قومی زبان

چراغ بجھنے لگے اور چھائی تاریکی

چراغ بجھنے لگے اور چھائی تاریکی چکا رہا تھا میں قیمت ہوا سے یاری کی تو سوچ بھی نہیں سکتا جس اہتمام کے ساتھ کٹے شجر پہ پرندوں نے آہ و زاری کی وہ جس کا عشق مرا جزو روح بن گیا تھا اسی نے مجھ سے محبت بھی اختیاری کی تمہارا وجد میں آنا فقط دکھاوا تھا وہ کیفیت ہی نہیں تھی جو خود پہ طاری ...

مزید پڑھیے

میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے

میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے پرائے شہر میں اپنے تلاش کرتے ہوئے پھر ایک صبح مجھے آنکھ پھوڑنا پڑی تھی حسین خواب کے ریشے تلاش کرتے ہوئے میں سوکھے پیڑ سے اکثر کلام کرتا تھا ہواۓ سبز کے لہجے تلاش کرتے ہوئے ہم ان پرندوں کے جیسے ہیں جو زمیں پہ تری شکار ہو گئے دانے تلاش کرتے ...

مزید پڑھیے

میرے مستقبل میں بھی کچھ لکھا کیا

میرے مستقبل میں بھی کچھ لکھا کیا تم نے میرے بارے میں کچھ سوچا کیا میں تو تم کو اپنا مان کے چلتا ہوں دل میں تم بھی رکھتے ہو کچھ ایسا کیا یہ تیرا ہے یہ میرا ہے چھوڑو بھی ان بیکار کی باتوں میں ہے رکھا کیا تم نے ہی تو بولا تھا خاموش رہو ایسے میں کچھ کہتا میں تو کہتا کیا جیتے جی سب ...

مزید پڑھیے

ترا پیار یا پھر قضا چاہتا ہوں

ترا پیار یا پھر قضا چاہتا ہوں میں اپنے مرض کی دوا چاہتا ہوں سنا ہے کہ اس کی ادا ہے نرالی میں اس کی ادا دیکھنا چاہتا ہوں ستم بھی ہے اچھا ترا اے ستم گر ترا یہ کرم بارہا چاہتا ہوں بنا لے تو مجھ کو اسیر محبت محبت کی میں یہ سزا چاہتا ہوں مجھے بھی خبر ہے تو کیا چاہتی ہے تجھے بھی خبر ہے ...

مزید پڑھیے

تم گھٹا سمجھے تھے جس کو وہ کوئی بادل نہ تھا

تم گھٹا سمجھے تھے جس کو وہ کوئی بادل نہ تھا تھا کلیجے کا لہو وہ آنکھ کا کاجل نہ تھا فاصلے کیوں ہو گئے اتنی ملاقاتوں کے بعد دو قدم ہی ساتھ چلنا اتنا تو مشکل نہ تھا رات دن کی داستاں مجھ سے اے تنہائی نہ پوچھ دل کبھی بھی اس کی یادوں سے مگر غافل نہ تھا جان جاں اب آپ چاہے جو کہیں مجھ کو ...

مزید پڑھیے

عجب سی اک مصیبت ہو گئی ہے

عجب سی اک مصیبت ہو گئی ہے مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے قدم رکھا ہے جب سے عشق نگری ہمیں رونے کی عادت ہو گئی ہے نہیں سنتا ہے یہ دل اب ہماری اسے اب تیری عادت ہو گئی ہے رہائی کب ملے کس کو پتا ہے سو اب زنداں سے رغبت ہو گئی ہے نہیں ہے آپ تک اپنی رسائی پہنچ سے دور قیمت ہو گئی ہے یہاں اب جان ...

مزید پڑھیے

ہونٹوں پہ اگرچہ مرے مسکان سجی ہے

ہونٹوں پہ اگرچہ مرے مسکان سجی ہے اب بھی مری پلکوں پہ تو ہلکی سی نمی ہے آ کر کوئی بیٹھا ہے خیالوں میں جو اس دم آنکھوں کی یہ برسات ذرا دیر رکی ہے میں خود ہوں کہیں اور دل غم دیدہ کہیں اور جذبات میں احساس میں اک برف جمی ہے خوابوں کے دریچے سے جو جھانکا ہے کسی نے دل نے کہیں سینے میں ...

مزید پڑھیے

سڑک کا درد درختوں سے ہمکنار نہ ہو

سڑک کا درد درختوں سے ہمکنار نہ ہو مسافروں کو بھی اتنا سفر سے پیار نہ ہو زمانہ بول رہا ہو تو مختصر بولے اگر وہ بول رہا ہو تو اختصار نہ ہو زمین اپنے کٹاؤ پہ رو کے کہتی ہے درخت کاٹنے والوں پہ اعتبار نہ ہو کسی نے ٹھیکا نہیں لے رکھا زمانے کا تمہارا غم ہو تو پھر کون سوگوار نہ ہو میں ...

مزید پڑھیے

مجھ محبت کے سزاوار پہ تہمت نہ لگا

مجھ محبت کے سزاوار پہ تہمت نہ لگا مجھ کو جھٹلا دے مگر پیار پہ تہمت نہ لگا سست رو شخص مرا نقش قدم دھیان میں رکھ مجھ سے آ مل مری رفتار پہ تہمت نہ لگا لوگ بکتے ہیں تو بکتے رہیں بے شک لیکن کم سے کم تو مرے کردار پہ تہمت نہ لگا میں نے چھینی نہیں عزت سے کمائی ہے یہ میری عزت مری دستار پہ ...

مزید پڑھیے

مطمئن ہوں میں اس خسارے پر

مطمئن ہوں میں اس خسارے پر سب لٹایا ہے اپنے پیارے پر کس نے رکنا ہے کس نے جانا ہے منحصر ہے ترے اشارے پر اس کنارے پہ میں اکیلا ہوں کون ہے دوسرے کنارے پر تو پلٹ کر کبھی تو آئے گا جی رہے ہیں اسی سہارے پر کس لیے بد گمان ہوتے ہو نام لکھا ہے جب ستارے پر وہ قفس تو کبھی کھلا ہی نہیں ہم نے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1680 سے 6203