیں خاک ملی اشجار ہوئے کاغذ پہ تو رنگ تھے پھیکے سے پھولوں میں سجے گلزار ہوئے کبھی میدان اپنی راہ میں تھے کبھی کوہ پہ ہم نے خرام کیا انہیں منظروں میں تھا جو شہر بسا اسی شہر کو ہم نے امام کیا
خوابوں میں ہمارے نخل اگے انہیں خاک ملی اشجار ہوئے کاغذ پہ تو رنگ تھے پھیکے سے پھولوں میں سجے گلزار ہوئے کبھی میدان اپنی راہ میں تھے کبھی کوہ پہ ہم نے خرام کیا انہیں منظروں میں تھا جو شہر بسا اسی شہر کو ہم نے امام کیا
ریشمی ملبوس میں وہ گل رخوں کے قافلے اس رنگ و بو کے شیر میں ہم اجنبی دل سوختہ یادوں کے پیہم سلسلے محراب در سے جھانکتا ساقی کی چشم مست کا رک رک کے چلنا یاد ہے دنیائے بود و ہست کا اس داستاں کے باب میں وہ سیم تن شعلہ بجاں جن کے رخ تابندہ سے یہ گلستاں روشن ہوا جن کے لہو سے حرف بھی معنی کا ...
ایسا کیا دیکھا ہے ہم نے پردے میں خاموشی کے ایسا بھی کیا چھپا ہوا ہے اس گہری تاریکی میں وہ جو نہیں کوئی اور تو ہوگا ان لمحوں کی دوری میں
یہ جو باغ کھلائے ہم نے ان باغوں کی ہریالی میں جو پھول کھلے وہ سب کا ہے یہ جو شہر بسائے ہیں ہم نے ان شہروں کی خوشبو میں بسا جو سانس ملے وہ سب کا ہے ان باغوں کی ہریالی میں ان شہروں کے بازاروں میں اک خوابوں جیسی صبح ملے اک صبح ملے جو سب کی ہو اک خوشیوں جیسی شام ملے اک شام ملے جو سب کی ...
پیڑوں کی گھنی چھاؤں اور چیت کی حدت تھی اور ایسے بھٹکنے میں انجان سی لذت تھی ان کہنہ فصیلوں کو پہروں ہی تکے جانا ان خالی جھروکوں میں جیسے کوئی صورت تھی حیران سی نظروں میں اک شکل گریزاں سی اک سایۂ گزراں سے وہ کیسی محبت تھی ہر جنبش لب اس کی دستک تھی در دل پر ہر وقف خموشی میں تقریر ...
کاتتا ہوں رات بھر اپنے لہو کی دھار کو کھینچتا ہوں اس طرح انکار سے اقرار کو بے قراری کچھ تو ہو وجہ تسلی کے لیے بھینچ کر رکھتا ہوں سینے سے فراق یار کو اپنی گستاخی پہ نادم ہوں مگر کیا خوب ہے دھوپ کی دیوار پر لکھنا شبیہ یار کو ایسے کٹتا ہے جگر ایسے لہو ہوتا ہے دل کیسے کیسے آزماتا ...
آسماں کی وسعتوں میں گھومتے تمام دن گزر گیا ستارہ ٹمٹما رہا تھا شب ڈھونڈتے رہے سبھی مرے لہو میں بہہ گیا کدھر گیا سنہری دھوپ چھاؤں میں نیلگوں فضاؤں میں اسے مری تلاش تھی میں اس کو ڈھونڈھتا رہا شام جب تھکے تھکے بکھرتے بال و پر لیے میں خاک کا امیں ہوا ستارہ میرے بخت کا زمیں کی کوکھ ...
ہم بہتے دریاؤں کی مانند نرم زمینوں کی تلاش میں ہیں جن کے ملائم بدن میں خوشبو ہو پر ان کی کوکھ میں بیج نہ ہو اس آس پر کہ بہتے دریا کا جب خاک سے وصل ہو بہتے بادلوں پر شام کا سفر جاری ہو مٹی اپنے مساموں میں آب سمو کر شانت ہو جائے پھر آسمان پر ستارے اور زمین پر نئے پھول پھولوں کے گرد ...
موت حیات کے شجر کا پھل ہے اسے بھی چکھ کر دیکھو بہت کنارے دیکھ چکے اب ندی سے مل کر دیکھو خاک پہ اپنی تدبیروں سے نقش بنائے کیا کیا بہت چلے ان رستوں پر اب ہوا میں چل کر دیکھو اور بھی دشت ہیں اور بھی در ہیں اس بستی سے میلوں باہر ان جیسے ہی اور بھی گھر ہیں جن کے آنگن جلتے بجھتے ایسے ہی ...
ترے بالوں میں کوئی پھول نہیں مرے ہاتھوں میں کوئی شمع نہیں ترے ہونٹوں پہ کوئی حرف نہیں مری آنکھوں میں کوئی خواب نہیں میں بھی ہوں سفر میں تم بھی ہو یہ کیسا ساتھ