قومی زبان

مرنے کا خوف بڑھنے لگا اختیار سے

مرنے کا خوف بڑھنے لگا اختیار سے اب زندگی اتار مجھے اپنی کار سے اتنا کہا کہ تجھ سے محبت ہے لڑ پڑا اتنا تو اب مذاق بھی ہوتا ہے یار سے میں زندگی کی بس میں لطیفے ہوں بیچتا جلنے لگے ہیں لوگ مرے کاروبار سے کیونکہ سڑک سے آپ کی گاڑی گزرنی ہے سارے درخت نکلے ہوئے ہیں قطار سے میں مطمئن ...

مزید پڑھیے

اسی جگہ پہ اندھیروں کے غول پلتے ہیں

اسی جگہ پہ اندھیروں کے غول پلتے ہیں سو بام و در پہ چراغوں کا نور ملتے ہیں وہ خوش خصال اگر دسترس میں آ جائے ہمارے ہاتھ ہمارے لبوں سے جلتے ہیں تمہارے ہجر کو فاقہ کشی نہیں سونپی تمہارے درد مرے آنسوؤں پہ پلتے ہیں تمہارے قرب کی حدت کا ہی تماشا ہے ذرا ذرا سا جو ہم رات بھر پگھلتے ...

مزید پڑھیے

بقا کے واسطے یہ اہتمام کرتا ہے

بقا کے واسطے یہ اہتمام کرتا ہے ہمیں جو جھک کے زمانہ سلام کرتا ہے ہمیں جھکانے کی کوشش میں لوگ جھکنے لگے ہمارا بغض بھی کیا خوب کام کرتا ہے ہے ساتھ چلنا جسے ہاتھ تھام لے میرا فقیر یاروں میں حجت تمام کرتا ہے ہمارے نام سے نفرت منافقین کو ہے ہمارا نام بغاوت کو عام کرتا ہے زمیں پہ ...

مزید پڑھیے

عجب نہیں ہے معالج شفا سے مر جائیں

عجب نہیں ہے معالج شفا سے مر جائیں مریض زہر سمجھ کر دوا سے مر جائیں یہ سوچ کر ہی ہمیں خود کشی ثواب لگی جو کی ہے ماں نے تو پھر بد دعا سے مر جائیں یہ احتجاج سمندر کے دم کو کافی ہے کسی کنارے پہ دو چار پیاسے مر جائیں فسادیوں کو میں اس شرط پر رہا کروں گا کہ فاختہ کے پروں کی ہوا سے مر ...

مزید پڑھیے

سفر کے نقشے میں چٹئیل زمیں بنائی گئی

سفر کے نقشے میں چٹئیل زمیں بنائی گئی کہ اس میں ایک بھی جھاڑی نہیں بنائی گئی یہ سرحدیں تو بہت بعد میں بنیں پہلے دلوں کی طرح کشادہ زمیں بنائی گئی گھٹے گھٹے سے کئی دوست بھی تو رہنے ہیں یہ سوچ کر ہی کھلی آستیں بنائی گئی غزل غزل میں بڑا فرق ہے مرے بھائی کہیں اتاری گئی ہے کہیں بنائی ...

مزید پڑھیے

اسی کی تصویر ہے جو دل پر بنی ہوئی ہے

اسی کی تصویر ہے جو دل پر بنی ہوئی ہے وہ شاہزادی مرا مقدر بنی ہوئی ہے میں تیرے اشکوں کو اپنے سانسوں میں جذب کر لوں تو رو رہی ہے تو میری جاں پر بنی ہوئی ہے کبھی تو آئے تو اپنے دل میں دکھاؤں تجھ کو کہ تیری تصویر کتنی سندر بنی ہوئی ہے تری قیامت ضرور خاصے کی چیز ہوگی مگر وہ لڑکی جو اس ...

مزید پڑھیے

آپ سے رابطہ نہیں مرے دوست

آپ سے رابطہ نہیں مرے دوست سانس کا سلسلہ نہیں مرے دوست اپنی مرضی کی کھینچ لو تصویر زندگی کیمرہ نہیں مرے دوست دوست تو اور بھی ہزاروں ہیں کوئی بھی آپ سا نہیں مرے دوست تو نے دشمن سمجھ لیا مجھ کو میں نے کچھ بھی کہا نہیں مرے دوست بارہا تیرا مجھ سے مل جانا یہ کوئی حادثہ نہیں مرے ...

مزید پڑھیے

ہاتھوں سے گر گئی مرے مٹی کی خیر ہو

ہاتھوں سے گر گئی مرے مٹی کی خیر ہو گھر میں ہی بیٹھی رہ گئی بیٹی کی خیر ہو ہاتھوں کے اوک میں مرے جلتا رہا چراغ آدھی ہتھیلی جل گئی آدھی کی خیر ہو بستی میں بانسری کی صدا جب سنائی دے بنجارے تو جیے تری ونجلی کی خیر ہو میں نے تو ایک شعر کہا حسن یار پر محفل میں جھومتی ہوئی لڑکی کی خیر ...

مزید پڑھیے

جیت کر بے قراری جائے گی

جیت کر بے قراری جائے گی اور پھر جیت ہاری جائے گی جنگ اگر چھڑ گئی خداؤں میں صرف مخلوق ماری جائے گی پہلے اندر کو پرکھا جائے گا پھر محبت اتاری جائے گی کب میں پتھر بنایا جاؤں گا اور کب غم گساری جائے گی اس گھڑی مصطفیٰ ہی آئیں گے جب محبت پکاری جائے گی

مزید پڑھیے

جن سے شکوہ تھا وہ بہرے گونگے ہیں

جن سے شکوہ تھا وہ بہرے گونگے ہیں ہم کو خواب دکھانے والے اندھے ہیں وہ خاموش ہوا تو ہم پر بھید کھلا خاموشی کے کتنے سارے لہجے ہیں ایک طرح سے شکوہ ہے یہ پانی سے صحرا میں اک شخص نے کنکر پھینکے ہیں خالی پن کے کرب سے شاید واقف تھا جس نے مجھ کو خالی میسج بھیجے ہیں اپنے بارے میں بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1681 سے 6203