قومی زبان

دور تک یاد وطن آئی تھی سمجھانے کو

ہم بھی آرام اٹھا سکتے تھے گھر پر رہ کر ہم کو بھی پالا تھا ماں باپ نے دکھ سہہ سہہ کر وقت رخصت انہیں اتنا بھی نہ آئے کہہ کر گود میں آنسو کبھی ٹپکے جو رخ سے بہہ کر طفل ان کو ہی سمجھ لینا جی بہلانے کو دیش سیوا ہی کا بہتا ہے لہو نس نس میں اب تو کھا بیٹھے ہیں چتوڑ کے گڑھ کی قسمیں سرفروشی ...

مزید پڑھیے

روپوش آنکھ سے کوئی خوشبو لباس ہے

روپوش آنکھ سے کوئی خوشبو لباس ہے گو دور دور سا ہے مگر آس پاس ہے یہ سن کے ریگزار کے ہونٹوں پہ پیاس ہے دریا کی بے رخی پہ سمندر اداس ہے شام اودھ نے زلف میں گوندھے نہیں ہیں پھول تیرے بغیر صبح بنارس اداس ہے کھاتی وگرنہ ٹھوکریں چاہت کہاں کہاں داتا مرا بڑا ہی تمنا شناس ہے رہبر بنا ...

مزید پڑھیے

راز ہستی سے آشنا نہ ہوا

راز ہستی سے آشنا نہ ہوا نہ ہوا آدمی خدا نہ ہوا حرف رکھتا ہے جو نگاہوں پر روبرو اس کے آئنا نہ ہوا تو تو شہ رگ کے پاس تھا لیکن طے ہمیں سے یہ فاصلہ نہ ہوا رکھ دیا مجھ پہ فرض خدمت خلق جب کوئی مجھ سا دوسرا نہ ہوا اس کی دریا دلی خدا رکھے عرض ہم سے ہی مدعا نہ ہوا

مزید پڑھیے

خوددارئ حیات کو رسوا نہیں کیا

خوددارئ حیات کو رسوا نہیں کیا ہم نے کبھی ضمیر کا سودا نہیں کیا جاں سے عزیز تھا ہمیں دستار کا وقار ظالم کو سر تو دے دیا سجدہ نہیں کیا پھر لب پہ تیرے کلمۂ افسوس کس لیے میں نے تو تیرے جبر کا شکوہ نہیں کیا منڈلا رہا ہے آج جو ساحل کے ارد گرد طوفان کو تو تم نے اشارہ نہیں کیا اس کے رخ ...

مزید پڑھیے

وقت رخصت وہ آنسو بہانے لگے

وقت رخصت وہ آنسو بہانے لگے دل دکھانے کے منظر سہانے لگے پرسش درد کو جب وہ آنے لگے زخم دل مثل گل مسکرانے لگے رات پل بھر کو پلکیں جھپکنے نہ دیں صبح ہوتے ہی آنکھیں چرانے لگے آنکھ بھر آئی برکھا کے پانی کی جب ناؤ کاغذ کی بچے بہانے لگے میرے آنسو تھے ان کی ہنسی کا سبب روئی شبنم تو گل ...

مزید پڑھیے

دیوانہ کر کے مجھ کو تماشا کیا بہت

دیوانہ کر کے مجھ کو تماشا کیا بہت تیری تلاش نے مجھے رسوا کیا بہت کیا کہئے اس کے روبرو آنسو نکل پڑے ہم نے تو ضبط غم کا ارادہ کیا بہت لیکن ہمارا دیدۂ بینا بھی کم نہ تھا حالانکہ اس نے بزم میں پردہ کیا بہت بوسہ جبیں کو پائے صنم کا نہ مل سکا لغزش نے بے خودی کا بہانہ کیا بہت سورج نے ...

مزید پڑھیے

سینے میں جب درد کوئی بو جاتا ہے

سینے میں جب درد کوئی بو جاتا ہے رو لیتے ہیں جی ہلکا ہو جاتا ہے تدبیروں کے مان دھرے رہ جاتے ہیں ہونا ہوتا ہے جو وہ ہو جاتا ہے زخموں میں جب درد کی کسکن بڑھتی ہے نالہ لب پر آ کے دعا ہو جاتا ہے ہجر کی شب غم کے آنسو ڈھوتے ڈھوتے کاجل تھک کر گالوں پر سو جاتا ہے سانسوں میں جب راہ کی چاپ ...

مزید پڑھیے

لمحہ لمحہ بکھر رہا ہوں میں

لمحہ لمحہ بکھر رہا ہوں میں اپنی تکمیل کر رہا ہوں میں خوب سے خوب تر ہے روئے حیات نئے سنگھار کر رہا ہوں میں کھلتے جاتے ہیں ذہن کے اوراق تجربوں سے گزر رہا ہوں میں تیرا ہونا نہ مان کر گویا تجھ کو تسلیم کر رہا ہوں میں خود سے نا آشنا سہی لیکن تجھ سے کب بے خبر رہا ہوں میں محو ایسا ہوں ...

مزید پڑھیے

قصیدہ فتح کا دشمن کی تلواروں پہ لکھا ہے

قصیدہ فتح کا دشمن کی تلواروں پہ لکھا ہے جو ہم نے نعرۂ تکبیر یلغاروں پہ لکھا ہے شناسائی بھی تیرے شہر میں جب اجنبی ٹھہری تو اپنا نام ہم نے گھر کی دیواروں پہ لکھا ہے شب غم آسماں کو تاکتا رہتا ہوں پہروں یوں کہ جیسے گردش قسمت کا حل تاروں پہ لکھا ہے عمل سے دوستو دنیا ہے جنت بھی جہنم ...

مزید پڑھیے

تجھے اچھا برا جیسا لگا ہوں

تجھے اچھا برا جیسا لگا ہوں وہ تیرا عکس ہے میں آئنہ ہوں اگر میں ایک ننھا سا دیا ہوں ہوا کی زد پہ کیوں رکھا گیا ہوں میں اک اک سانس کٹ کٹ کر جیا ہوں میں جینے کا سلیقہ جانتا ہوں میں اپنے آپ ہوں خود اپنا قاتل میں اپنے آپ اپنا مرثیہ ہوں سبھی دیوانے کہتے ہیں اسیرؔ اب کہ ان میں میں ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1699 سے 6203