قومی زبان

دریاؤں کا صحراؤں میں بہنا مرا قصہ

دریاؤں کا صحراؤں میں بہنا مرا قصہ قصے میں کوئی بات نہ کہنا مرا قصہ تھا حرف ملامت وہ مرا کاغذی ملبوس لوگوں نے مگر شوق سے پہنا مرا قصہ چلنے دو مجھی پر مری آواز کے نشتر تم اپنی سماعت پہ نہ سہنا مرا قصہ پوشاک بدلتا رہا بدلی جو کبھی رت میں پھر بھی برہنہ ہوں برہنہ مرا قصہ میں زندہ ...

مزید پڑھیے

یوں بھی اک بزم صدا ہم نے سجائی پہروں

یوں بھی اک بزم صدا ہم نے سجائی پہروں کان بجتے رہے آواز نہ آئی پہروں اک ترا نام تھا ابھرا جو فصیل لب پر ورنہ سکتے میں رہی ساری خدائی پہروں لمحہ بھر کے لیے برسی تری یادوں کی گھٹا ہم نے بھیگی ہوئی چلمن نہ اٹھائی پہروں وہ تو پھر غیر تھا غیروں سے شکایت کیا ہو نبض اپنی بھی مرے ہاتھ نہ ...

مزید پڑھیے

یہ زاویہ سورج کا بدل جائے گا سائیں

یہ زاویہ سورج کا بدل جائے گا سائیں سایہ ہے مگر سایہ تو ڈھل جائے گا سائیں خود آپ کے ہاتھوں کا تراشا ہوا لمحہ خود آپ کے ہاتھوں سے پھسل جائے گا سائیں یہ برف بدن آپ کا اور موم کا مسکن اس دھوپ نگر میں تو پگھل جائے گا سائیں ساحل نہ رہے گا تہی داماں کہ سمندر اک دن کوئی موتی بھی اگل جائے ...

مزید پڑھیے

صدیوں سے میں اس آنکھ کی پتلی میں چھپا تھا

صدیوں سے میں اس آنکھ کی پتلی میں چھپا تھا پلکوں پہ اگر مجھ کو سجا لیتے تو کیا تھا تو پھیل گیا تا بہ افق مجھ سے بچھڑ کر میں جسم کے زنداں میں تجھے ڈھونڈ رہا تھا ہاں مجھ کو ترے سرخ کجاوے کی قسم ہے اس راہ میں پہلے کوئی گھنگھرو نہ بجا تھا گزرے تھے مرے سامنے تم دوش ہوا پر میں دور کہیں ...

مزید پڑھیے

میں نے کاغذ پہ سجائے ہیں جو تابوت نہ کھول (ردیف .. ا)

میں نے کاغذ پہ سجائے ہیں جو تابوت نہ کھول جی اٹھے لفظ تو میں خوف سے مر جاؤں گا کون خوشبو سے ہواؤں کا بدن چھینتا ہے تو مرے ساتھ رہے گا میں جدھر جاؤں گا ریگ ساحل سے رہی اپنی شناسائی تو پھر ایک دن گہرے سمندر میں اتر جاؤں گا چاند تاروں کی طرح میں بھی ہوں گردش میں رشیدؔ ہاں اگر تو نے ...

مزید پڑھیے

گاتا رہا ہے دور کوئی ہیر رات بھر

گاتا رہا ہے دور کوئی ہیر رات بھر میں دیکھتا رہا تری تصویر رات بھر تاروں کے ٹوٹنے کی صدا گونجتی رہی ہوتی رہی ہے رات کی تشہیر رات بھر سورج نے صبح دم مرے پاؤں میں ڈال دی میں توڑتا رہا ہوں جو زنجیر رات بھر میں خامشی میں ڈوب کے کچھ سوچتا رہا کچھ بولتی رہی تری تصویر رات بھر میں چل ...

مزید پڑھیے

تجھ سے بھی حسیں ہے ترے افکار کا رشتہ

تجھ سے بھی حسیں ہے ترے افکار کا رشتہ تو مانگ لے مجھ سے مرے اشعار کا رشتہ وہ دھوپ میں نکھرا ہوا بلور سا پیکر چاندی سا چمکتا ہوا دیدار کا رشتہ تنہائی میں پہنچے تو سبھی تھے تہی داماں بازار میں چھوڑ آئے تھے بازار کا رشتہ اک اور گرہ سانس کی ڈوری میں پڑے گی یاد آیا مجھے بھولا ہوا ...

مزید پڑھیے

پانی کی طرح ریت کے سینے میں اتر جا

پانی کی طرح ریت کے سینے میں اتر جا یا پھر سے دھواں بن کے خلاؤں میں بکھر جا لہرا کسی چھتنار پہ او میت ہوا کے سوکھے ہوئے پتوں سے دبے پاؤں گزر جا چڑھتی ہوئی اس دھوپ میں سایہ تو ڈھلے گا احسان کوئی ریت کی دیوار پہ دھر جا بجھتی ہوئی اک شب کا تماشائی ہوں میں بھی اے صبح کے تارے مری پلکوں ...

مزید پڑھیے

میرے لیے تو حرف دعا ہو گیا وہ شخص

میرے لیے تو حرف دعا ہو گیا وہ شخص سارے دکھوں کی جیسے دوا ہو گیا وہ شخص میں آسماں پہ تھا تو زمیں کی کشش تھا وہ اترا زمین پر تو ہوا ہو گیا وہ شخص سوچوں بھی اب اسے تو تخیل کے پر جلیں مجھ سے جدا ہوا تو خدا ہو گیا وہ شخص سب اشک پی گیا مرے اندر کا آدمی میں خشک ہو گیا ہوں ہرا ہو گیا وہ ...

مزید پڑھیے

کچھ سائے سے ہر لحظہ کسی سمت رواں ہیں

کچھ سائے سے ہر لحظہ کسی سمت رواں ہیں اس شہر میں ورنہ نہ مکیں ہیں نہ مکاں ہیں ہم خود سے جدا ہوکے تجھے ڈھونڈنے نکلے بکھرے ہیں اب ایسے کہ یہاں ہیں نہ وہاں ہیں جاتی ہیں ترے گھر کو سبھی شہر کی راہیں لگتا ہے کہ سب لوگ تری سمت رواں ہیں اے موجۂ آوارہ کبھی ہم سے بھی ٹکرا اک عمر سے ہم بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1678 سے 6203