صدیوں سے میں اس آنکھ کی پتلی میں چھپا تھا
صدیوں سے میں اس آنکھ کی پتلی میں چھپا تھا پلکوں پہ اگر مجھ کو سجا لیتے تو کیا تھا تو پھیل گیا تا بہ ابد مجھ سے بچھڑ کر میں جسم کے زنداں میں تجھے ڈھونڈ رہا تھا ہاں مجھ کو ترے سرخ کجاوے کی قسم ہے اس راہ میں پہلے کوئی گھنگرو نہ بجا تھا گزرے تھے مرے سامنے تم دوش ہوا پر میں دور کہیں ...