قومی زبان

صدیوں سے میں اس آنکھ کی پتلی میں چھپا تھا

صدیوں سے میں اس آنکھ کی پتلی میں چھپا تھا پلکوں پہ اگر مجھ کو سجا لیتے تو کیا تھا تو پھیل گیا تا بہ ابد مجھ سے بچھڑ کر میں جسم کے زنداں میں تجھے ڈھونڈ رہا تھا ہاں مجھ کو ترے سرخ کجاوے کی قسم ہے اس راہ میں پہلے کوئی گھنگرو نہ بجا تھا گزرے تھے مرے سامنے تم دوش ہوا پر میں دور کہیں ...

مزید پڑھیے

مجرم ہے تمہارا تو سزا کیوں نہیں دیتے

مجرم ہے تمہارا تو سزا کیوں نہیں دیتے اس شخص کو جینے کی دعا کیوں نہیں دیتے اس پیڑ کے سائے میں بھی کیوں اتنی گھٹن ہے ہیں سبز یہ پتے تو ہوا کیوں دیتے جس خون میں آ جائے سفیدی کی ملاوٹ اس خون کو آنکھوں سے بہا کیوں نہیں دیتے آئینے ستاتے ہیں تو چہرے کو نہ دیکھو آنکھوں میں چمک ہے تو ...

مزید پڑھیے

صحرا صحرا بات چلی ہے نگری نگری چرچا ہے

صحرا صحرا بات چلی ہے نگری نگری چرچا ہے رات کے غم میں سورج سائیں بادل اوڑھے پھرتا ہے جھونکا جھونکا تیری خوشبو مجھ سے لپٹ کر گزری ہے ریزہ ریزہ تیری خاطر میں نے جسم گنوایا ہے دن بھر بادل چھم چھم برسا شام کو مطلع صاف ہوا تب جا کر اک قوس قزح پر تیرا پیکر ابھرا ہے تو نے جس کی جھولی ...

مزید پڑھیے

ہے شوق تو بے ساختہ آنکھوں میں سمو لو

ہے شوق تو بے ساختہ آنکھوں میں سمو لو یوں مجھ کو نگاہوں کے ترازو میں نہ تولو میں بھی ہوں کسی آنکھ سے ٹپکا ہوا موتی مجھ کو بھی کسی ریشمی ڈوری میں پرو لو لایا ہوں میں خود دل کو ہتھیلی پہ سجا کر اس جنس کے بازار میں کیا دام ہیں بولو میں کانچ کے ٹکڑوں کی طرح بکھرا پڑا ہوں بھولے سے کبھی ...

مزید پڑھیے

چاہت کا سنسار ہے جھوٹا پیار کے سات سمندر جھوٹ

چاہت کا سنسار ہے جھوٹا پیار کے سات سمندر جھوٹ ساری دنیا بول رہی ہے کتنے سندر سندر جھوٹ اشکوں کو موتی کہتا ہوں رخساروں کو پھول میں لفظوں کا سوداگر ہوں میرے باہر اندر جھوٹ کھوٹے سکے لے کر گھومیں ہم دونوں بازاروں میں تیری آنکھ کے موتی جھوٹے میرے من کا مندر جھوٹ میں نے کہا جلووں ...

مزید پڑھیے

آیا افق کی سیج تک آ کر پلٹ گیا

آیا افق کی سیج تک آ کر پلٹ گیا لیکن عروس شب کا وہ گھونگھٹ الٹ گیا دل میں بسی ہیں کتنی ترے بعد بستیاں دریا تھا خشک ہو کے جزیروں میں بٹ گیا اک شخص لوٹتے ہوئے کل تیرے شہر سے رو رو کے اپنے نقش قدم سے لپٹ گیا میں چل رہا ہوں خول بدن کا اتار کر اب میرے راستے کا یہ پتھر بھی ہٹ گیا پھیلی ...

مزید پڑھیے

نام ہمارا دنیا والے لکھیں گے جی داروں میں

نام ہمارا دنیا والے لکھیں گے جی داروں میں ناچ رہے ہیں اپنی اپنی لاش پہ ہم بازاروں میں ایک پرانی رسم ہے باقی آج تلک درباروں میں چاند سے چہرے چن دیتے ہیں پتھر کی دیواروں میں آج کہاں ہیں شہر میں یارو اونچی گردن والے لوگ عام ہیں اب تو پاؤں بڑے اور سر چھوٹے سرداروں میں پار اترنے ...

مزید پڑھیے

اٹھ گئی آج چاند کی ڈولی

اٹھ گئی آج چاند کی ڈولی کتنی ویراں ہے رات کی جھولی اپنا سایہ سمیٹ کر رکھنا مجھ سے اک بھاگتی کرن بولی اب تو جاگ اے شبوں کی شہزادی تجھ کو سونا تھا عمر بھر سو لی سانس روکو چراغ گل کر دو آج بدلے گی چاندنی چولی میں ہوں ساتھی سلگتے صحرا کا تو ٹھٹھرتی کرن کی ہمجولی ایک دریا سنبھل ...

مزید پڑھیے

دم بھر کی خوشی باعث آزار بھی ہوگی

دم بھر کی خوشی باعث آزار بھی ہوگی اس راہ میں سایہ ہے تو دیوار بھی ہوگی صدیوں سے جہاں جس کے تعاقب میں رواں ہے وہ ساعت صد رنگ گرفتار بھی ہوگی رنگوں کی ردا اوڑھ کے اس ریگ رواں پر اتری ہے جو شب وہ شب دیدار بھی ہوگی کہتا ہے مرے کان میں خوشبو کا پیامی منہ بند کلی مائل گفتار بھی ...

مزید پڑھیے

حکم مرشد پہ ہی جی اٹھنا ہے مر جانا ہے

حکم مرشد پہ ہی جی اٹھنا ہے مر جانا ہے عشق جس سمت بھی لے جائے ادھر جانا ہے میری بینائی ترے قرب کی مرہون ہے دوست ہاتھ چھوڑوا کے بھلا تجھ سے کدھر جانا ہے اس کی چھاؤں میں بھی تھک کر نہیں بیٹھا جاتا تو نے جس پیڑ کو پھل دار شجر جانا ہے ہوئے خدشات کہ پہچان نہیں پایا تجھے میں سمجھتا تھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1679 سے 6203